ابن الخطیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ذكرى لإبن الحطيب

ان کا نام “لسان الدین ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن سعید بن الخطیب” ہے، حکمِ اول کے زمانے میں واقعۂ “ربض” کے بعد ان کا خاندان قرطبہ سے طلیطلہ آگیا اور وہاں سے مستقل طور پر لوشہ آگئے، رجب 713 ہجری میں لسان الدین کی پیدائش کے بعد ان کا خاندان غرناطہ منتقل ہوگیا جہاں ان کے والد سلطان ابی الحجاج یوسف کی خدمت میں داخل ہوئے، غرناطہ میں لسان الدین نے طب، فلسفہ، شریعت اور ادب کی تعلیم حاصل کی، اٹھائیس سال کی عمر میں جب 741 ہجری کو ان کے والد کو قتل کردیا گیا اس وقت وہ مترجم تھے، چنانچہ وزیر ابی الحسن الجیاب کی رازدانی میں اپنے والد کی جگہ مقرر کردیے گئے، اور جب ابی الحسن بن الجیاب کا طاعون سے انتقال ہوا تو وزارت کا یہ منصب انہیں سونپ دیا گیا، 755 ہجری کو جب ابو الحجاج یوسف کا قتل ہوا اور اقتدار ان کے بیٹے الغنی باللہ محمد کو منتقل ہوا تب بھی الحاجب رضوان وزارت کی سربراہی پر رہے اور ابن الخطیب وزیر رہے.

رمضان 760 ہجری کو ایک فتنہ کے نتیجے میں الحاجب رضوان کو قتل کردیا گیا اور الغنی باللہ کو اقتدار سے ہٹادیا گیا جو مغرب (مراکش) منتقل ہوگئے ان کے پیچھے ابن الخطیب بھی مغرب چلے آئے، دو سال بعد الغنی باللہ اپنا اقتدار واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ابن الخطیب کو ان کا منصب واپس کردیا، لیکن حاسدین جن میں سرِفہرست ابن زمرک تھے بادشاہ اور ابن الخطیب میں غلط فہمیاں پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے نتیجہ میں ابن الخطیب کو مغرب ملک بدر کردیا گیا جہاں 776 ہجری کو وہ قتل کردیے گئے.

ابن الخطیب نے ادب، تاریخ، جغرافیا، سفرنامہ، شریعت، اخلاق، سیاست، طب، موسیقی، اور علمِ نبات پر بہت سارے آثار چھوڑے، ان کی معروف تصانیف میں الاحاطہ فی اخبار غرناطہ، اللمحہ البدریہ فی الدولہ النصریہ، اعمال الاعلام قابلِ ذکر ہیں جبکہ ان کی کچھ علمی تصانیف یہ ہیں: “مقنعہ السائل عن المرض الہائل” جو کہ طاعون پر ایک مقالہ ہے جس کی وبا اندلس میں 749 ہجری کو پھیلی تھی اس مقالہ میں اس مرض کے ظہور کی علامات اور اس سے بچاؤ کی تدابیر ہیں، “عمل من طب لمن احب” یہ ایک طبی تصنیف ہے جس کی مدح “المقری” نے اپنی کتاب “النفح” میں خوب کی ہے، “الوصول لحفظ الصحہ فی الفصول” یہ موسمی امراض پر ایک طاقتور مقالہ ہے.