آیت اللہ خمینی

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
آیت اللہ خمینی

پیدائش: 24 ستمبر، 1902ء

انتقال: 3 جون، 1989ء

ایران کے مذہبی رہنما۔ بانی اسلامی جمہوریہ ایران ۔ آیت اللہ العظمٰی امام روح اللہ الموسوی الخمینی 17 مئی 1900ء کو خمین میں پیدا ہوئے جو تہران سے تین سو کلومیٹر دور ہے۔ ایران ، عراق ، اور اراک میں دینی علم کی تکمیل کی۔ 1953ء میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علما نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی، اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔

4 نومبر 1964ء کو شاہ نے آپ کو ملک بدر کر دیا۔ ایک سال فرانس میں رہے ،اور 4 اکتوبر 1965ء میں نجف اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو فرانس منتقل ہوگئے۔ اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوش تو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔ 17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے۔ یکم فروری 1979ء کو آیت اللہ خمینی تہران واپس آئے اور شہر قم میں مستقل رہائش اختیار کی۔ کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔

[ترمیم] انقلاب ایران اور خمینی

عراق نے ستمبر1980 میں ایران (خوزستان) پر حملہ کیاتھا۔اس کے بعد ایرانی لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اپنی تقریر میں کہا: جرم ما این است کہ اسلام را می خواہیم، ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم اسلام کو چاہتے ہیں۔ مگر مولانا وحید الدین خان کے خیال کے مطابق واقعات اس کی تردید کرتے ہیں۔ امام خمینی کو جب ایران پر غلبہ حاصل ہوا تو پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ اپنے مخالفین کو پکڑ کر قتل کرنا شروع کردیا۔ حالانکہ یہ اسلامی طریقہ کے سراسر خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جب مکہ پر غلبہ حاصل ہوا تو وہاں آپ کے سخت ترین دشمن اور مخالف موجود تھے۔مگر آپ نے انھیں قتل کرنے کے بجائے انھیں معاف کردیا۔اس اسوۂ رسول کے مطابق امام خمینی کو عمومی معافی کا اعلان کرنا چاہیے تھا نہ کہ عمومی قتل کا۔ امام خمینی کے ساتھی یہ کہتے ہیں کہ انقلاب کے بعد ایران میں جن لوگوں کو قتل کیا گیا وہ سب منافق تھے۔ یہ اور لغو بات ہے۔ کیوںکہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں ہے کہ منافق کو قتل کردو۔قتل کاحکم مرتد کے لیے ہے نہ کہ منافق کے لیے۔ اگر یہ کہاجائے کہ امام خمینی نے جن لوگوں کو قتل کرایا وہ سب مرتد تھے تو یہ بھی سراسر لغو بات ہے۔ کیونکہ مرتد وہ نہیں ہے جس کو کوئی مفتی مرتد کہے۔ مرتد وہ ہے جو خود اپنے ارتداد کا اعلان کرے اور یہ یقینی ہےکہ ان لوگوں نے اپنے ارتداد کا اعلان نہیں کیاتھا۔ [1]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ مولانا وحید الدین خان ، ڈائری جلد اول(1983-1984) ،ص:26