ابن ابی اصیبعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ان کا پورا نام “موفق الدین ابو العباس احمد بن سدید الدین القاسم” ہے، ان کا تعلق طب میں مشہور ایک خاندان سے تھا اور موفق الدین اس خاندان کے مشہور ترین فرد تھے، 600 ہجری میں دمشق میں پیدا ہوئے اور “ابا العباس” کنیت پائی اور پھر اپنے دادا کے لقب “ابن ابی اصیبعہ” سے مشہور ہوئے، درس وتدریس، طب ومعالجہ کے ماحول میں تربیت ہوئی، علمی اور نظری تعلیم دمشق اور قاہرہ میں پائی، بیمارستانِ نوری میں طب کی خدمات سر انجام دیں، ان کے اساتذہ میں مشہور نباتاتی عالم اور “جامع المفردات” کے مصنف “ابن البیطار” شامل ہیں، وہ بیمارستانِ ناصری میں بھی خدمات انجام دیتے رہے اور وہیں پر مشہور طبیب اور “اقراباذین” المعروف “دستورِ بیمارستانی” کے مصنف “ابن ابی البیان” کے درس سے بھی مستفید ہوئے.

ابن ابی اصیبعہ زیادہ عرصہ مصر میں نہیں رہے اور 635 ہجری کو صرخد (اب سوریا میں یہ مقام صلخد کے نام سے مشہور ہے) کے امیر عز الدین ایدمر کی دعوت پر شام کوچ کرگئے اور وہیں پر 668 ہجری کو انتقال کرگئے.

ابن ابی اصیبعہ اپنی کتاب “عیون الانباء فی طبقات الاطباء” سے مشہور ہوئے جو کہ آج بھی عربوں کے ہاں طب کی تاریخ کا سب سے بڑا مصدر سمجھی جاتی ہے.. ابن ابی اصیبعہ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کے علاوہ بھی تین کتابیں لکھی تھیں جو کہ ہم تک نہیں پہنچیں ان کتابوں کے نام یہ ہیں:

1- حکایات الاطباء فی علاجات الادواء. 2- اصابات المنجمین. 3- کتاب التجارب والفوائد.

آخری کتاب کی تصنیف شروع ہی نہیں کی گئی تھی.