ابن ملجم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت علی کا قاتل۔ عبدالرحمن ابن ملجم۔ خوارج میں سے تھا۔ کچھ روایات کے مطابق نہروان کی شکست کے بعد خارجیوں نے تین آدمیوں کو حضرت علی حضرت امیر معاویہ اور حضرت عمر بن العاص کو بیک وقت قتل کرنے پر مامور کیا۔ [حوالہ درکار] ابن ملجم نے حضرت علی کو شہید کرنے کا ذمہ لیا۔ تینوں نے تجویز کے مطابق ایک ہی دن فجر کے وقت وار کیے۔ امیر معاویہ پر وار اوچھا پڑا۔ عمر بن العاص کی جگہ دوسرا آدمی قتل ہوا۔ لیکن حضرت علی کو زہر آلود خنجر کا کاری زخم لگا اور تین دن بعد 21 رمضان 40ہجری کو حضرت علی رحلت فرما گئے۔کچھ اور روایات کے مطابق ابن ملجم کو امیر معاویہ بن ابی سفیان نے حضرت علی کے قتل پر مامور کیا تھا۔[1]۔[2]۔[3]۔[4] خود ابن ملجم نے اس بات کا اقرار کیا اور کہا کہ میں نے معاویہ کے کہنے پر ایسا فعل کیا جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔[5]۔[6]۔ [7]۔ آپ کے وصال کے بعد لوگوں نے ابن ملجم کو حضرت حسن کے سامنے پیش کیا تو آپ نے خود اسے قتل کیا یہ 40ھ کا واقعہ ہے۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 599
  2. ^ مروج الذہب مسعودی ص 303 جلد 2
  3. ^ تاریخ ابوالفداء جلد 1 ص 183
  4. ^ رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 7
  5. ^ ذکر العباس صفحہ 20
  6. ^ تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 599
  7. ^ مقاتل الطالبین ص 51