ابن عابدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

( 1198ھ ۔ 1252ھ / 1783ء ۔ 1836ء ) ابن عابدین سے دو شخصیات مشہور ہیں ∗(1)محمد امين بن عمر بن عبد العزيز عابدين دمشقی المعروف بہ ابن عابدین شامی شام کے فقیہ اور فقہ حنفی کے امام تھے۔
∗(2)محمد بن محمد بن عمر علاؤالدین(1244ھ/1828ء۔1306ھ/1889ء) اپنے والد کی وجہ سے ابن عابدین کہلائےیہ بھی فقہ حنفی کے بڑے مفتی تھے۔یہ المجلۃ الشریعۃ کے مرتبین میں شامل رہے،سب سے اہم قرۃ عیون والاخبارہے جواپنے والد کے حاشیہ (ابن عابدین)کا تکملہ ہے[1]

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نسب نامہ حضرت علی تک جا پہنچتا ہے۔

محمد امين بن عمر بن عبد العزيز بن احمد بن عبد الرحيم بن محمد صلاح ‏الدين بن نجم الدين بن محمد صلاح الدين بن نجم الدين بن كمال بن تقی ‏الدين المدرس بن مصطفى الشہابی بن حسين بن رحمت اللہ بن احمد فانی بن ‏علی بن احمد بن محمود بن احمد بن عبد اللہ بن عز الدين بن عبد اللہ بن قاسم بن ‏حسن بن اسماعيل بن حسين نتيف بن احمد بن اسماعيل بن محمد بن اسماعيل ‏اعرج بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن ‏امام حسین بن علی رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

فقہ حنفی کی خدمت[ترمیم]

ان کی ولادت شام کے دارالحکومت دمشق میں ہوئی والد بچپن میں انتقال کر گئےشروع میں والد کے کاروبار میں مصروف رہے بعد میں علمی شغف میں مصروف ہوگئے۔محمد شاکر السالمی العمری العقاد سے علوم عقلیہ حدیث اور تفسیر پڑھی انہی کی ترغیب سے مسلک حنفی اختیار کیا اور اپنے دور کے بہت بڑے عالم و مرجع خلائق بن گئے[2]۔

تصانیف[ترمیم]

  • رد المحتار علی در المختارشرح تنویر الابصارالمعروف حاشیہ ابن عابدین یہ حاشیہ فقہ حنفی کی اہم ترین کتابوں مین شمار ہوتا ہےیہ نامور حنفی فقیہ علاؤالدین الحصفکی کی الدررالمختار شرح تنویر الابصارکا حاشیہ ہے

الابانہ عن اخذالاجرۃ عن الحصانہ،اتحاف الزکی النبیہ بجواب ما یقول الفقیہ،اجابۃ الغوث ببیان حال النقیب والنجاء والابدال والاوتاد والغوث،اجوبہ محققہ عن اسئلۃ مفرقہ،الاقوال الواضحہ الجلیہ فی مسا لۃ نقض القسمۃ بغیۃ الناسک فی ادعیہ المناسک،تحبیر التحریر،تحریر العبارہ فیمن ھو اولیٰ بالاجارہ،تحریرالنقول فی نفقۃ الفرع والاصول،تنبیہ الغافل الوسنان علی احکام ہلال رمضان،تنبیہ الوقود علی مسائل النقود،تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام او احد اصحابہ الکرام،الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم،سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالد النقشبندی، شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل،غایۃ المطلب فی اشتراط الواقف عود النصیب ،الفوائد العجیبہ[3]۔

وفات و تدفین[ترمیم]

21 ربیع الثانی 1252ھ کو وصال ہوا اور جامع سنان باشا میں مقبرہ باب صغير میں مدفون ہیں۔

  1. ^ تکملہ اردودائرہ معارف اسلامیہ جلد ۲۵صفحہ 201 دانش گاہ پنجاب لاہور
  2. ^ تکملہ اردودائرہ معارف اسلامیہ جلد ۲۵صفحہ 199 دانش گاہ پنجاب لاہور
  3. ^ تکملہ اردودائرہ معارف اسلامیہ جلد ۲۵صفحہ 200 دانش گاہ پنجاب لاہور