ابن العربی (صوفی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی (1240ء—1165ء)، دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق، قدوہ علماء، اور علوم كا بحر بیكنار ہیں۔ اسلامی تصوف میں آپ كو شیخ اکبر کے نام سے یاد كیا جاتا ہے اور تمام مشائخ آپ كے اس مقام پر تمكین كے قائل ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ تصوف اسلامى میں وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے انھوں نے ہی پیش کیا۔ ان کا قول تھا کہ باطنی نور خود رہبری کرتا ہے۔ بعض علما نے ان کے اس عقیدے کو الحاد و زندقہ سے تعبیر کیا ہے۔ مگر صوفیا انھیں شیخ الاکبر کہتے ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ جن میں فصوص الحكم اور الفتوحات المکیہ (4000 صفحات) بہت مشہور ہے۔ فتوحات المكيۃ 560 ابواب پر مشتمل ہے اور کتب تصوف میں اس کا درجہ بہت بلند ہے۔

Sheikh akbar.png

حالات زندگی

نام و نسب

ابن العربي.jpg

شیخ اکبر ابن العربی کا پورا نام محمد بن علی بن محمد ابن العربی الطائی الحاتمی تھا۔ اور آپ کے ہاتھ سے لکھے خطی نسخوں پر آپ یہی نام لکھتے ہیں۔ مشرق والے (خصوصا وہ لوگ جن کی مادری زبان فارسی ہے) آپ کو ابن عربی کہتے ہیں جب کہ مغرب میں آپ ابن العربی اور ابن سراقہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کو سب سے زیادہ شہرت الشیخ الأکبر کے لقب سے ہوئی اور مسلمانوں کی تاریخ میں یہ لقب کسی دوسری شخصیت کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

ولادت

آپ اندلس کے شہر مرسیہ میں ۲۷ رمضان المبارک ۵۶۰ھ مطابق ۱۱۶۵کو ایک معزز عرب خاندان میں پیدا ہوئے ، جو مشہور زمانہ سخی حاتم الطائی کے بھائی کی نسل سے تھا۔ آپ کے والد مرسیہ کے ہسپانوی الاصل حاکم محمد بن سعید مرذنیش کے دربار سے متعلق تھے۔ ابن عربی ابھی آٹھ برس کے تھے کہ مرسیہ پر مؤحدون کے قبضہ کرلینے کے نتیجہ میں آپ کے خاندان کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ چونکہ اشبیلیہ پہلے سےموحدون کے ہاتھ میں تھا ، اس لیے آپ کے والد نے لشبونہ (حالیہ پرتگال کا دار الحکومت لزبن) میں پناہ لی۔ البتہ جلد ہی اشبیلیہ کے امیرابو یعقوب یوسف کے دربار میں آپ کو ایک معزز عہدہ کی پیشکش ہوئی اورآپ اپنے خاندان سمیت اشبیلیہ منتقل ہو گئے ، جہاں پر ابن عربی نے اپنی جوانی کا زمانہ گذارا۔

ابتدائی تعلیم

ابتدائی تعلیم کے مراحل آپ مرسیہ اور لشبونہ میں طے کر چکے تھے۔ اشبیلیہ میں آپ کو اپنے وقت کے نامور عالموں کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت ملی۔ مروجہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ آپ کا بہت سا وقت صوفیاءکی خدمت میں گذرتا تھا۔ تصوف کا سلسلہ آپ کے خاندان میں قائم تھا ۔

اسی طرح آپ کے ماموں ابو مسلم الخولانی ،جو ساری ساری رات عبادت میں گذارتے تھے اور جب ان کی ٹانگیں تھک جاتی تھیں، تو انہیں جھڑیوں سے مارتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہیں مارنا بہتر ہے اپنی سواری کے جانور کو مارنے سے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کیا رسول اللہ صلعم کے صحابہ سمجھتے ہیں کہ حضور صرف ان کے لیے ہیں ۔ اللہ کی قسم ہم ان پر اس طرح ہجوم کر کے آپ کی طرف بڑھیں گے کہ انہیں پتا چل جائے گا کہ انہوں نے اپنے پیچھے مردوں کو چھوڑا ہے ، جو آپ کے مستحق ہیں


ابن عربی لکھتے ہیں کہ میں نے اس چیز کا مشاہدہ اپنے زمانہ جاہلیت میں کیا تھا۔TP اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ میرا دخول اس طریقہ میں ۵۸۰ھ میں ہوا ، جبکہ آپ کی عمر بیس برس کی تھیTP PT۔ اس بارہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ اشبیلیہ کے کسی امیر کبیر کی دعوت میں مدعو تھے ، جہاں پر آپ کی طرح دوسرے روساءکے بیٹوں کو بلایا گیا تھا ۔ کھانے کے بعد جب جام گردش کرنے لگا اور صراحی آپ تک پہنچی اور آپ نے جام کو ہاتھ میں پکڑا ، تو غیب سے آواز آئی: ‭"‬ اے محمد کیا تم کو اسی لئے پیدا کیا گیا تھا؟‭"‬ آپ نے جام کو ہاتھ سے رکھ دیا اور پریشانی کے عالم میں دعوت سے باہر نکل گئے۔ گیٹ پر آپ نے وزیر کے چرواہے کو دیکھا ، جس کا لباس مٹی سے اٹا ہوا تھا ۔ آپ اس کے ساتھ ہو لیے اور شہر سے باہر اپنے کپڑوں کا اس کے کپڑوں سے تبادلہ کیا ۔ کئی گھنٹوں تک ویرانوں میں گھومنے کے بعد آپ ایک قبرستان پر پہنچے، جو نہر کے کنارے واقع تھا۔ آپ نے وہاں پر ڈیرا لگانے کا فیصلہ کیا اور ایک ٹوٹی ہوئی قبر میں جا اترے۔ دن اور رات ذکر الٰہی میں مصروف ہو گئے اور سوائے نماز کی ادائیگی کے وقت کے اس میں سے نہ نکلتے تھے ۔ چار روز کے بعد آپ باہر نکلے ، تو علوم کا ایک دریا لے کر لوٹےTP PT۔ آپ نے اس کے بعد اپنے شیخ کی زیر نگرانی ایک نو ماہ کا چلہ کاٹا۔ ابن سودکین نے ا سے روایت کیا : ‭"‬ میری خلوت فجر کے وقت شروع ہوئی اور فتح (اسرار کا کھلنا ) طلوع الشمس سے قبل وقوع میں آئی۔ فتح کے بعد مجھ پر ‭"‬ ابدار‭"‬ کی حالت وارد ہوئی اور اس کے علاوہ دوسرے مقامات ترتیب وار آئے۔ میں اپنی جگہ پر قائم رہا چودہ مہینوں تک اور ان سارے اسرار تک رسائی حاصل کی ، جنہیں میں نے فتح کے بعد تالیف کیا ہے ۔ اور میری فتح اس لحظہ میں ایک جذب (کی طرح ) تھی‭TP PT"‬ ۔ یہاں پر ابن عربی نے جس مقام ‭"‬ ابدار‭"‬ کا ذکر کیا ہے ، اس کی تشریح آپ نے دوسری جگہ پر ان الفاظ میں فرمائی ہے : ‭"‬ ابدار کو انے عالم میں اپنی تجلی کی مثال کے لئے اپنے حکم سے نصب کیا ہے ۔ پس وہ خلیفہ الٰہی ہے ، جو عالم میں اللہ کے اسماءاور احکام اور رحمت اور قہر اور انتقام اور عفو کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے ، جیسے سورج ظاہر ہوتا ہے چاند میں اور جب وہ پورے کو روشن کر دیتا ہے ، تو اس کو بدر (پورا چاند) کہتے ہیں ۔ گویا سورج اپنے آپ کو بدر کے آئینے میں دیکھتا ہی‭TP PT"‬۔

سرکاری ملازمت

آپ پہلے پہل سرکاری ملازمت میں کاتب (سیکرٹری) کے عہدے پر فائز تھے، جو دیوان سلطنت کا اہم عہدہ تھا ۔ آپ کے والد وزیر ریاست تھے اور آپ کے خاندان کا شمار ملک کے باوقار لوگوں میں ہوتا تھا ۔ اپنے روحانی تجربہ کے بعد آپ نے ملازمت سے ہاتھ اٹھا لیا اور طریقہ کے دوسرے لوگوں کی طرح فقر کو اپنا شعار بنایا

سفر تيونس

ابن عربی نے پہلی بار ۵۹۰ھ میں اندلس کی سر زمین سے باہر کا سفر کیا ۔ آپ نے تونس میں ابوالقاسم بن قسی ، جو الغرب(مراكش) میں المراودون کے خلاف اٹھنے والے صوفیوں کے بانی قرار دیئے جاتے ہیں ، کی کتاب خلع النعلین کا درس لیا۔ بعد میں آپ نے اس کتاب کی شرح پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ۔ اسی سفر کے دوران آپ کی ملاقات ابو محمد عبد العزیز بن ابو بکر القریشی المہدوی کے ساتھ ہوئی ، جن کی فرمائش پر آپ نے اندلس کے صوفیا کے تذکروں پر مشتمل اپنی کتاب روح القدس لکھی۔ اس کتاب میں پچپن صوفیا کا تعارف کرایا گیا ، جن کے ساتھ آپ کا رابطہ رہا یا جن کے ساتھ آپ کا شاگردگی کا رشتہ تھا۔ غالباً اسی سفر کے دوران آپ کو ابو محمد عبداللہ بن خمیس الکنانی کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا، جو پیشہ کے اعتبار سے جراح (سرجن) تھے اور جن کا تذکرہ آپ نے اپنی کتب روح القدس اور درہ الفاخرہ میں کیا ہے ۔ ان کی صحبت میں آپ ایک سال سے کچھ کم عرصہ رہے تھے

واپسی کے راستے میں آپ عبد اللہ القلفاظ سے ملاقات کے لیے جزیرہ طریف میں رکے۔ وہاں پر ان کے درمیان ایک دلچسپ بحث چل نکلی۔ سوال یہ تھا کہ شاکر غنی اور صابر فقیر میں سے کون افضل ہے ۔ ابن عربی نے اپنے لیے فقر کا ہی راستہ اختیار کیا تھا ۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ‭"‬ میں کسی حیوان کا ہرگز مالک نہیں ہوں اور نہ ہی اس کپڑا کا، جس کو میں پہنتا ہوں۔ کیونکہ وہ بھی میں معین شخص سے ، جو مجھے اس میں تصرف کا اذن دے، بطور عاریت لے کر پہنتا ہوں ۔ اور اس زمانہ میں کہ جس میں کسی چیز کا مالک ہوتا ہوں ، اسی وقت یا بذریعہ ہبہ کے یا بذریعہ آزاد کرنے کے ، اگر وہ چیز قابل آزاد کرنے کے ہو، خارج ہو جاتا ہوں۔ یہ حال مجھے اس وقت حاصل ہوا ، جبکہ میں نے خدا تعالٰیٰ کے لیے عبودیت اختصاص کے تحقق کا ارادہ کیا تھا ۔ تو اس وقت مجھے کہا گیا کہ تیرے لیے یہ بات درست نہیں ہو سکتی ، حتیٰ کہ تجھ پر کسی کی حجت قائم نہ ہو ۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰیٰ چاہے ، تو اس کی بھی حجت مجھ پر نہ ہو ۔ تو مجھے کہا گیا کہ یہ بات تمہارے لیے کس طرح درست ہو سکتی ہے کہ خدا تعالٰیٰ کی حجت تم پر قائم نہ ہو۔ میں نے کہا کہ دلائل اور حجج منکروں پر قائم کئے جاتے ہیں نہ کہ خدا تعالٰیٰ کی توحید کا اقرار کرنے والوں پر ۔دلائل اور براہین دعاوی اصحاب حظوظ نفس و مال و متاع والوں پر قائم کئے جاتے ہیں ۔ اور جو کہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اور نہ اموال و متاع دنیا میں کوئی حظ و حصہ ہے ، اس پر حجج و دلائل قائم نہیں کئے جاتی‭ "‬ ۔

سفر اشبيليہ سے واپسی

جب آپ سفر سے اپنے شہر اشبیلیہ واپس لوٹے، تو ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا ۔ آپ لکھتے ہیں : ‭"‬ میں نے افریقہ میں جامع تيونس سے مشرقی طرف واقع ابن مثنیٰ کے محل میں نماز عصر کے وقت ایک معین دن، جس کی تاریخ میرے پاس ہے ، کچھ شعر لکھتے تھے۔ پھر میں اشبیلیہ لوٹا ۔ اور دونوں شہروں کے درمیان تین مہینوں کا قافلے کا سفر حائل ہے اگلے ہی سال ابن عربی پھر فاس (مراکش) میں تھے ۔ جب المؤحدون فوجیں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اندلس بھیجی گئیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عربی کا رجحان زیادہ سے زیادہ شمالی افریقہ کی طرف ہوتا جا رہا تھا ، جہاں پر آپ کو صوفیا کی صحبت ملتی تھی، جن کی قربت آپ کی اپنی روحانی ترقی کے لیے اہم تھی۔ مگر اندلس میں آپ کے والدین مقیم تھے اور دوسرے رشتہ دار رہتے تھے ۔ آپ کی دو غیر شادی شدہ بہنیں تھیں۔ خود آپ کی شادی غالباً ہو چکی تھی۔ کیونکہ آپ اپنی صالحہ بیوی مریم بنت محمد بن عبدون بن عبد الرحمن البجائی کا ذکر کرتے ہیں ، جو ایک امیر کبیر کی بیٹی تھی اور آپ کی طرح طریقہ پر چلنے کی متمنی تھی

فاس

۵۹۳ھ میں ابن عربی پھر ایک بار فاس میں تھے ، جہاں پر ایک کشف میں آپ کا روحانی درجہ دکھایا گیا ۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ مسجد الازہر میں، جو عین الجبل کے پہلو میں واقع ہے ، آپ نے عصر کی نماز کے دوران ایک نور کو دیکھا ، جو ہر چیز کو منور کر رہا تھا ، جو آپ کے سامنے تھی ، جب کہ آپ یہ تمیز بالکل کھو بیٹھے تھے کہ آگے کیا ہے اور پیچھے کیا۔ اور آپ کشف میں جہتوں میں فرق نہ کر سکتے تھے ، بلکہ ایک گلوب کی طرح تھے اور جہتوں کو صرف ایک مفروضے کے طور پر نہ کہ حقیقی رنگ میں تصور کر سکتے تھے ۔ اس قسم کا تجربہ آپ کو پہلے بھی ہو چکا تھا ، مگر اس کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کو صرف سامنے کی چیزیں دکھائی دیتی تھیں، جب کہ اس کشف نے ہر طرف کی چیزوں کو ظاہر و باہر کر دیا تھا ۔

۵۹۳ھ میں فاس کے مقام پر آپ پر خاتم الاولیاءکی حقیقت کھولی گئی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جلد بعد وطن جانا پڑا ، جس کا سبب شاید یہ ہو کہ آپ کے والد کی وفات کے بعد، جو غالباً ۵۹۱ھ کے لگ بھگ ہوئی تھی، آپ پر گھر بار کی ذمہ داری آن پڑی تھی۔ چنانچہ جب سے آپ کے خاندان نے آبائی وطن مرسیہ کو چھوڑا تھا ، آپ پہلی بار وہاں پر لوٹ کر گئے ، جس کا مقصد وہاں کی جائیداد کو ٹھکانے لگانا ہو سکتا ہے۔ البتہ رستے میں آپ نے مریہ کے مقام پر ، جہاں پر ابن عریف (مصنف محاسن المجالس) نے صوفیوں کے لیے تربیتی دائرہ قائم کر رکھا تھا ، اپنی کتاب مواقع النجوم صرف گیارہ روز کے اندر تصنیف کی ۔

595ھ یہ ۵۹۵ھ کی بات ہے ، جس سال مرسیہ کے مقام پر آپ کے دل میں اللہ کی طرف سے یہ بات ڈالی گئی کہ میرے بندوں کو اس کرم کے بارے میں بتاو ، جو میں نے تم پر کیا ہے ۔

بہنوں كي شادي

الدرۃ الفاخرہ میں شیخ صالح العدوی کی سوانح حیات میں ابن عربی لکھتے ہیں کہ شیخ نے آپ سے آپ کی بہنوں کے بارے میں پوچھا، جن کی ابھی شادی نہ ہوئی تھی۔ آپ نے بتایا کہ بڑی کی منگنی امیر ابو الاعلیٰ بن غاذون کے ساتھ ہو چکی ہے ۔ مگر شیخ نے کہا کہ امیر اور ابن عربی کے والد دونوں اس شادی سے پہلے وفات پا جائیں گے اور ماں اور دونوں بہنوں کی کفالت ان کے کندھوں پر آن پڑے گی۔ چنانچہ یہی ہوا اور ہر طرف سے ابن عربی پر زور ڈالا جانے لگا کہ وہ ریاست کی ملازمت اختیار کر لیں۔ بلکہ خود امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کو یہی پیغام ملا ، جس کے لانے والے قاضی القضاۃ یعقوب ابو القاسم بن تقی تھے ، مگر آپ نے انکار کر دیا۔ آپ کو امیر المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہونے کو کہا گیا ۔ امیر نے آپ کی بہنوں کے بارے میں پوچھا اور مناسب رشتہ تلاش کر کے خود ان کی شادی کرنے کی پیشکش کی، مگر ابن عربی نے کہا کہ وہ یہ کام اپنے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ امیر نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ غالباً اس طرح وہ ابن عربی کے والد کی خدمات کا صلہ دینا چاہتے تھے۔ جب ابن عربی نے بات کو ماننے سے انکار کر دیا ، تو امیر المؤمنین نے انہیں سوچ کر جواب دینے کو کہا اور اپنے دربان کو ہدایت کی کی جب ان کی طرف سے جواب آئے ، تو خواہ دن ہو یا رات ، اس کی اطلاع انہیں فوراً کر دی جائے۔ ابن عربی وہاں سے رخصت ہو کرگھر لوٹے ، تو امیر کا ایلچی امیر کا پیغام لے کر پہنچ گیا ، جس میں امیر نے اپنی پیشکش کو دوہرایا تھا ۔ آپ نے ایلچی کا شکریہ ادا کیا اور اسی روز اپنے خاندان سمیت فاس کے لیے روانہ ہو گئے۔ دونوں بہنوں کی شادی آپ نے وہاں پر کر دی اور اس طرف سے فارغ ہو کر اپنی دیرینہ خواہش مکہ کی زیارت کے بارے میں سوچنے لگے ۔ آپ کی والدہ کا غالباً انہی دنوں میں انتقال ہوا ، کیونکہ آپ لکھتے ہیں کہ انہوں نے بیوگی کے سات سال دیکھے۔ آپ کا ارادہ عرصہ سے مشرق کی طرف کوچ کر جانے کا تھا ، مگر ماں اور بہنوں کی ذمہ داری کے سبب اس کو ملتوی کرتے رہے ۔ مغرب آپ جیسے عبقری انسان کے لیے بہت محدود تھا ۔ اور آپ کو نظر آ رہا تھا کہ جب تک آپکی پذیرائی مشرق میں نہیں ہو گی ، اس وقت تک آپکا مشن دنیائے اسلام کے اندر نہ پھیل سکے گا۔

۵۹۷ھ کے ماہ رمضان میں ابن عربی اپنے ساتھی محمد الحصار کی معیت میں بجایہ میں داخل ہوئے ۔ اسی سال آپ کے شیخ ابو النجاءالمعروف بہ ابن مدین نے ، جو اس شہر کے باسی تھے ، وفات پائی

بجایہ سے آپ ۵۹۸ھ کو تونس پہنچے، جہاں پر آپ اپنے دوست ابو محمد عبد العزیز بن ابو بکر القریشی المہدوی کے ہاں ٹہرے۔ وہاں پر آپ نے آٹھ سال پہلے اپنے قیام کے دوران دوست کی فرمائش پر اپنی کتاب روح القدس رقم کی تھی ۔ اس دفعہ بھی آپ نے وہاں پر ایک کتاب انشاءالدوایرلکھنی شروع کی ، جو آگے سفر پر روانہ ہو جانے کے سبب مکمل نہ کی جا سکی۔ اس کی تکمیل بعد میں مکہ میں ہوئی

تيونس سے آپ اپنے ساتھی محمد الحصار سمیت مصر پہنچے ، جو وہاں پر وفات پا گئے ۔ آپ کی منزل مکہ تھی،جہاں پر آپ القدس (یروشلم) سے ہوتے ہوئے وارد ہوئے ۔ مکہ آپ کے نزدیک عالم الغیب اور عالم الشہود کا مقام اتصال ہے اور یہیں پر آپ نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ کی تصنیف کی بنیاد ۵۹۹ھ میں رکھی ، جس کی تکمیل ۶۲۷ھ میں جا کر ہوئی ۔ بلکہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد بھی ۶۳۵ھ تک اس میں اضافہ کیا جاتا رہا ، جب ابن عربی نے اس کی دوسری نوشت اپنے ہاتھ سے تیار کی ۔ یہاں پر یہ امر ملحوظ رہے کہ لفظ فتح کے عربی زبان میں کئی معانی ہیں ۔ اردو میں عام طور سے اس لفظ سے جيت مراد لیا جاتا ہے ، جب کہ عربی میں فتح کے معنی کھولنے اور راز افشا کرنے کے بھی ہیں ۔ فتوحات مکیہ، جس کا پورا عنوان فتوحات مکیہ فی معرفۃ الاسرار المالکیہ و الملکیہ ہے ، سے مراد مکہ کو فتح کرنا نہیں ہے ، بلکہ مکہ کے سر بستہ رازوں پر سے پردہ اٹھانا ہے اور اس کے روحانٰ خزائن تک رسائی حاصل کرنا ہے ۔ اس کا تذکرہ اپنی کتاب روح القدس میں علیحدہ طور پر بھی کیا ہے ۔ عبد الوہاب الشعرانی (المتوفی ۹۷۳ھ) نے فتوحات مکیہ کا خلاصہ لواقع الانوار القدسیہ المنقاۃ من الفتوحات المکیہ کیا۔ پھر اس خلاصہ کو خلاصہ بعنوان الکبریت الاحمر من علوم الشیخ الاکبر پیش کیا ۔

مکہ میں قیام

مکہ میں ابن عربی کا پہلا قیام دو برس کا تھا ، جس کے دوران وہاں کے علمی اور مذہبی حلقوں میں آپ کی وجہ سے ایک غیر معمولی ہلچل پیدا ہوئی۔ آپ کی تصنیفی سرگرمیوں کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے اس دوران میں اپنی کتاب روح القدس کے مسودے کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ تین دوسری کتب ( مشکوٰۃ الانوار، حلیۃ الابدال اور تاج الرسائل) تحریر کیں۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ آپ نے فتوحات مکیہ پر کام شروع کیا ، جس کے ۵۶۰ ابواب کی فہرست ابتدائے کار میں ہی تیار کر لی گئی تھی۔ مصنف کو اندازہ تھا کہ یہ کام ایک پوری عمر کا متقاضی تھا ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ آپ کے لکھنے کی رفتار فی روز تین جزو تھی۔ جس میں آپ سفر یا حضر میں کبھی ناغہ نہ کرتے تھے ۔ آپ نے اپنی مصنفات کی تعداد ۲۵۱ دی ہے ، جب کہ عثمان یحییٰ کی ببلیوگرافی میں آپ کی ۸۴۶ کتب کے عنوان درج کئے گئے ہیں ۔

شاعري

آپ بلند پایہ شاعر بھی تھے ۔ مکہ میں آپ کی شاعری اپنے نقطہءعروج پر پہنچی ، جہاں پر آپ کا دوستانہ تعلق ابو شجاع ظاہر بن رستم بن ابو رجا الاصفحانی اور ان کے خاندان کے ساتھ تھا، جس کی نوخیز لڑکی نظام عین الشمس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آپ کی شاعری کی روح بنی۔ خود آپ نے اپنے دیوان ترجمان الاشواق میں نظام کا ذکر تعریفی رنگ میں کیا ہے ۔ مگر بعد میں جب آپ پر مخالفوں نے عاشقانہ شاعری کرنے کا الزام لگایا ، تو آپ نے اس کو رد کرنے کے لیے اس دیوان کی شرح (ذخائر الاعلاق) لکھی ، جس میں ثابت کیا کہ آپ کے اشعار تصوف کے مروجہ طریق سے ذرہ بھر ہٹ کر نہیں ہیں۔

بغداد، موصل اور دوسرے شہروں ميں قيام

ابن عربی ۶۰۱ھ میں مکہ سے روانہ ہو کر بغداد، موصل اور دوسرے شہروں سے ہوتے ہوئے ۶۰۳ھ میں قاہرہ پہنچے ، جہاں پر آپ پر ارتداد کا الزام لگایا گیا ، مگر ایوبی حاکم الملک العادل نے آپ کی جان بچائی ۔ ۶۰۴ھ میں آپ پھر مکہ میں وارد ہوئے اور ایک سال تک وہاں پر قیام کیا ۔ اس کے بعد آپ ایشیاءکوچک چلے گئے ، جہاں سے ۶۰۷ھ میں قونیا پہنچے ۔ یہاں پر سلطان کیکاؤس نے آپ کا ولولے کے ساتھ استقبال کیا اور آپ کی رہائش کے لیے ایک مکان بنوایا ، جسے آپ نے بعد میں ایک بھکاری کو دے دیا۔ قونیا میں آپ کی آمد مشرقی تصوف میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ بنی۔ جس کا وسیلہ آپ کے شاگرد اور سوتیلے بیٹے صدر الدین قونوی بنے ، جن کی ماں سے آپ کی شادی ہوئی ۔ صدر الدین قونوی ، جو آگے چل کر تصوف کے علائم میں شمار ہوئے ، مولانا جلال الدین رومی کے قریبی دوستوں میں سے تھے ۔ آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم پر شرح لکھی ، جو آج تک حرف آخر سمجھی جاتی ہے ۔ وہاں سے آپ بغداد تشریف لائے ، وہاں پر یا جیسے دوسری روایات میں آتا ہے ، مکہ میں آپ کی ملاقات شیخ شہاب الدین عمر بن محمدالسہروردی رسے ہوئی ۔ دونوں دیر تک بغیر کچھ کہنے کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے رہے ۔ پھر جدا ہو گئے ۔ جب بعد میں شیخ شہاب الدین سے پوچھا گیا کہ آپ نے شیخ محی الدین کو کیسا پایا ، تو انہوں نے کہا ۔‭"‬ میں نے انہیں ایک سمندر کی طرح پایا ، جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے ‭"‬ ۔ ابن عربی کی رائے شیخ شہاب الدین کے بارہ میں یہ تھی۔ ‭"‬ میں نے انہیں ایک عبد صالح پایا ‭"‬

اگلے برسوں میں ابن عربی نے متعدد سفر کئے ۔ ۶۱۲ھ میں آپ مکہ میں تھے ۔ اس دوران آپ کے تعلقات صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الملک الظاہر کے ساتھ ، جو حلب کا حاکم تھا ، دوستانہ تھے ۔ ایک واقعہ سے ، جس میں آپ اسے ایک شخص کی سزائے موت کو معاف کرنے کی سفارش کرتے ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ وہ آپ کی کس قدر عزت کرتا تھا ۔

وفات

۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ مطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اوجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے ۔

اہم تصانیف

Ibnarabi.jpg
  • فصوص الحِکم
  • روح القدس فی مناصحة النفس (اصلاح نفس کا آئینہ حق)
  • الاسفار عن نتائج الأسفار (روحانی اسفار اور ان کے ثمرات)
  • فتوحات مكيۃ
  • التدبيرات الالهية في اصلاح المملكة الانسانية ( انسانی مملکت کی اصلاح میں خدائی تدبیریں )
  • عنقاء مغرب في معرفۃ ختم الاولياء وشمس المغرب
  • العقد المنظوم والسر المختوم
  • محاضرة الابرار ومسامرة الاخيار
  • مشاهد الاسرار القدسیۃ ومطالع الانوار الالهيۃ
  • ترجمان الاشواق (عارفانہ كلام ابن عربي)
  • تنزل الاملاك في حركات الافلاك
  • ابن عربي كى مكمل كتب بمع رسائل

اردو تراجم كتب ابن عربي

ابن عربي كى مندرجہ ذيل كتابوں كا اردو ترجمہ موجود ہے

فصوص الحكم

  • فصوص الحكم ترجمہ عبد الغفور دوستى (1889 حيدرآباد دكن)
  • فصوص الحكم ترجمہ سيد مبارك علي (1894 كانپور)
  • فصوص الحكم ترجمہ مولوى عبد القدير صديقي يہ كتاب پنجاب يونيورسٹى كے نصاب ميں شامل ہے
  • مولانا اشرف علي تہانوى نے فصوص الحكم پر تعليقات درج كي ہیں كتاب كا نام ہے خصوص الكلم جس مين انہوں نے ابن عربي كا دفاع كيا ہے
  • پیر مہر على شاه صاحب كى كتاب تحقيق الحق في كلمۃ الحق اور ملفوظات مہريہ ابن عربي كے دفاع ميں اپنى مثال آپ ہے

فتوحات مكيہ

  • فتوحات مکیۃ ترجمہ مولوي فضل خان مرحوم ( وفات 1938) جس ميں پہلے 30 فصول كا ترجمہ كيا گیا تہا
  • فتوحات مکیۃ ترجمہ سليم چشتي 1987 تك ترجمے کی چار جلدیں شائع ہوئيں
  • فتوحات مکیۃ ترجمہ فاروق القادرى پہلی 2 فصول كا ترجمہ 2004 ميں شائع ہوا ہم اميد كرتے ہيں کے یہ عمل پایہ تكمیل كو پہنجے گا

رسائل ابن عربي

  • ابن عربي كي جار رسائل
    1. شجرة الكون
    2. الكبريت الاحمر
    3. الامر المحكم والمربوط
    4. كتاب الاخلاق و الامر

كا ترجمہ 2001 میں لاہور سے شائع ہوا ہے مترجم محمد شفيع (مفتى اعظم پاكستان) ہیں

رسائل ابن العربى (جلد اول)

  • ابن عربی فاونڈیشن نے عصری تقاضوں كو مدنظر ركھتے ہوئے جدید اور عصری اردو میں شیخ اكبر كے سہل تراجم كرنے كا بیڑہ اٹھایا اس سلسلے كی پہلی كڑی رسائل ابن عربی (جلد اول) جون 2008 میں منظر عام پر آئی اس كتاب میں شیخ اكبر كے درج ذیل كتب اور رسائل شامل كئے گئے ہیں:
    • كتاب الجلال والجمال
    • كتاب الوصيۃ
    • حليۃ الابدال
    • نقش الفصوص
    • رسالۃ الفناء في المشاہده
    • كتاب اصطلاحات الصوفيۃ
    • رسالہ الي امام الرازي
    • كتاب الألف و هو كتاب الأحديہ
    • القسم الإلھي
    • الجلالہ و هو كلمة الله
    • كتاب التراجم
    • ميم واو نون

ناشر : دار التذكیر، اردو بازار لاہور – پاكستان۔
مترجم : ابرار احمد شاہی ۔
صفحات: 350

التدبيرات الإلهية في اصلاح المملكة الإنسانية

انسانی مملکت کی اصلاح میں خدائی تدبیریں

تراجم كتب شیخ اكبر محمد ابن عربی كے سلسلے كی دوسری كتاب "التدبيرات الالهية في اصلاح المملكة الانسانية" مملكت انسانی كی اصلاح میں خدائی تدبیریں دسمبر 2008 كو شائع ہوئی۔

ناشر: ابن العربی فاونڈیشن – پاكستان
مترجم : ابرار احمد شاہی
صفحات: 300 عنقریب اس کتاب کا دوسرا ایڈشن شائع ہو گا جو کہ تحقیق شدہ متن اور شرح پر مشتمل ہو گا

تدوین عربی متن: ابرار احمد شاہی، احمد محمد علی (مصر) تصحیح عربی متن: سلطان عبد العزیز المنصوب اردو ترجمہ: ابرار احمد شاہی افادہ از شرح التدبیرات للشیخ البیتامی صفحات: 500 پیشکش ابن العربی فاونڈیشن

مشكاة الأنوار فيما روي عن الله من الأخبار

101 احادیث قدسی مکمل عربی متن اردو ترجمے اور شیخ اکبر کے نزدیک احادیث کی اہمیت پر شامل مقدمے کے ساتھ ابن عربی فاونڈیشن پاکستان سے شائع ہوئی۔ تحقیق عربی متن: اسٹیفن ہرٹنسٹائن اور مارٹن ناٹ کٹ اردو ترجمہ: ابرار احمد شاہی حواشی از فتوحات مکیہ و کلام شیخ دوسرا ایڈیشن سن 2011 صفحات: 264

الإسفار عن نتائج الأسفار

روحانی اسفار اور ان کے ثمرات

تحقیق شدہ مکمل عربی متن، اردو ترجمے کے ساتھ ابن عربی فاونڈیشن سے شائع ہوئی۔

تدوین عربی متن: ڈینس گرل (داؤد الفقیر) فرانسیسی اسکالر، ابرار احمد شاہی ترجمہ: ابرار احمد شاہی سال اشاعت: 2010 صفحات: 256 پیشکش ابن العربی فاونڈیشن

روح القدس فی مناصحة النفس

اصلاح نفس کا آئینہ حق

مخطوط یونیورسٹی a79 سے اخذ شدہ عربی متن، سلیس اردو ترجمے اور حواشی کے ساتھ ابن العربی فاونڈیشن کی جانب سے شائع ہوئی۔ تدوین عربی متن: ابرار احمد شاہی تصحیح عربی متن: سلطان عبد العزیز المنصوب اردو ترجمہ: ابرار احمد شاہی سال اشاعت: دسمبر 2012 صفحات: 528 پیشکش: ابن العربی فاونڈیشن

حوالہ جات

  • ماخوذ از شیخ اکبر محی الدین ابن عربی مؤلف : شفیع بلوچ ، مکتبہ جمال لاہور ۔

بیرونی روابط