ابو الفضل ابن مبارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوالفضل سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اکبر کا دربار

پیدائش: 1551ء وفات:1602ء

اکبر اعظم کے نورتنوں میں سے ایک۔ شیخ مبارک کا دوسرا بیٹا اور علامہ فیضی کا چھوٹا بھائی۔ آگرہ میں پیدا ہوا۔ 1572ء میں اپنے بھائی فیضی کے ساتھ دربار اکبری میں باریاب ہوا۔ 1600ء میں منصب چار ہزاری پر فائز ہوا۔ شہزادہ سلیم (جہانگیر) کا خیال تھا کہ ابوالفضل اس کے بیٹے خسرو کو ولی عہد بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس کے اشارے پر راجہ نرسنگھ دیو نے اسے اس وقت قتل کر دیا جب وہ دکن لوٹ رہا تھا۔ اپنے وقت کا علامہ اور بلند پایہ مصنف تھا۔ علامی تخلص رکھتا تھا۔ آزاد خیال فلسفی تھا۔ علما اسے دہریہ سمجھتے تھے۔ اکبر کے دین الٰہی کے اجرا کا سبب اسی کو گردانا جاتا ہے۔ اکبر نامہ اور آئین اکبری مشہور تصانیف ہیں۔ اس کے خطوط کا مجموعہ مکتوب علامی فارسی ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

اکبر کے نو رتن مشہور ہیں۔ ان میں ابوالفضل کا نام سر فہرست ہے۔ وہ شیخ مبارک ناگوری کا منجھلا بیٹا تھا۔ محرم سن ۹۵۸ھ، 1551ء میں آگرہ میں پیدا ہوا۔ فیضی اسکا بڑا بھائی تھا جسکا سن ولادت ۹۵۴ھ، 1547ء ہے۔ چھ بھائی ابوالفضل سے چھوٹے تھے جنکی تفصیل شیخ نے خود دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے "چھوٹا بھائی شیخ ابوالبرکات سن ۹۶۰ھ، 1553ء میں، شیخ ابوالخیر سن ۹۶۷ھ، 1560ء میں اور ابوالمکارم سن ۹۷۷ھ، 1563ء میں پیدا ہوا۔ اس نے علوم دینی باپ سے اور میر فتح اللہ شیرازی سے پڑھے۔ شیخ ابو تراب سن ۹۸۰ھ، 1572ء میں پیدا ھوا۔ اگرچہ اس کی طبیعت اور ہے مگر سعادت مندی وہی ہے۔ دو بھائی باپ کے انتقال کے بعد جڑواں پیدا ہوئے۔ ایک کا نام ابو راشد اور دوسرے کا ابو حامد رکھا گیا۔ ان دونوں کا سال ولادت ۱۰۰۳ھ، 1594ء ہے"

سن ۹۸۰ھ، 1572ء میں شیخ ابوالفضل نے اپنے بڑے بھائی شیخ ابوالفیض فیضی کی وساطت سے دربار اکبری میں کامیابی حاصل کی۔ اور آہستہ آہستہ تقرب شاہی حاصل کرلیا۔ یہاں تک کہ صدر الصدور کے عہدے پر فائز ہوا۔

شیخ ابوالفضل نے اکبر کے مذہبی عقائد پر بہت اثر ڈالا۔ اور بہت فنکاری سے اس نے بادشاہ کو یہ یقین دلایا کہ مذہب کے معاملات کو آپ علماء سے بہتر جانتے ہیں۔ لہٰذہ آپ کو مذہب میں بالادستی ہونی چاہئے۔ اس کی باتوں سے متاثر ہو کر اکبر نے پہلے"عبادت خانہ"قائم کیا۔ جس میں مختلف عقائد کے علماء کے درمیان مناظرے اور بہث مباحثے ہوتے تھے۔ اس کے بعد دین الٰہی جاری کیا۔ جس کو سب سے پہلے اکبر نے قبول کیا۔

شیخ ابوالفضل کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر لوگ اس سے جلنے لگے۔ شہزادہ سلیم کو جو بعد میں جہانگیر کے لقب سے بادشاہ ہوا، اس سے اس قدر عناد تھا کہ اس نے سن ۱۰۱۰ھ، 1602ء میں اسے قتل کروادیا۔ اکبر کو اس سانحے پر بہت ملال ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اسی صدمے میں اس کی طبیعت خراب رھنے لگی اور وہ ۱۰۱۴ھ، 1605ء میں فوت ہوگیا۔

شیخ کا ایک بیٹا عبدالرحمٰن تھا۔ جو ۹۸۹ھ، 1581ء میں پیدا ہوا تھا۔ شیخ کے قتل کے تقریباَ دس سال زندہ رہا۔ صوبہ بہار کا حاکم مقرر ہوا اور سن ۱۰۲۳ھ، 1613ء میں مر گیا۔

ابوالفضل غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تھا۔ ایک طرف وہ علم و فضل میں یگانہ روزگار تھا۔ دوسری جانب طاقت و شجاعت میں بے مثل تھا۔ وہ شاعر بھی تھا اور علامی تخلص کرتا تھا۔ لیکن مروجہ شاعری کو روحانی مرض سے تعبیر کرتا تھا۔