ابراہیم بن ولید
| بنو امیہ |
| خلفائے بنو امیہ |
|---|
| معاویہ بن ابو سفیان، 661-680 |
| یزید بن معاویہ، 680-683 |
| معاویہ بن یزید، 683-684 |
| مروان بن حکم، 684-685 |
| عبدالملک بن مروان، 685-705 |
| ولید بن عبدالملک، 705-715 |
| سلیمان بن عبدالملک، 715-717 |
| عمر بن عبدالعزیز، 717-720 |
| یزید بن عبدالملک، 720-724 |
| ہشام بن عبدالملک، 724-743 |
| ولید بن یزید، 743-744 |
| یزید بن ولید، 744 |
| ابراہیم بن ولید، 744 |
| مروان بن محمد، 744-750 |
ابراہیم بن ولید، پورا نام ابراہیم بن ولید بن عبدالملک (عہد:۱۲۶ھ/۷۴۴ء تا ۱۲۷ھ/۷۴۵ء) (عربی زبان میں: ابراهيم ابن الوليد بن عبد الملك، انگریزی زبان میں: Ibrahim ibn al-Walid) ایک اموی خلیفہ تھا۔ اس نے بہت کم وقت کے لیے حکومت کی تھی۔ یزید ثالث کی ۱۲۶ھ میں وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ ابراہیم بن ولید ذی الحجہ ۱۲۶ھ میں تخت تشین ہوا۔ یزید ثالث نے حکومت کے مفاد کے لیے کوئی کام نہ کیا تھا۔ وہ کمزور اور برائے نام خلیفہ تھا بلکل اسی طرح ابراہیم بن ولید نے بھی حکومت کے لیے کوئی کام سر انجام نہ دیا اور وہ بھی بے حد کمزور اور برائے نام خلیفہ تھا۔ ۱۲۷ھ میں خلافت کے تھوڑے عرصے بعد ہی وہ اپنے مخالفوں کے خوف سے حکومت چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ اس نے اپنے عہد میں عبدﷲ ابن عمر کو عراق کا والی مقرر کیا تھا۔[1] ابراہیم بن ولید کے والد ماجد کا نام ولید بن عبدالملک تھا۔ اس کی تعلیم کے بارے میں کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہے۔
فہرست |
اختلاف بیعت [ترمیم]
ابراہیم بن ولید ایک برائے نام خلیفہ تھا کیونکہ اس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگوں نے بیعت کی تھی۔ اکثریت نے بیعت نہیں کی تھی۔ وہ کبھی خلیفہ کے لقب سے پکارا جاتا اور کبھی امیر کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ ایک جمعہ میں لوگوں نے اسے خلیفہ کہہ کر سلام کیا اور دوسرے جمعہ کو محض امیر کے لقب سے، آئندہ جمعہ کو نہ خلیفہ کہا اور نہ امیر کہا۔[2] ابراہیم بن ولید اسی تذبذب کے عالم میں چار ماہ کے عرصہ تک خلافت پر فائز رہا۔ ایک روایت کے مطابق وہ کل ستر (۷۰) روز تک خلیفہ رہا۔[3]
مروان بن محمد کی مخالفت [ترمیم]
اس کے بھائی کے زمانے میں مروان بن محمد نے علم بغاوت بلند کیا تھا لیکن اس کے بھائی نے اسے آذربائیجان اور آرمینیہ کی حکومت دے کر اس کی بغاوت کو مصالحت میں بدل دیا تھا لیکن یزید کے مرنے کے بعد مروان بن محمد، ابراہیم بن ولید کی سیاسی کمزوری سے ایک بار پھر فائدی اٹھایا۔
کتابیات [ترمیم]
حوالہ [ترمیم]
- ^ http://en.wikipedia.org/wiki/Ibrahim_ibn_al-Walid
- ^ ابن خلدون، ج، ۲ ، ص- ۳۲۵
- ^ تاریخ اسلام، خالد اسمعیل، ص- ۴۵۳