آیت اللہ منتظری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آیت اللہ منتظری

مشہور شعیہ ایرانی عالم دین۔اور ایرانی حکومت کے نقاد۔ 1922 کو اصفہان میں پیدا ہوئے اپنی ابتدائی دینی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ شاہ کے زمانے میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ نسبتاً آزاد خیال قسم کے شعیہ عالم تھے۔آیت اللہ منتظری انقلابِ ایران کے اہم ترین رہنماؤں میں سے تھے مگر سنہ 1989 میں آیت اللہ منتظری اور آیت اللہ خمینی کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تھے۔آیت اللہ منتظری کو ایک زمانے میں امام خمینی کا جانشین مقرر کیا گیا تھا کہ لیکن سنہ 1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال سے کچھ ماہ قبل ایران میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر دونوں علماء میں تنازعے کے بعد ان سے یہ استحقاق واپس لے لیا گیا ۔بعد ازاں سنہ 1997 میں آیت اللہ منتظری نے امام خمینی کے جانشین آیت اللہ علی خامنہ ای کے اختیارات پر سوال اٹھایا جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کا مدرسہ بند کر دیا گیا بلکہ انہیں چھ برس نظر بندی میں گزرانے پڑے ۔ 2009 میں ہونے والے ایرانی انتخابات میں انہوں نے نسبتا معتدل اور آزاد خیال امیدوار موسوی کی حمایت کی اور انہوں نے جون 2009 میں ایرانی صدارتی انتخاب کے بعد صدر احمدی نژاد کی مذمت میں فتوٰی بھی دیا۔ 19دسمبر 2009 کو ان کا انتقال ہوا۔ ان کے جنازے میں بے شمار حکومت مخالف لوگوں نے شرکت کی۔

نگار خانہ[ترمیم]