آتما رام رواجی دیش پانڈے انل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

انل، آتما رام رواجی دیش پانڈے 1982۔1901 مراٹھی کے مشہور شاعر تھے۔ ریاستی اور مرکزی سرکاروں میں اونچے عہدے پر رہے۔ انکی شاعری چالیس برسوں کو محیط ہے۔ انہوں نے مراٹھی شاعری کے کئی دور مثلاً ترقی پسند، رومانی اور عنفوان شباب کے جذبات کی عکاس شاعری اور جدید شاعری کا دور دیکھے۔ وہ سب میں شریک رہے، لیکن اپنی انفرادیت اور اپنا انفرادی رنگ قائم رکھا۔ گویا سب میں شامل بھی رہے اور سب سے الگ بھی۔ انکی نظموں کا مجموعہ"پھول واٹ" 1932 میں شائع ہوا۔ ان نظموں میں تازگی بھی ہے اور حسن و عشق کی جذباتی شاعری کے ساتھ ایک اعلی مقصد بھی ہے۔ انکے ہاں عشق کا جذبہ اقدار کی امیزش سے انسان دوستی اور سماجی شعور کی شاعری کے روپ میں نکھرا ہے جو "بھگن مورتی"کی نظموں کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ مجموعہ 1940 میں شائع ہوا۔

انل نے سانیٹ کے فارم کو ایک نئی شکل دی، وہ مراٹھی میں آزاد شاعری کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ 1976 میں شائع ہونے والے نظموں کے مجموعے "دشیدی" پر انہیں ساہتیہ اکادمی انعام ملا۔ ان نظموں میں حقیقت پسندی بھی ہے اور تصوف پر چوٹ بھی۔ پچھلی پیڑھیوں کے شاعروں، خاص طور پر کیشو سُت اور سنت تکارام کا بھی ان پر اثر ہے۔

انل کو کئی ادبی اعزاز ملے۔ دوبارہ وہ دربھ ساہتیہ سنگھ کے صدر رہے، مراٹھی ساہتیہ مہا منڈل کے صدر بھی رہے اور مراٹھی ساہتیہ سمیتلن کے بھی صدر چُنے گئے، یونیسکو کی ماہرین خواندگی کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ سوویت یونین میں جو ادبی ماہرین کا وفد گیا تھا، اسکے سربراہ بھی تھے۔ مختلف ملکوں میں سماجی تعلیم کی صورتحال کاجائزہ لینے کے لیئے انہیں یو۔ این ۔ او نے فیلو شپ بھی دی۔ ساہتیہ اکادمی کے رکن رہے اور بعد میں فیلو بھی منتخب ہوئے۔ نیشنل بک ٹرسٹ(N.B.T)کے ممبر بھی رہے۔ 1977 میں انہیں نہرو ادبی انعام ملا۔