ابراہیم بن ولید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750


ابراہیم بن ولید، پورا نام ابراہیم بن ولید بن عبدالملک (عہد:۱۲۶ھ/۷۴۴ء تا ۱۲۷ھ/۷۴۵ء) (عربی زبان میں: ابراهيم ابن الوليد بن عبد الملك‎، انگریزی زبان میں: Ibrahim ibn al-Walid) ایک اموی خلیفہ تھا۔ اس نے بہت کم وقت کے لیے حکومت کی تھی۔ یزید ثالث کی ۱۲۶ھ میں وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ ابراہیم بن ولید ذی الحجہ ۱۲۶ھ میں تخت تشین ہوا۔ یزید ثالث نے حکومت کے مفاد کے لیے کوئی کام نہ کیا تھا۔ وہ کمزور اور برائے نام خلیفہ تھا بلکل اسی طرح ابراہیم بن ولید نے بھی حکومت کے لیے کوئی کام سر انجام نہ دیا اور وہ بھی بے حد کمزور اور برائے نام خلیفہ تھا۔ ۱۲۷ھ میں خلافت کے تھوڑے عرصے بعد ہی وہ اپنے مخالفوں کے خوف سے حکومت چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ اس نے اپنے عہد میں عبدﷲ ابن عمر کو عراق کا والی مقرر کیا تھا۔[1] ابراہیم بن ولید کے والد ماجد کا نام ولید بن عبدالملک تھا۔ اس کی تعلیم کے بارے میں کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہے۔

اختلاف بیعت[ترمیم]

ابراہیم بن ولید ایک برائے نام خلیفہ تھا کیونکہ اس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگوں نے بیعت کی تھی۔ اکثریت نے بیعت نہیں کی تھی۔ وہ کبھی خلیفہ کے لقب سے پکارا جاتا اور کبھی امیر کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ ایک جمعہ میں لوگوں نے اسے خلیفہ کہہ کر سلام کیا اور دوسرے جمعہ کو محض امیر کے لقب سے، آئندہ جمعہ کو نہ خلیفہ کہا اور نہ امیر کہا۔[2] ابراہیم بن ولید اسی تذبذب کے عالم میں چار ماہ کے عرصہ تک خلافت پر فائز رہا۔ ایک روایت کے مطابق وہ کل ستر (۷۰) روز تک خلیفہ رہا۔[3]

مروان بن محمد کی مخالفت[ترمیم]

اس کے بھائی کے زمانے میں مروان بن محمد نے علم بغاوت بلند کیا تھا لیکن اس کے بھائی نے اسے آذربائیجان اور آرمینیہ کی حکومت دے کر اس کی بغاوت کو مصالحت میں بدل دیا تھا لیکن یزید کے مرنے کے بعد مروان بن محمد، ابراہیم بن ولید کی سیاسی کمزوری سے ایک بار پھر فائدی اٹھایا۔

کتابیات[ترمیم]

حوالہ[ترمیم]

  1. ^ http://en.wikipedia.org/wiki/Ibrahim_ibn_al-Walid
  2. ^ ابن خلدون، ج، ۲ ، ص- ۳۲۵
  3. ^ تاریخ اسلام، خالد اسمعیل، ص- ۴۵۳