آصف احمد علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آصف احمد علی

سابق وزیر خارجہ ۔ ڈپٹی چیئرمین پلانگ کمیشن۔ ان کے والد سردار احمد علی بھی سیاست کے میدان سے تعلق رکھتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد 1951 اور پھر 1962 میں ان کے والد پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مدد سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور کامیاب بھی ہوئی مگر پاکستان قومی اتحاد کی اجتجاجی تحریک چلی تو بعض دیگر ارکان اسمبلی کے ہمراہ جن میں سردار شوکت حیات خان ، امیر عبداللہ روکڑی ، اور میر بلخ شیر مزاری وغیرہ شامل تھے ، قومی اسمبلی کی رکنیت سے بطور احتجاج استعفی دے دیا۔ سردار احمد احمد علی انجمن ارائیاں پاکستان کے صدر بھی رہے۔

آصف احمد علی اوکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایف سی کالج لاہور میں تدریس سے کیا مگر جلد ہی اپنی آزاد خیالی کے باعث اسلامی جمعیت طلباء کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اوروہ درس و تدریس چھوڑکر حکومت پنجاب کے مشیر ہو گئے ۔1981ء میں عملی سیاست کا آغاز جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوری سے کیا۔ 1985ء میں قصور سے غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ 1990 میں آزاد امیدوار کے طور پر آئی جے آئی کی حمایت سے قومی اسمبلی کے رکن بنے اور میاں نواز شریف کی مرکزی کابینہ میں وزیر مملکت برائے اقتصادی امور مقرر ہوئے ۔ 5 اپریل 1993 کو میاں نواز شریف کی برطرفی کے بعد وزیراعظم بلخ شیر مزاری نے کابینہ بنائی تو سردار صاحب اس میں انسداد منشیات کے وزیر کے طور پر شامل تھے۔ 1993 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ جونیجو گروپ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں بطور وزیر خارجہ شامل ہوئے۔ 6 نومبر 1996ء کو بے نظیر حکومت کی تنسیخ کے بعد ان کی وزارت بھی چلی گئی۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں دوبارہ سرگرم ہوئے اور ڈپٹی چیرمین پلانگ کمشین مقرر ہوئے۔