آریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سنسکرت زبان میں آریہ کے معنی بزرگ اور معزز کے ہیں۔ یہ اُس قوم کا نام ہے جو تقریباً اڑھائی ہزار سال قبل مسیح وسطِ ایشیا سے چراگاہوں کی تلاش میں نکلی اور ایران کو پامال کرتی ہوئی پاکستان میں وارد ہوئی اور یہاں کے قدیم مہذب قوموں دراوڑ کو جنوب کی طرف دھکیل کر خود ملک پر قبضہ کر لیا۔ آریاؤں کے کچھ قبیلوں نے یورپ کا رخ کیا اور وہاں جاکر آباد ہوگئے۔

آریہ سفید رنگت، دراز قد اور بہادر تھے کردار کی بلندی اور تنظیم کی صفات ان میں موجود تھیں۔ ابتداء میں ان کا پیشہ گلہ بانی تھا جو رفتہ رفتہ کھیتی باڑی میں تبدیل ہوگیا۔ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ دودھ، مکھن ، سبزیاں، اور اناج عام خوراک تھی۔ میلوں اور تہواروں میں مرد و عورتیں آزادانہ شریک ہوتے تھے۔ سورج، آگ ، پانی، بادل اور دیگر مظاہر قدرت کی پوجا یعنی عبادت کی جاتی تھی ۔ دیوتا کو خوش کرنے کے لیے جانوروں کی قربانی کا رواج تھا۔

آریہ مذہب اور ثقافت[ترمیم]

آریہ مذہب قدیم آريوں کا مذہب اور بہترین مذہب دونوں سمجھے جاتے ہیں. قدیم آريوں کے مذہب میں پرتھمت: قدرتی دےومڈل کا تصور ہے جو بھارت ، ایران ، یونان ، روم ، جرمنی وغیرہ تمام ممالک میں پائی جاتی ہے. اس میں ديوس (آسمان) اور زمین کے درمیان میں کئی دیوتاؤں کی تخلیق ہوئی ہے. بھارتی اريو کا اصل مذہب رگ وید میں اظہار ہے، ایرانیوں کی اوےستا میں، یونانیوں کا السيذ اور يليد میں. دےومڈل کے ساتھ آریہ كرمكاڈ کی ترقی ہوا جس منتر، کاعمل شراددھ (باپ دادا کی عبادت)، مہمان نوازی وغیرہ اہم طور پر شامل تھے. آریہ روحانی فلسفہ (براهر، روح، دنیا، نجات وغیرہ) اور آریہ پالیسی (عام، خاص وغیرہ) کی ترقی بھی متوازی ہوا. خالص اخلاقی بنیاد پر اولبت روایت مخالف اوےدك فرقوں - بدھ مت، جین وغیرہ - نے بھی اپنے مذہب کو آریہ مذہب یا سددھرم کہا.

سماجی معنی میں "آریہ 'کا استعمال پہلے پورے انسانی کے معنی میں ہوتا تھا کبھی - کبھی اس کا استعمال عام عوام وش کے لئے (" اري' لفظ سے) ہوتا تھا. پھر اشرافیہ اور مزدور طبقے میں فرق کو دکھانے کے لئے آریہ حروف اور شودر حروف کا استعمال ہونے لگا. پھر اريو نے اپنی سماجی نظام کی بنیاد حروف کو بنایا اور معاشرے چار حروف میں سنتیں اور لیبر کی بنیاد پر ویبکت ہوا. ركسهتا میں چاروں حروف کی پیدائش اور کام کا ذکر اس طرح ہے: -

  • براهروسي مكھماسيد باہو راجني: كرت:.
  • اورو تدسي يدوےشي: پدبھيا شودروجايت .. 10 .. 90.22 ..
  • (اس وراٹ مرد کے منہ سے برہمن، باه سے آمدنی (چھتریہ)، اور (جگھا) سے ویشہ اور عہدے (مرحلے) سے شودر پیدا ہوا.)

یہ ایک الكارك جملہ اے | برہم تو لامحدود اے | اس برہم کے سد غور، سد رجحانات استكتا جس جنسمداي سے اظہار ہوتی اے اسے براهم کہا گیا اے | شوري اور تیز جس بڑے پیمانے کمیونٹی سے اظہار ہوتا ہے وہ چھتریہ طبقے اور ان کے علاوہ دنیا کو چلنے کے لئے ضروری كرياے جیسے زراعت کامرس برہم ویشہ حصہ سے اظہار ہوتی ہے | اس کے علاوہ بھی کئی اسے کام بچ جاتے اے جن انسانی زندگی میں اہمیت بہت زیادہ ہوتی اے جیسے دستكاري، کرافٹ، لباس تعمیر، سروس علاقے برہم اپنے شدر طبقے کی طرف سے اظہار کرتا اے | [1]

آج کل کی زبان میں یہ طبقہ دانشورانہ، انتظامی، کاروباری اور مزدور تھے. اصل میں ان میں لیکویڈیٹی تھی. ایک ہی خاندان میں کئی حروف کے لوگ رہتے اور باہم وواهاد سبدھ اور کھانا، پان وغیرہ ہوتے تھے. بالترتیب یہ طبقہ باہمی ورجنشيل ہوتے گئے. یہ سماجی تقسیم اريپروار کی اکثر تمام شاخوں میں پائے جاتے ہیں، اگرچہ ان کے ناموں اور سماجی حالت میں دےشگت امتیاز ملتے ہیں.

ابتدائی آریہ خاندان پترستتاتمك تھا، اگرچہ آدتیہ (آدیتی سے پیدا)، دےتي (دت سے پیدا) وغیرہ الفاظ میں ماترستتا کی آواز موجودہ ہے. دپتي کے تصور میں شوہر بیوی کا گرهستھي کے اوپر یکساں حقوق پایا جاتا ہے. خاندان میں پترجنم کی دعا کی جاتی تھی. ذمہ داری کی وجہ سے کنیا کی پیدائش کے خاندان کو سنگین بنا دیتا تھا، لیکن اس کو نظر انداز نہیں کی جاتی تھی. گھوشا، لوپامدرا، اپالا، وشووارا وغیرہ عورتیں متردرشٹا رشپد کو حاصل ہوئی تھیں. شادی اکثر يواوستھا میں ہوتا تھا. شوہر بیوی کو باہم الیکشن کا حق تھا. شادی مذہبی کارروائیوں کے ساتھ عطا ہوتا تھا، جو پرورتي براهر شادی سے ملتا جلتا تھا.

ابتدائی آریہ ثقافت میں تعلیم، ادب اور آرٹ کا اعلی مقام ہے. بھاروپيي زبان علم کے مضبوط ذریعے کے طور پر تیار ہوئی. اس میں شاعری، مذہب، فلسفہ وغیرہ مختلف صحیفوں کا اضافہ ہوا. اريو کا قدیم ادب وید زبان، شاعری اور چنتن، تمام درشٹيو سے اہم ہے. رگ وید میں براهرچري اور شكشپددھت کے ذکر پائے جاتے ہیں، جن سے پتہ لگتا ہے کہ شكشويوستھا کی تنظیم شروع ہو گیا تھا اور انسانی توضیحات نے کلاسیکی شکل اختیار کرنا شروع کر دیا تھا. رگ وید میں شاعر کو رشی (متردرشٹا) مانا گیا ہے. وہ اپنی اتدرشٹ سے پوری دنیا کا فلسفہ کرتا تھا. اوشا، سوتر، ارياني وغیرہ کے سوكتو میں پركرتنريكش اور انسانی کی سودريپريتا اور رسانبھوت کا خوبصورت منظر کشی ہے. رگوےدسهتا میں زیادہ اور گرام وغیرہ کے ذکر بھی پائے جاتے ہیں. لوہے کے نگر، پتھر کی سینکڑوں پريا، سهردوار اور سهرستبھ اٹٹالكاے تعمیر ہوتی تھیں. ساتھ ہی عام داخلہ اور کاٹیج بھی بنتے تھے. بھوننرما میں اشٹكا (اینٹ) کا استعمال ہوتا تھا. ٹریفک کے لئے راستوں کی تعمیر اور جہاز کے طور پر کئی قسم کے رتھوں کا استعمال کیا جاتا تھا. گیت، رقص اور وادتر کی موسیقی کے طور پر استعمال ہوتا تھا. وا، كشوي، كركر پربھرت واديو کے نام پائے جاتے ہیں. پتركا (پتتلكا، پتلی) کے رقص کا بھی ذکر ملتا ہے. زیبائش کی رسم تیار تھی. عورتیں نشك، اجج، باسی، وك، ركم وغیرہ زیورات پہنتی تھیں. متنوع قسم کے منوونود میں شاعری، موسیقی، گیمنگ، گھوڑدوڑ، رتھدوڑ وغیرہ شامل تھے.

مذہب[ترمیم]

بہترین، ششٹ یا سجن[ترمیم]

اخلاقی معنی میں "آریہ" استعمال مهاكل، اشرافیہ، مہذب، شریف آدمی، سادھو وغیرہ کے لئے پایا جاتا ہے. اپنے رگبھاشي میں "آریہ 'کا مطلب وجن، یشتھ کا انشٹھاتا، وجن ستوتا، ودوان محترم یا سروتر منزل، اتتمور، منو، كرميكت اور كرمانشٹھان سے بہترین وغیرہ کیا ہے. محترم کے معنی میں تو سنسکرت ادب میں آریہ کا بہت استعمال ہوا ہے بیوی شوہر کو اريپتر کہتی تھی. دادا کو آریہ (ہندی - آجا) اور پتامهي کو اریہ (ہندی - اجي، ےيا، ايا) کہنے کی روایت رہی ہے. اخلاقی طور پر پركرت طرز عمل کرنے والے کو آریہ کہا گیا ہے:

  • كرتويماچنرن .
  • تشٹھت پركرتاچارے صلی آریہ ات اچيتے ..

شروع میں "آریہ 'استعمال پرجاتی یا حروف کے معنی میں بھلے ہی ہوتا رہا ہو، آگے چل کر بھارتی تاریخ میں اس کا اخلاقی مطلب ہی زیادہ مقبول ہوا جس کے مطابق کسی بھی حروف یا ذات کا شخص اپنی برتری یا شرافت کی وجہ آریہ کہا جانے لگا .


آریہ لوگوں کا آبائی وطن[ترمیم]

آریاؤں کے وطن کے سلسلے میں ابھی تک علماء کرام میں بہت اختلافات ہیں. بھاشاوےجنانك مطالعہ کے شروع میں اکثر زبان اور پرجاتی کو لازمی مان اےكودبھو (مونوجےنك) اصول کا انجام ہوا اور مانا گیا کہ بھاروپيي زبانوں کے بولنےوالے کے پرکھا کہیں ایک جگہ میں رہتے تھے اور وہیں سے مختلف ممالک میں گئے. بھاشاوےجنانك ثبوتوں کی اپورتا اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے یہ ادبھوم کبھی وسطی ایشیا، کبھی پامير - کشمیر، کبھی آسٹریا - ہنگری، کبھی جرمنی، کبھی سویڈن - ناروے اور آج جنوبی روس کے گھاس کے میدانوں میں ڈھوڑھي جاتی ہے. زبان اور نسل بنیادی طور پر لازمی نہیں. آج اريو کی مختلف شاخوں کے بهودبھو (پلجےنك) ہونے کا اصول بھی عام ہوتا جا رہا ہے جس کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ آریہ - زبان - خاندان کی تمام جاتيا ایک ہی مانووش کی رہی ہوں. زبان گرہن تو رابطہ اور اثرات سے بھی ہوتا آیا ہے، بہت قوموں نے تو اپنی مادری زبان چھوڑ کر وجاتيي زبان کو مکمل طور اپنا لیا ہے. جہاں تک ہندوستانی اريو کے آغاز کا سوال ہے، بھارتی ادب میں ان کے باہر سے آنے کے سلسلے میں ایک بھی ذکر نہیں ہے. کچھ لوگوں نے روایت اور انشرت کے مطابق مدھيدےش (ستھو) (ستھاويشور) اور كجگل (محل کی پہاڑیاں) اور ہمالیہ اور ودھي کے درمیان پردیش یا ارياورت (شمالی بھارت) ہی اريو کی ادبھوم مانا ہے. افسانوی روایت سے وچچھنن صرف رگ وید کی بنیاد پر بعض علماء کرام نے سپتسدھ (سرحدی، شمالی بھارت اور پنجاب) کو اريو کی ادبھوم مانا ہے. میںمقبول عام بال گنگا دھر تلک نے رگ وید میں بیان طویل اهوراتر، پرلبت جمیلہ وغیرہ کی بنیاد پر اريو کی مولبھوم کو دھروپردےش میں سمجھا تھا. بہت سے یورپی ودوان اور ان کے پیروکار بھارتی ودوان اب بھی ہندوستانی اريو کو باہر سے آیا ہوا مانتے ہیں.

اب آريوں کے بھارت کے باہر سے آنے کا اصول (AIT) غلط ثابت کر دیا گیا ہے. ایسا مانا جاتا ہے کہ اس اصول کا انجام کرکے انگریز اور یورپی لوگ بھارت میں یہ احساس کرنا چاہتے تھے کہ بھارتی لوگ پہلے سے ہی غلام ہیں. اس کے علاوہ انگریز اس کی طرف سے شمالی ہند (آريوں) اور جنوبی بھارت (دراوڑ) میں پھوٹ ڈالنا چاہتے تھے. اسی سےرےز میں انگریزوں نے شودروں کو جنوبی افریقہ سے اپنی ذاتی خدمت و چاٹكارتا کے لئے اور بھارت میں آريوں سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوجی ٹكڑيا بنانے کیلئے لایا گیا بتایا ہے! جبکہ اصل میں شدر وہ لوگ تھے جو اردھنگن حالت میں جنگلوں میں ناخواندہ و جانوروں جیسا زندگی بسر کرتے تھے!

مہرشی اروند کے خیال[ترمیم]

آریہ لوگ دنیا کے سناتن قیام کے جان تھے ان کے مطابق محبت کی طاقت ست کی ترقی کے لئے سروياپي نارائن یا خدا ستھاور - منقولہ انسان - جانوروں کٹ - پتنگ سادھو - گنہگار دشمن - دوست اور دیوتا اور اسر میں ظاہر ہوکر لیلا کر رہے ہے | اروند گھوش کے مطابق اريالوگ دوست کہ دفاع کرتے اور دشمن کو تباہ کرتے لیکن اس میں ان کی اسكت نہیں تھی | وہ سروتر سب مخلوق میں سب اشیاء میں کاموں میں پھل میں اشور کو دیکھا کر يشٹ منع دشمن دوست سکھ دہکھ مفاد اسددھ میں سمبابھاو رکھتے تھے | اس ایماندار کا نتیجہ یہ نہیں تھا کہ سب کچھ ان کے لئے سكھداي اور سب کرم ان کرنے کے قابل تھے

بغیر مکمل یوگا کے دودو مٹتا نہیں O اور یہ حالت بہت کم علامت کو حاصل ہوتی ہے، لیکن آریہ تعلیم عام اريو کہ جائیداد اے | آریہ اختیار وسیلہ اور منع کو ہٹانے میں آگاہ رہتے تھے، لیکن اختیار وسیلہ سے فتح کے مد میں چور نہیں ہوتے تھے اور منع سمپادن میں ڈرتے بھی نہ تھے | دوست کہ مدد اور دشمن کہ شکست ان کی کوشش ہوتی تھی لیکن دشمن سے دوےش اور دوست کا ظلم بھی برداشت نہیں کرتے تھے | آریہ لوگ تو فرض کی درخواست سے سوجنو کا قتل عام بھی کرتے تھے اور مخالفت کہ جان کی حفاظت کے لئے جنگ بھی کرتے تھے | وہ گناہ کو هٹھانے والے اور فضیلت کو جمع کرنے والے تھے لیکن پني کرم میں گروت اور گناہ میں پتت ہونے پر روتے نہیں تھے بلکہ شارير صاف کرکے خود ترقی میں سچےشٹ ہوجاتے تھے | آریہ لوگ کرم کہ مفاد کے لئے انتھک کوشش کرتے تھے، ہزاروں بار ناکام ہونے پر بھی ويرت نہیں ہوتے تھے لیکن اسددھ میں دكھت ہونا ان کے لئے ظلم تھا | [2] [3]

آریہ - حملے کے اصول میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی[ترمیم]

آریہ حملے کا اصول اپنے ارامبھك دنوں سے ہی مسلسل تبدیل ہوتے رہا ہے. آریہ - حملے کے اصول کہ ادھنكتم پركلپن کے مطابق یہ کوئی مخصوص ذات نہیں تھی بلکہ یہ صرف ایک قابل احترام لفظ تھا جو کہ انگلبھاشا کے SIR کے سمنرتھاك تھا | آريوں کے اكرمن کی كلپان کی حمایت کے تمام حقیقت بھرمك ثابت ہو چکے ہیں | حوالہ جات - آریہ کون تھے - مصنف - شری رام ساٹھے مترجم - نوجوان لال ویاس پبلیشر - تاریخ تالیف منصوبہ

بیرونی جوڑ[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=آریہ&oldid=777104’’ مستعادہ منجانب