آزاد مصنع لطیف کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ہیکر (اصطلاح)[ترمیم]

ہیکر Hacker کون ہے؟ اس لفظ کے لفظی معنی ہیں بہت زیادہ سمجھدار، یہ اصطلاح بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہایوں میں رائج ہوئی جو اصل میں Massachusetts Institute of Technology کے ایک گروپ کا نام تھا جنہیں ‘ما بعد البنیادیات’ پڑھایا جاتا تھا، یہ اس کا لقب ہوتا جو کسی مسئلہ کا حل دریافت کر لے، یا کسی مسئلہ کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس سے آگاہ کردے تاکہ نقصانات سے بچا جاسکے، لیکن میڈیا نے اس لفظ کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسے معلومات کے مجرموں (جو مختلف طریقوں سے شہرت حاصل کرنے یا منافع حاصل کرنے کے لئے معلومات کی چوری کرتے ہیں اور کوئی بھی مفید یا نئی چیز دریافت نہیں کرتے) پر لاگو کردیا اور انہیں ہیکر کہنے لگے، کچھ لوگوں کو بے چارے اصل ہیکروں کی یہ توہین پسند نہیں آئی اور انہوں نے ان تخریب کاروں کے لئے کریکر cracker کی اصطلاح وضع کردی جو ابھی تک دونوں فریقین میں تفریق کے لئے مستعمل ہے، چنانچہ ہیکر اصل میں وہ نہیں جنہیں ہم ہیکر سمجھتے ہیں، بلکہ وہ اصل میں کریکر ہیں.

"To hack a program" کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی ایسی خاصیت ڈالی یا شامل کردی جائے جو اس میں پہلے موجود نہیں تھی، a system hack کا مطلب ہے کوئی مفید کام کرنے کے لئے کوئی سجھدارانہ طریقہ دریافت کرنا (مثال کے طور پر رفتار بڑھانا)، To crack a password کا مطلب ہے کسی دوسرے کا پاس ورڈ معلوم کرنا، To crack a program کا مطلب ہے کہ اس میں ایسی خامی دریافت کرنے کی کوشش کرنا (یا دریافت کرہی لینا) جس سے اسے غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کے قابل بنالیا جائے.


یونکس[ترمیم]

یونکس Unix سسٹم کیا ہے؟ مثبت معنوں میں اسے اکثر ہیکر دوست Hackers Friendly! سسٹم کہا جاتا ہے، لیکن رسمی طور پر کوئی بھی نظام (آپریٹنگ سسٹم) جو POSIX کے معیارات پر پورا اترے وہ یونکس کہلائے گا.. جس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک نظام نہیں ہے، یہ معیارات اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ بنایا گیا کوئی بھی پروگرام POSIX کے معیارات پر پورا اترنے والے ہر سسٹم پر کام کرے گا، ان سسٹمز کی باقاعدہ شروعات ستر کی دہائیوں میں ہوئی جب بِل لیبز www.Bell-Labs.com (بِل گِٹس نہیں) کے Ken Thompson اور Ritchie نے 1973 میں پہلا یونکس آپریٹنگ سسٹم بنایا جو دنیا کا سب سے پہلا یونکس آپریٹنگ سسٹم تھا، جسے بعد میں AT&T کو فروخت کردیا گیا، یہ اس قدر مقبول ہوا کہ اس کے لئے سپورٹ فراہم کرنا ایک مشکل امر ہوگیا، چنانچہ AT&T نے اس کا مصدر (source code) یونیورسٹیوں، ریسرچ کے مراکز، اور غیر تجارتی مقاصد کے لئے فراہم کردیا، چنانچہ مصدر کے ہوتے ہوئے سپورٹ فراہم کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی (صرف V سسٹم کے لئے اور وہ بھی غیر آزاد لائسنس کے تحت یعنی یہ اب بھی AT&T ہی کی ملکیت ہے اور کسی کو بھی اس میں بغیر اجازت کے تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں) یہ سسٹم C لینگویج میں لکھا گیا تاکہ اس کی ہر قسم کے کمپیوٹرز پر چلنے کی ضمانت دی جاسکے اور ہارڈویئر Hardware سے بالکل الگ رہتے ہوئے کام کرسکے، یہ خصوصیات اس کے پانچھویں ورژن میں تھیں جسے سسٹم وی system V بھی کہا جاتا ہے، بعد میں اس سے ملتے جلتے سسٹم کئی مختلف کمپنیوں نے نکالے، لیکن اس سے سب سے زیادہ مشابہہ سسٹم BSD ہے یعنی Berkeley Software Distribution، اور پھر POSIX کے معیارات وضع کئے گئے جس کا میں نے اوپر تذکرہ کیا ہے تاکہ ایک ایسا متفقہ معیار وضع کیا جاسکے جس کے اندر رہتے ہوئے تمام کمپنیاں اس پر کام کر سکیں، یونکس کے مختلف ورژن مختلف کمپنیوں نے مختلف ناموں سے جاری کئے ہیں جیسے:

  • IBM کا AIX
  • HP/UX
  • SunOS
  • Solaris
  • SCO UNIX
  • مائکروسوفٹ کا Xenix

مگر یہ سسٹم بہت مہنگے تھے (ایک ملک کا بجٹ) چنانچہ ان کا استعمال ریسرچ کے مراکز، یونیورسٹیوں، اور عسکری اداروں تک ہی محدود رہا، اگرچہ اب یہ سسٹم کافی پرانے ہوگئے ہیں مگر یہ شروع ہی سے بہت ساری خصوصیات کے حامل رہے ہیں، یہ سسٹمز اس وقت بھی ملٹی یوزرز کی سپورٹ رکھتے تھے اور یہ بذریعہ نیٹ ورک بھی ایک دوسرے سے منسلک تھے (انٹرنیٹ پروٹوکول کی دریافت سے بھی پہلے جیسے UUCP کے ذریعے IP) اور بہت زیادہ محفوظ بھی تھے، ان کے مقابلے میں سستے سسٹم بھی دستیاب تھے جو یونکس کی اصل خصوصیات سے بالکل عاری تھے، یہ سسٹم گھریلو استعمال کے لئے بازاروں میں عام دستیاب تھے مگر یہ POSIX کے معیارات پر پورا نہیں اترتے تھے اور اصل یونکس کے مقابلے میں ان کی حیثیت ایک ‘کیلکولیٹر’ سے زیادہ نہیں تھی.


گنو[ترمیم]

گنو GNU سسٹم کیا ہے؟ جی ہاں.. اسے گنو ہی پڑھا جاتا ہے جو کہ ایک جانور کا نام ہے اور جو اس کا لوگو بھی ہے اور یہ مخفف ہے GNU is Not Unix کا یعنی گنو یونکس نہیں ہے، چنانچہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ GNU نہ صرف یونکس کا متبادل ہے (زیادہ صحیح معنوں میں یونکس کے ٹولز) بلکہ یونکس (بہت طاقتور مشینوں کو چلانے والا نظام جسے صرف ملک ہی خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور جس کا استعمال nondisclosure agreement لائسنس سے مشروط ہے) کے فلسفہ کا بھی، گنو کے بانی Massachusetts Institute of Technology کے پروفیسر رچرڈ سٹالمان Richard M. Stallman ہیں ( ان کا صفحہ stallman.org) جو مذکورہ انسٹی ٹیوٹ میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر ہیں، اس آزاد مصدر نظام کو بنانے کا خیال انہیں اسی کی دہائی میں آیا جو ایک ٹیکسٹ ایڈیٹر EMACS سے شروع ہوا، اور پھر انہوں نے fsf آرگنائزیشن بنانے کے لئے فراغت حاصل کی اور پوری دنیا سے ہزاروں پروگرامروں نے یہ نظام بنانے کے لئے ان کی آواز پر لبیک پڑھی اور یہی ہوا، مگر یہ پراجیکٹ آپریٹنگ سسٹم کا کرنل kernel بنانے کے لئے نہیں تھا بلکہ صرف سسٹم کے ٹولز (جیسے احکامات کا مترجم shell مصنف compiler اور ٹیکسٹ ایڈیٹر editor) بنانے کے لئے تھا.

لینکس[ترمیم]

لینکس (Linux) نظام کیا ہے؟ یہ اصل میں یونکس سے کمپیٹبل نظام کا کرنل ہے، جو نہ ہی یونکس کے پانچویں ورژن System V سے بنایا گیا ہے اور نہ ہی اسے بنانے میں BSD سے استفادہ کیا گیا ہے، بلکہ اسے بالکل صفر سے لکھا گیا ہے، یہ نظام نہ صرف مفت ہے بلکہ آزاد مصدر یعنی اوپن سورس بھی ہے یعنی آپ اس میں اپنی مرضی کی تبدلیاں کرنے اور اسے اپنے حساب سے ترقی دینے اور بنانے میں بالکل آزاد ہیں اور وہ بھی بغیر کسی کی اجازت لیے، (یہ مضمون اسی میں لکھا گیا ہے) اس نظام کو فِنلینڈ Finland کے Linus Benedict Torvalds نے 1991 میں شروع کیا جب وہ Helinki یونیورسٹی میں ایک طالبعلم تھے (ان کا صفحہ cs.helsinki.fi/u/torvalds) ان کی تمنا تھی کہ ان کے پاس بھی اپنے گھر کے کمپیوٹر میں یونکس سسٹم ہو (جس کا خرچہ ایک ملک کے بجٹ کے برابر ہے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے) چنانچہ انہوں نے یونکس کے ابتدائی مراحل minix کو پڑھ کر ایک ایسا مکمل آپریٹنگ سسٹم صفر سے لکھنا شروع کیا جو نہ صرف عام آپریٹنگ سسٹمز پر فوقیت رکھتا ہو بلکہ یونکس کے دوسرے سسٹمز پر بھی، جس کے بعد انہوں نے تمام فائلیں انٹرنیٹ پر رکھ کر لینکس کرنل پراجیکٹ شروع کیا (kernel.org) سب سے پہلا کرنل 1994 میں جاری کیا گیا اور آج دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد پروگرامرز ان کے اس پراجیکٹ میں شامل ہوکر صرف کرنل پر کام کر رہے ہیں، یہ سسٹم اکثر کمپیوٹرز پر کام کر تا ہے جو کہ یہ ہیں:

  • IA32(32-bit Intel Arch x86 including Pentium,and some AMD) عام کمپیوٹر
  • IA64 (itanium and other 64-bit)
  • PowerPC PPC (Apple – Motorola – IBM اور اس کے علاوہ)
  • Alpha
  • Sparc
  • MainFrame
  • m68k (motorola)
  • Xbox اور PlayStation2

اس سسٹم کا نام Linux ہے، اس لفظ کو دو عدد مخفف ملاکر بنایا گیا ہے، ایک مخفف ابتدائی تین حروف LIN پر مشتمل ہے جو اس کے بانی Linus کے نام کے ابتدائی تین حروف ہیں، اور باقی دو حروف UX یونکس UNIX کا مخفف ہیں، یہ سسٹم ایک طرح سے اوپن سورس کی ناک ہے جس پر فخر کیا جاسکتا ہے، یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ لینکس POSIX کے تمام معیارات پر پورا اترتا ہے جسے ہر طرح سے چیک کیا گیا ہے لیکن یہ کبھی بھی اس کے لئے لائسنس کی فیس ادا نہیں کرے گا کیونکہ یہ کمپیٹبلٹی غیر رسمی ہے، اور پھر گِنو کا فلسفہ UNIX کی نقل کرنا نہیں بلکہ اس کا متبادل پیش کرنا ہے، کیونکہ گِنو میں ایسے بہت سارے اضافے ہیں جو معیارات میں شامل نہیں ہیں لیکن یہ غالباً معیار بن سکتے ہیں، گِنو فلسفہ یہ ہے کہ اچھا پیش کیا جائے چاہے وہ یونکس ہو یا نہ ہو.


آزاد مصنع لطیف[ترمیم]

آزاد سوفٹ ویر کیا ہیں؟ یہ فکری ملکیت کی حفاظت کا ایک طریقہ کار ہے جو معلومات کو چھپانے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اسے نشر کرنے اور پھیلانے پر یقین رکھتا ہے، یہ آئیڈیا fsf.org) Free Software Foundation) کے بانی پروفیسر Richard M. Stallman کا ہے، چنانچہ آزاد سوفٹ ویر کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ان سوفٹ ویر کا مصدر یعنی سورس کوڈ حاصل کرسکتاہے، بلا روک ٹوک اس کی کاپیاں بنا سکتا ہے، اسے مفت تقسیم کرسکتا ہے بلکہ فروخت بھی کرسکتا ہے.

کیا صرف لینکس ہی ایک آزاد مصدر نظام ہے؟ نہیں، بہت سارے ہیں، مثال کے طور پر:

  • GNU/Hurd
  • FreeBSD
  • NetBSD
  • OpenBSD

اور ان کے علاوہ بھی لیکن لینکس ان میں سب سے زیادہ شہرت رکھتا ہے اور سب سے زیادہ Hardware کو سپورٹ کرتا ہے اور سب سے زیادہ کمیونٹی رکھتا ہے.


آزاد تعمیلیاتی نظام ( ونڈوز صارف کے لیے)[ترمیم]

کیا یہ ونڈوز کی طرح آسان سسٹم ہے یا ڈوز کی طرح مشکل؟ یہ ایک لچکدار سسٹم ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے اور وہ بھی، اگر آپ KDE استعمال کریں تو یہ خوبصورتی میں ونڈوز کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا، آپ تمام مینیو شفاف کرسکتے ہیں اور تمام بٹن بہت خوبصورت انداز میں سیٹ کرسکتے ہیں، اور اگر آپ اسے کسی بہت ہی پرانے کمپیوٹر پر چلانا چاہتے ہیں جسے آپ پھینکے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے تھے تو یہ بھی ممکن ہے، حقیقت میں جب ہم آپریٹنگ سسٹم کی بات کرتے ہیں، تو اصل میں ہم اس پروگرام کی بات کر رہے ہوتے ہین جو دوسرے ایپلیکشن پروگراموں اور مادی مشینوں (ہارڈویئر) کے درمیان ایک تہہ کی طرح ہوتا ہے اور ان دونوں کی ایک دوسرے تک رسائی آسان بناتا ہے، یا بعض اوقات (سیکورٹی کے حوالے سے) روکتا بھی ہے، رہی بات انسانی عنصر سے نمٹنے کی تو یہ آپریٹنگ سسٹم کا کام نہیں ہے بلکہ ایپلیکشن پروگراموں کا کام ہے لیکن اس مکسنگ کی وجہ یہ ہے کہ تجارتی آپریٹنگ سسٹم شروع سے ہی ایسے پروگراموں اور انٹرفیس کے ساتھ آتے ہیں جنہیں دیکھ کر صارف یہ سمجھتا ہے کہ یہی آپریٹنگ سسٹم ہے، چنانچہ وہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا لینکس کے بھی گرافیکل انٹرفیس اور آسان استعمال پروگرام ہیں؟ جواب یقیناً ہاں ہے، لینکس کے ہزاروں بلکہ لاکھوں ایپلیکیشن پروگرام اور گرافیکل انٹرفیس ہیں.


کیا اس کا مطلب ہے کہ مجھے ہر پروگرام کو الگ سے حاصل کرکے نصب کرنا ہوگا؟ نہیں، یہاں ڈسٹربیوشن کا کام شروع ہوتا ہے، جو کہ اکثر ایک سے سات اور عموماً تین سیڈیوں پر مشتمل ہوتی ہے، جسے کوئی کمپنی جاری کرتی ہے جیسے ریڈ ہیٹ، یا مانڈریوا، یا غیر تجارتی ادارہ جیسے ڈبیان وغیرہ، ان سیڈیوں میں لینکس کے ساتھ ساتھ اس پر کام کرنے والے ہزاروں سوفٹ ویر (2000 سے 8000 سوفٹ ویر پیکج) بھی مفت دستیاب ہوتے ہیں.


اس کی خوبیاں کیا ہیں؟ اس کی خوبیاں مندرجہ ذیل ہیں:

  • مضبوط، محفوظ، تیز رفتار اور موثوق.
  • بنیاد سے ہی اسے نیٹ ورک نظام پر چلنے کے قابل بنایا گیا ہے.
  • انتہائی کم خرچ.
  • مفت / آزاد مصدر اور GPL کے تحت انسانیت کی ملکیت.
  • خود کو بنانے کی استطاعت Self-Contained.
  • Backword compitablity
  • well-documented ونڈوز کے برعکس جو بعض Undocumented API’s پر مشتمل ہوتا ہے.
  • دنیا کے تمام معروف معیارات پر پورا اترتا ہے جیسے POSIX، ANSI، ISO.
  • Unicode کے معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے عالمی ہے اور دنیا کی بیشتر زبانیں سپورٹ کرتا ہے.
  • وائرس اور ٹروجنز جاسوسوں سے بالکل خالی.
  • حقیقی 32 بِٹ (یا اس سے اعلی) سسٹم.
  • لاکھوں سوفٹ ویر آپ کے انتظار میں.
  • گھریلو کمپیوٹر پر آپ کو UNIX کا ماحول دیتا ہے.
  • بڑی اور تاریخی کمپنیوں کی طرف سے سپورٹ شدہ ہے جیسے IBM اور HP.

کیا ونڈوز 32 بِٹ کا سسٹم نہیں ہے؟[ترمیم]

نہیں، وہ صرف ایسا لگتا ہے، اگر آپ کسی سلو پرنٹر سے پرنٹ کر رہے ہوں، کسی پرانی سی ڈی سے کوئی دستاویز پڑھ رہے ہوں، کوئی بڑی فائل کاپی کر رہے ہوں، یا 500 میگابائٹ فائل ایکسٹریکٹ کر رہے ہوں تو اس کے نتیجے میں سارا سسٹم سلو ہوکر ہینگ ہوجائے گا، اور کینسل کا بٹن کام کرنا چھوڑ دے گا جب تک کہ مطلوبہ عمل مکمل نہ ہو (یا شاید نا بھی ہو!!)، اس کی وجہ ونڈوز کا BIOS کے نظام پر انحصار کرنا ہے جو کئی دہائیوں پہلے بنایا گیا تھا اور پھر یہ دو مرحلوں میں کام کرتا ہے پہلا مرحہ 16 بِٹ (غیر محفوظ موڈ) اور autoexec.bat کی عمل کاری تک اسی موڈ میں رہتا ہے اور پھر 32 بِٹ پر منتقل ہوتا ہے.

جب ونڈوز کام کر رہا ہے تو مجھے ان ساری خوبیوں کی کیا ضرورت ہے؟[ترمیم]

ونڈوز کا غیر محفوظ ہونا، اس میں جاسوس ایپلیکیشنز اور سیکورٹی ہولز کی بھرمار ہے، اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ونڈوز پر کام کرنے والے 70% کمپیوٹرز وائرس اور ٹروجنز trojan کا شکار رہتے ہیں. فکری ملکیت کے حقوق اور EULA. کسی خاص معیار کا پابند نہیں ہے، اور مارکیٹ اثرات سے بھی خالی نہیں، اگر کسی کمپنی پر انہیں غصہ آجائے تو اس کے سوفٹ ویر ونڈوز پر چلنا بند ہوجاتے ہیں جیساکہ AOL کے ساتھ ایکس پی کی ریلیز کے وقت ہوا. ضروری نہیں کہ پرانے سوفٹ ویر نئے سسٹم پر چلیں جیسا کہ ونڈوز 98 کے اکثر سوفٹ ویر ایکس پی پر نہیں چلتے. سسٹم کا بار بار بلا وجہ منجمد ہونا اور بار بار ایرر رٹرن کرنا send bug-report اور Illegal Operation کا پریشان کرنا. ہمیشہ آپ کو مزید سوفٹ ویر خریدنے پر اکسایا جاتا ہے. سپورٹ طلب کرنے پر یا کسی قسم کی شکایت کرنے پر آپ کو کہا جاتا ہے کہ نئی پراڈکٹ خرید لیں.. یہ وائرس ہوسکتا ہے.. دوبارہ ڈاونلوڈ کریں.. حتی کہ آپ پر بے وقوف ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ آپ نے سسٹم صحیح طریقے سے بند نہیں کیا یا آپ کو مزید میموری کی ضرورت ہے. مفت سوفٹ ویر کی قلت (عموماً تجرباتی سوفٹ ویر) اور علمی پراجیکٹس کی قلت. بڑے اور طویل پراجیکٹس کے لئے نا موزوں. حکومتی سطح کے خفیہ پراجیکٹس کے لئے انتہائی ناموزوں، کیونکہ آپ کو اس بات کا قطعی یقین نہیں ہوسکتا کہ یہ مطلوبہ کام کر رہا ہے کیونکہ اس کا سورس کوڈ دستیاب نہیں، اور اگر کسی اور لائسنس کے تحت دستیاب ہو بھی جائےتو آپ اسے نہ تو نشر کرسکتے ہیں اور نہ ہی ماہرین کو جانچ کے لئے دے سکتے ہیں. ایک خفیہ دستاویز میں مائکروسوفٹ نے خود اعتراف کیا ہے کہ لینکس اس کے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم سے بہتر ہے، یہ دستاویز halloween کے نام سے مشہور ہے[1]

فکری ملکیت کے حقوق[ترمیم]

وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک عالمی آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کرکے اس میں شامل ہوتے جارہے ہیں جو فکری ملکیت کے حقوق کی سختی سے پابندی کرواتا ہے اور چوری شُدہ سوفٹ ویر کی نا جائز فروخت کا مطالبہ بھی کرتا ہے چنانچہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب چوری شدہ سوفٹ ویر کی سستے داموں فروخت ممکن نہیں رہے گی، اور اگر آپ ان سوفٹ ویر کے ساتھ پکڑے جاتے ہیں تو آپ کا کوئی بھی بہانہ EULA کی وجہ سے نا قابلِ قبول ہوگا: یہ سسٹم کے ساتھ آیا تھا. میں نے کچھ کاپی نہیں کیا. میرے دوست کے پاس لائسنس شدہ کاپی ہے اور میں نے مستعار لی ہے. دکاندار نے کہا تھا کہ یہ اصلی ہے. غرض کہ کوئی بھی بہانہ قابلِ قبول نہیں ہوگا اور آپ کو مجوزہ جرمانہ اور سزا مل کر رہے گی.. اب بات کرتے ہیں کہ EULA کیا ہے یہ سوفٹ ویر بنانے والی کمپنی اور صارف کے درمیان ایک ‘زبردستی’ کا ایگریمنٹ یا معاہدہ ہے جسے اکثر لوگ بغیر پڑھے قبول کرکے ونڈوز اور اسے کے تمام سوفٹ ویر انسٹال کرتے ہیں جس کا فلسفہ یہ ہے کہ کمپنی آپ کو سوفٹ ویر نہیں بیچتی بلکہ آپ کو پیسوں کے بدلے میں اسے صرف استعمال کرنے کا محدود حق دیتی ہے، اس کے چند شرائط یہ ہیں: سوفٹ ویر کو استعمال کرتے ہی آپ پیسے واپس لینے کے حق سے محروم ہوجاتے ہیں چاہے سوفٹ ویر آپ کے معیار پر پورا اترے یا نہیں جبکہ ایگریمنٹ آپ کو سوفٹ ویر نصب کرنے پر دکھایا جاتا ہے. سوفٹ ویر کا استعمال صرف استعمال کی حد تک ہی محدود ہے، آپ اسے analysis یا عکسی انجنیئرنگ کے لئے استعمال نہیں کرسکتے (یہ شِق یورپی یونین کے قوانین کے بر خلاف ہے). اگر آپ سے اس کا سیریل یا کوڈ گُم ہوجاتا ہے تو عموماً آپ کو اسے دوبارہ خریدنا ہوگا. کسی قسم کی کوئی ضمانت نہیں. اگر ونڈوز میں کوئی مسئلہ ہوجائے تو مائکروسوفٹ کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے.. لائسنس چھین کر آپ کے پیسے واپس کردے یا سابقہ سیڈیوں کو اسی مسئلہ پر مشتمل دوسری سیڈیوں سے بدل دے. جاوا سے انتباہ کہ یہ آپ کی موت یا کینسر پر منتج ہوسکتا ہے. اگر آپ کو ایگریمنٹ منظور ہے تو آپ رجسٹرڈ صارف کہلائیں گے ورنہ ‘کریکر’. غیر قانونی استعمال پر آپ کو نہ صرف لائسنس کی فیس ادا کرنی ہوگی بلکہ کمپنی اور ملک کا نام بدنام کرنے کا ہرجانہ بھی ادا کرنا ہوگا[2]

میرا نہیں خیال کہ وہ اتنی شدت سے اس پر عمل درآمد کرواتے ہوں گے! اس کی وجہ عالمی آزاد تجارت کے معاہدے میں ‘چھوٹ’ کی مدت ہے، یا ایک سازش تاکہ ونڈوز ہمارے تعلیمی نصاب اور اداروں اور یونیورسٹیوں میں گھر کر جائے اور جب واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہے گا تو پھر وہ اپنی ‘ضربِ کاری’ لگائیں گے، نوٹ کریں کہ چھوٹی سی کسی دکان سے لے کر یونیورسٹیوں تک سب ہی جگہ ونڈوز استعمال ہوتی ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آدھے ڈالر میں سوفٹ ویر کی فروخت جاری رہے گی تو یہ خیال دل سے نکال دیں.


لینکس صارفین کے لیے[ترمیم]

لینکس کا لائسنس کیا ہے[ترمیم]

لینکس کا لائسنس GPL کہلاتا ہے یعنی General Public License جس کے تحت آپ کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے، آپ کو کسی قسم کی کوئی فیس ادا نہیں کرنی ہوتی، آپ سوفٹ ویر میں ہر قسم کی تبدیلی کرنے، کاپی کرنے، حتی کہ فروخت کرنے تک آزاد ہیں، اور سوفٹ ویر کو عکسی انجنیئرنگ کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس لائسنس کے تمام سوفٹ ویر کا مصدر یعنی سورس کوڈ دستیاب ہوتا ہے، اس ضمن میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چونکہ تجارتی کمپنیوں کے سوفٹ ویرز کے سورس کوڈ دستیاب نہیں ہوتے اس لئے وہ یہ پروپگنڈہ کرتی ہیں کہ چونکہ سورس کوڈ دستیاب نہیں اس لئے تخریب کار (کریکر) ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ انہیں اس کے کام کرنے کا طریقہ ہی نہیں معلوم، حالانکہ حقیقتِ حال اس سے بالکل برعکس ہے، انٹرنیٹ پر تجارتی سوفٹ ویرز کے کریکز کی بھرمار ہے جو اس بات کو غلط ثابت کرتے ہیں اور تجارتی سوفٹ ویرز کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ایسی غلطیوں کی دریافت اوپن سورس سوفٹ ویرز میں نہ صرف جلد ہوجاتی ہے بلکہ جلد ہی مسئلہ دور بھی کر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سورس کوڈ کا دستیاب ہونا ہے، یونکس کے ایک ماہر Eric Raymond کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک طویل مقالہ FAQ لکھا تھا جس میں انہوں نے صارف کی ضرورت اور بجٹ کے مطابق تجارتی سسٹم خریدنے کے بارے میں ہدایات لکھی تھیں اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جن کا جاننا سوفٹ ویرز کی خرید سے پہلے صارف کے لئے لازمی ہے، لیکن لینکس کے معرض وجود میں آنے کے بعد وہ کہتے ہیں:

Times change, industries evolve, and I can now replace that FAQ with just three words: ‘Go get Linux!


حقیقی دنیا میں[ترمیم]

کیا لینکس پر حساس کام سر انجام دینے کے لئے بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟ جی ہاں، لینکس پر حساس ترین کام سر انجام دینے کے لئے بھروسہ کیا جاسکتا ہے، لینکس کی بعض ڈسٹریبیوشن کو امریکی وزاتِ دفاع DoD کی سند حاصل ہے (رویٹر کے مطابق) عملی تجربہ بتاتا ہے کہ کسی غلطی کی دریافت کے بعد اس کی تصحیح کرنا (اور مفت پیچ فراہم کرنا) لینکس میں صرف 5 منٹ سے 3 دن کا وقت درکار ہوتا ہے، مثال کے طور پر بعض CPU میں FDEV_BUG کے مسئلہ کو صرف تین دن میں حل کرلیا گیا (حل یہ تھا کہ لینکس کا کرنل وہ حسابات بھی کرسکے جس میں پراسیسر غلطی کرجاتا ہے) جبکہ دوسرے آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والوں کو ایک سال انتظار کرنا پڑا تب کہیں جاکر انٹل نے صرف مسئلہ کا ہی اعتراف کیا..!!


کیا یہ نظام پہیلے گا..؟؟[ترمیم]

دنیا کی بہت ساری بڑی کمپنیاں اس سسٹم کو استعمال کرتی ہیں مثال کے طور پر IBM اس کو باقاعدہ سپورٹ کرتی ہے حالانکہ لینکس اس کے سسٹم AIX کا حریف ہے، اسی طرح Intel بھی GNU C Compiler کو سپورٹ کرتی ہے، Oracle کمپنی نے بھی اپنی ایک لینکس ڈسٹریبیوشن بنائی ہے، اور Sun مائکروسسٹمز نے بھی اپنی ٹیکنالوجی جاوا کا استعمال کرتے ہوئے لینکس پر مبنی ایک آپریٹنگ سسٹم بنایا ہے اور اب وہ لینکس کے لئے 3D انٹرفیس بنانے پر کام کر رہے ہیں، اسی طرح دنیا کی بڑی بڑی اور مشہور ویب سائٹس کے سرور بھی لینکس پر چل رہے ہیں جیسے google وغیرہ جبکہ آزاد مصدر اپاچی سرور apache امیزون اور یاہو پر مستعمل ہیں.. بہت سارے ممالک بھی اپنے حساس کام سرانجام دینے کے لئے لینکس استعمال کرتے ہیں، اس کی مثال امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے نیشنل سیکورٹی ایجنسی کی دی جاسکتی ہے جو سیکورٹی کے حوالے سے اپنی ایک الگ لینکس ڈسٹریبیوشن پر کام کر رہے ہیں جو Selinux کہلاتی ہے دیکھیے: nsa.gov/selinux اسی طرح بہت سارے ممالک بھی اپنی سرکاری اداروں میں لینکس کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں جیسے کوریا، سپین، جرمنی، کوبا، جبکہ یورپ میں تو لینکس ایک وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے، یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ FSF کو یونیسکو UNISCO کی حمایت حاصل ہے.

گھر اور دفتر میں[ترمیم]

لینکس کی تقریباً ہر ڈسٹریبیوشن کے ساتھ 2000 سے 8000 سوفٹ ویر مفت فراہم کئیے جاتے ہیں اس کے علاوہ لاکھوں سوفٹ ویر انٹرنیٹ پر آپ کے منتظر ہیں، ویڈیو پلیئر اور بھانت بھانت کے ٹیکسٹ ایڈیٹروں اور ویب براؤزروں سے لے کر نیٹ ورک اور پروگرامنگ کے ٹولز تک ہر چیز دستیاب ہے، غرض کہ آپ ہر وہ فائل کھول سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ نے سن رکھا ہے اور وہ بھی جن کا آپ کو نام بھی نہیں معلوم..


غریب ممالک کے لیے[ترمیم]

UNIX اور اس سے مشتق یا ملتے جلتے دوسرے سسٹمز سرور یا بطور مرکزی نظام کے کام کرنے کے یقیناً اہل ہیں مگر یہ بہت زیادہ مہنگی مشینوں پر کام کرتے ہیں (یونکس سسٹم کی اپنی خیالی قیمت اس کے علاوہ ہے) جبکہ لینکس کو کسی بھی مشین پر چلایا جاسکتا ہے، اس مقصد کے لئے SMP ٹیکنالوجی سب سے بہترین حل ہے جس میں ایک ہی مشین پر کئی پراسیسر لگائے جاتے ہیں جس سے مشین کی رفتار نہ صرف دیوہیکل Mainframe سے بڑھ جاتی ہے بلکہ بہت سستی بھی پڑتی ہے (جبکہ سسٹم بھی مفت ہے) یا کلسٹر نیٹ ورک ٹیکنالوجی جس میں کئی ایک مشینوں کو ایک ساتھ جوڑا جاتا ہے جو ایک ہی دیوہیکل مشین جیسا برتاؤ کرتے ہیں، اور چونکہ یونکس کے قابل دیوہیکل مشینوں کی بنانے والے ملکوں کے باہر فروخت پر پابندی ہے چنانچہ اس طرح غریب ممالک اعلی سے اعلی ٹیکنالوجی بچوں کے کھلونوں کے دام حاصل کرسکتے ہیں، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جب اخراجات کم ہوں تو منافع کی شرح یقیناً بڑھ جاتی ہے اور مقابلے کی فضا جنم لیتی ہے..

لینکس کو عام کرنے سے ملکی سطح پر یونکس اور حساس سسٹمز پر کام کرنے والے ماہرین میں اضافہ ہوگا جو یقیناً ملک کو اپنی حساس معلومات پر مبنی مشینوں کو غیر ملکی ہاتھوں میں دینے کے رسک سے محفوظ رکھے گا.

  1. ^ halloween
  2. ^ EULA windows 98