ابلاغ کے دو مرحلہ بہاؤ کا نظریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

انگریزی میں: Two-step flow of communication

جان ستیوارت مل کا کہنا ہے کہ "اکثریت اپنی رائے کا اکتساب اپنے اکابر کلیسا\مملکت یا رہنماؤں اور کتابوں سے نہیں کرتی، بلکہ وہ سب کچھ‍ اپنے ہی جیسے لوگوں سے حاصل کرتے ہیں اور ان چیزوں کی تحریک انہی ناموں سے ہوتی ہے"۔

اپنے اطراف میں زیر بحث اور بحث طلب باتوں میں دلچسپی انسانی جبلّت میں ہے۔ اپنے چاروں طرف کے موجودات کے متعلق جاننا چاہتا ہے، اور پھر وہ چاہتا ہے کہ وہ ناصرف اپنی زندگی کے ہر پہلو پر اس کا انطباق کرے بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ اور اس طرح معلومات ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرتی ہے۔ ایک ذہن سے دوسرے ذھن تک افکار کا سفر کئی ایک تبدیلیاں لاتا ہے اور کئی ایک نئے نفسیاتی مباحث کا آغاز ہوتا ہے۔ تخیلات کے بہاؤ اور پھیلاؤ کا یہ عمرانی و سیاسی نظریہ ابلاغ کا دومرحلہ بہاؤ سے متعلق ہے۔ یہاں ہم تشہیر سے متعلق اس عمرانی و سیاسی نظریے کے پس منظر، تاریخ، تنقید، انطباق اور جدید تحقیقات کا مختصر جائزہ لیں گے۔

یہ نظریہ تشہیر کے اطلاقی نظریات میں اولین نظریہ ہے جو ابلاغی عمرانیات پر تحقیقات کا حاصل ہے۔ 1948ء میں پال لیزرسفلد ، برنارد برلسن اور ہیزل گادت نے 1940ء کے صدارتی انتخابات کی انتخابی مہم پر تحقیق کے بعد لکھی جانے والی کتاب "عوام کی پسند" (The People Choice) میں ابلاغ کی سمت اور ذریعہ ابلاغ کے سامع کے ساتھ‍ ربط پر بحث کی۔ اگرچہ ان موضوعات پر 1920ء کی دہائی سے بحث جاری تھی لیکن اس کتاب میں ابلاغ کے مراحل قدرے مفصل وضاحت کی گئی اور سب سے پہلے واسطے کو "اولین رائے دہندہ" کا نام دیا او اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس نئے نظریے نے ابلاغ پر تحقیق کے نئے دروازے وا کیے۔ اس تحقیق کا مقصد صرف ذریعہ ابلاغ سے لے کر ھدف ابلاغ تک کے سفر کا مطالعہ نہیں تھا بلکہ اس سے ہٹ کر کچھ‍ تھا۔ ھدف ابلاغ سے آگے "اولین رائے" کس حد تک موزوں ہو سکتی ہے، کیا یہ مشتہر کی رائے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور یہ کہ اس کے اثرات کتنے دور تک جاتے ہیں۔ ابلاغ کے اسی بہاؤ پر علامہ اقبال کا یہ خوبصورت قطعہ برمحل آتا ہے:

آں حرف دلفروز کہ راز است و راز نیست
من فاش گویمت کہ شنید؟ از کجا شنید؟
دزدید از آسمان و بہ گل گفت شبنمش
بلبل زگل شنید و زبلبل صبا شنید

اولین رائے دہندہ[ترمیم]

رابرت میرتن کی تحقیقات کے مطابق اولین رائے دہندہ (opinion leader) کی رائے کو ہر معاملے میں وہی اولیت حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ معاملہ صرف چند مخصوصات کے لیے اس کی رائے اولین ہوتی ہے (میرتن 1948ء)۔ بعد میں لیزرسفلد اور کاتز نے اولین رائے دہندہ کی ماہیئت کے بارے میں مزید تحقیقات کیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کسی فرد کے فیصلوں اور افکار پر ذرائع ابلاغ سے زیادہ شخصی اثرات کار فرما ہوتے ہیں۔

لیکن ان تمام تحقیقات کے باوصف کاتز اور لیزرسفلد نے اولین رائے دہندہ کے خواص اور خصائل کے بارے میں نہیں بتایا۔ اولین رائے دہندہ کو اپنے متعلقہ معاملہ میں تمام کے تمام اوصاف کا حامل ہونا چاہیے۔ متعلقہ معاملے میں کامل توجہ اور اپنے اثرات کے افراد کے اشتراک اقدار اس ضمن میں بہت بڑا عامل عنصر ہے۔ وہ عموما مجلسی مزاج کا مالک ، لوگوں میں گھلنے ملنے والا اور سماجی طبع کا حامل ہوتا ہے۔ وہ اپنی معلومات اپنے دائرۂ کار کے اندر ایک دلچسپ انداز میں پھیلاتا ہے۔ کاتز اور لیزرسفلد کے مطابق اس کی پھیلائی گئی معلومات ابتدائی ذریعہ معلومات کی دی گئی معلومات سے بہت حد تک مختلف ہوتی ہیں۔

گلاک اور نکوسیا کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ اولین رائے دہندہ اپنی منتخب معلومات کے پرچار اور اس پر زور دینے والا اور اس پر سماجی طور پر دباؤ ڈالنے والا مآخذ ہے (1966ء)۔ چارلس گلاک کے مطابق اولین رائے دہندہ اپنے دائرۂ اختیار میں بطور رہنما اپنے اثرات اور غلبہ کو بڑھاتا ہے اور اس کا انحصار بہت حد تک اس کے تجربہ، ربط ضبط اور عوامی میل جول پر ہے۔


ناقدین کی آراء[ترمیم]

اگرچہ گاؤدے کی تحقیقات کی نسبت بالواسطہ ابلاغ پر کاتز اور لیزرسفلد کے کام کو زیادہ پذیرائی ملی لیکن پھر بھی اس نظریہ میں چند ایک سقم بہرحال ہیں۔

تجمیع کا طریقہ اس بابت صحیح تر نہ تھا جس میں ابلاغ کے اثرات قبول کرنے والوں کے نمونوں کی الگ الگ رائے لی گئی اور چند معروضی نتائج حاصل کیے گئے۔ جس سے ابلاغ کے اس بالواسطہ بہاؤ کے نظریے پر نظرثانی کی راہیں ہموار کیں۔ نمونوں کی رائے کے تقابل سے اس نظریے کے کئی ایک ضعیف نکات سامنے آئے۔

چونکہ تحقیقات بطور خاص ابلاغ و اثرات کے بہاؤ کے متعلق نہیں کی گئی تھیں اس لیے ان تحقیقات میں کئی ایک پہلو وضاحت طلب تھے۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نمونے کے افراد کا چناؤ کٹويں طریقے سے ہوا تھا، جو کہ بہت کم دفعہ ایسا ہوا ہے کہ معروضی نتائج دیتا ہے۔ اس میں نمونے کے فرد کی شخصی رائے مجموعی رائے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ان تحقیقات کی مکمل طور پر تغلیط نہیں کی گئی بلکہ اس پرانے نظریے پر مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سلسے میں بیشتر ماہرین نے اس نظریہ پر ماڈل اور جدول سازی بنانے کی مساعی کی ہیں لیکن سوائے اکا دکا کے کسی کو کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں حاصل ہوئی۔ بروسیئس اور ویمین نے کاتز اور لیزرسفلد کے نظریے کی بنیادی ہیئت پر مطالعہ کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے ابلاغ کے حقیقی بہاؤ کی پیچیدگیوں سے صرف نظر کیا اور اس عمل میں اولین رائے دھندہ سے ہٹ کر دیگر افراد کا معروضی مطالعہ کیا۔ بروسیئس اور ویمین کے تجربات نے ایسے افراد کی وضاحت کی جن کا ذاتی ابلاغ ، بہاؤ کے اس عمل کے تشکیلی ڈھانچے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ فرد ہی بنیادی اور اساسی طور پر اولین رائے دہندہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کے تشکیلی ڈھانچے کی مکمل توضیح کی کہ یہ افراد معلومات کے حصول کے بعد اس کی ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں، چھانتے ہیں اور پھر اس کی ترویج کرتے ہیں۔ یہ عمل دو مرحلہ بہاؤ کا عمل ہے۔