ابوالعلاء المعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش: 979ء وفات: 1058ء

عرب شاعر۔ پورا نام ابوالعلا احمد المعری۔ معرۃ النعمان میں پیدا ہوا۔ 4 سال کی عمر میں چیچک نکل آئی اور اسی سے بینائی جاتی رہی۔ مگر حافظہ غضب کا تھا ۔ حلب ، طرابلس ، انطاکیہ میں تعلیم پائی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد بغداد گیا۔ مگر یہاں کی فضا پسند نہ آئی۔ اس لیے اپنے وطن معرہ واپس آگیا۔ اور باقی زندگی دنیا سے الگ تھلگ یہیں گزار دی۔ روشن دماغ اور ترقی پسند شاعر تھے۔ لب و لہجہ کا تند اور مردم بیزار تھا۔ عربی زبان میں محاکاتی شاعری کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ سینکڑوں کتب کا مصنف اور مولف ہے۔ اس کی علمی خدمات کا بیشتر حصہ صلیبی جنگوں کی نذر ہوگیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آواگون کا قائل تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ لااوری (ناستک) تھا۔ اس کے مشہور شعر کا ترجمہ ہے:

"لوگ امام برحق کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کے لشکر کی قیادت کرے گا۔ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ عقل کے سوا کوئی امام نہیں جو ہر لمحہ انسان کو صحیح مشورہ دے اور اس کو راہ دکھائے"

اپنی غذا میں دال اور سبزیوں پر گزارا کرتے تھا۔ گوشت اور انڈا سے مکمل پرہیز تھا۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معری
پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات

اس نظم میں علامہ نے معری کی دو تصانیف ’’غفران‘‘ اور ’’لزومات‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کا انتقال 1058ء میں ہوا۔