ابوعبیدہ ابن الجراح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقبرہ - ابوعبیدہ ابن الجراح

581 - 639

حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ جنہیں دربار رسالت سے امین الملت کا خطاب ملا قبیلہ فہر سے متعلق تھے۔ جو قریش کی ایک شاخ تھی۔ اصل نام عامر بن عبداللہ تھا۔ ہجرت مدینہ کے وقت عمر 40 سال تھی۔ بالکل ابتدائی زمانے میں مشرف با اسلام ہوئے۔ دیگر مسلمانوں کی طرح ابتدا میں قریش کے مظالم کا شکار ہوئے۔ حضور سے اجازت لے کر حبشہ ہجرت کر گئے لیکن مکی دور ہی میں واپس لوٹ آئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چند روز قبل اذن نبی سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضور کی آمد تک قبا میں قیام کیا۔ مواخات مدینہ میں معزز انصاری صحابی ابوطلحہ کے بھائی بنائے گئے ۔ بے مثال خدمات اسلام کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کو دنیا میں جنت کی بشارت دی ان سے ایک ہیں۔

شخصیت[ترمیم]

ابوعبیدہ ابن الجرح بے حد ذہین ۔ سلیم الطبع ، متعقی اور بہادر تھے۔ لمبا قد ، بظاہر لاغر کمزور نظر آنے والی شخصیت لیکن ایمان کامل کے سبب انتہائی پرنور چہرہ اور آہنی عزم کے مالک۔ ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے زمانے کے سب سے بڑی عالمی طاقت روم کے خلاف ٹکر لی اور اسے ایشائی علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا۔

عہد نبوی میں خدمات اسلام[ترمیم]

مدینہ کی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو ابوعبیدہ ان اکابرین میں سے تھے جن کو ہر نوعیت کا کام سونپا جا سکتا تھا۔ غزوات میں ابوعبیدہ کی خدمات جلیلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور عشق رسول اور اطاعت الٰہی کا حق ادا کر دیا۔ غزوہ بدر میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ قرآن پاک کی ایک آیات آپ ہی جیسے صحابہ کے لیے نازل ہوئی تھی جس میں اللہ تعالٰی باپ، بیٹے ، بھائی اور اہل خاندان کے خلاف قتال کی وجہ سے جنت کی بشارت دی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

غزوہ احد میں ابوعبیدہ بن الجراح افراتفری کے عالم میں بھی ثابت قدم رہنے والے صحابہ میں سے تھے۔ جب ایک کافر کے وار سے حضور کے خود کی کڑیاں آپ کے رخسار میں دھنس گئیں تو آپ نہایت سرعت سے آگے بڑھے اور اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو باہر نکالا اور اس آپریشن میں خود آپ کے دو دانت ٹوٹ گئے۔

غزوہ احزاب میں ابوعبیدہ بن الجراح نے ایک مستعد اور بہادر سپاہی کی حیثیت سے شرکت کی اور اس کے بعد بنو قریظہ کے استیصال میں حصہ لیا۔ غزوہ احزاب کے بعد بنو ثعلبہ اور بنو انمار کی غارت گری کے انسداد پر مامور ہوئے اور ان کے مرکز ذی القصہ پر کامیاب چھاپہ مارا

صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل ہو کر اللہ تعالٰیٰ کی رضا حاصل کی۔اور غزوہ خیبر میں بھی نبی کریم کے ان فدایوں میں سے شامل تھ جنہوں نے اپنی شمشیر زنی کا حق ادا کیا۔

بنو قضاعہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کے منصوبے بنائے تو آپ کو ایک ایسے دستے کا کمانڈر بنا کر بھیجا گیا جس میں ابوبکر صدیق اور عمر فاروق بھی شامل تھے۔ قریش کی بدعہدی کے بعد ان کے قافلوں کی نگرانی کے لیے ایک مہم ساحل سمندر کی طرف بھیجی گئی جس کی قیادت ابوعبیدہ کو سونپی گئی اور اس لشکر میں عمر فاروق بھی شامل تھے۔ اسی سریہ خبط میں خوراک ختم ہونے پر پتے کھا کر گزارہ کیاگیا یہاں تک کہ ایک مچھلی مسلمانوں کے ہاتھ لگی اور اس طرح اللہ نے مسلمانوں کی ضرورت پوری کی۔

9 ھ میں وفد نجران نے جب ایک ’’امین شخص ‘‘ کو ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے ابوعبیدہ کو اس مشن پرمامور کرتے ہوئے فرمایا:

’’ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے ، میری امت کا امین ابوعبیدہ ہے‘‘

ابوعبیدہ ابن الجراح ایک معلم بھی تھے ، محصل (خراج و دیگر سرکاری واجبات وصول کرنے) بھی اور فوج کے کمانڈر بھی غرض دربار رسالت کے معتمد ترین اور اہل ترین اشخاص میں سے تھے

دور خلافت راشدہ میں خدمات[ترمیم]

ابوعبیدہ کو اپنی عظمت کردار اور زہد و تقوی اور صلاحیتوں کی وجہ سے اہل مدینہ میں بہت اثر و رسوخ حاصل تھا۔ اسی وجہ سے آپ ان تین افراد میں سے تھے جنہوں نے سقیفہ بنو ساعدہ میں انتشار کی لہروں کو روکا اور آپ کی تجویز و تائید سے ابوبکر صدیق خلیفہ بنے ۔ حضرت عمر فاروق کو آپ پر اس حد تک اعتماد تھا کہ فیروز ایرانی کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد جب انہیں خلیفہ کی تلاش تھی تو آپ نے فرمایا

’’اگر ابوعبیدہ زندہ ہوتے توانہیں خلیفہ بناتا کیونکہ حضور نے انہیں امین الملت قرار دیا تھا۔‘‘

اجنادین کا معرکہ[ترمیم]

عہد صدیقی میں ابوعبیدہ کو حمص کی فتح پر مامور کیاگیا تو آپ کئی گنا دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے بصریٰ کو فتح کرتے ہوئے جابیہ پہنچے جہاں سے رومیوں اور شامیوں کی جنگی تیاریوں اور منصوبے کے بارے میں رپورٹ دربار خلافت بھیجی ۔ حضرت ابوبکر نے یزید بن ابوسفیان ، شرجیل بن حسنہ اور عمرو بن العاص کو آپ کے پاس پہنچنے کی ہداہت کی۔ مشرقی محاذ سے خالد بن ولید وہاں پہنچے اور اسلامی لشکر نے آپ کی قیادت میں اجنادین کا معرکہ جیتا۔

عہد فاروقی میں فتوحات[ترمیم]

عہد فاروقی میں چند سال تک شام کے لشکر کی قیادت خالد بن ولید کرتے رہے ۔ لیکن کم و بیش پانچ سال بعد 17 ھ میں فاروق اعظم نے خالد بن ولید کو ابوعبیدہ ابن الجراح کے ماتحت کر دیا۔ قیادت کی ان تبدیلیوں سے جہاد کے مقاصد کے حصول اور مہامت کی تربیت و کامرانی میں کوئی فرق نہ آیا ۔ اس کا بہت بڑا سبب ابوعبیدہ بن الجراح کا وہ مجھا ہوا انداز قیادت تھا جس کی وجہ سے وہ دوسری پوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اپنی صائب رائے پیش کرتے ۔ اس پر عمل کرتے اور کرواتے اور اپنے ساتھیوں کا بھرپور تعاون حاصل کرتے ۔ خالد بن ولید بھی ان کی شخصیت اور صلاحیتوں کے مداح تھے اور آپ کی پر کشش شخصیت اور سادہ اور پروقار زندگی ایک طرف رومیوں کے سفیر کو اسلام کی حقانیت کا قائل کرنے والی تھی اور دوسری طرف سرفروشان اسلام کو عزم جہاد دینے والی۔

ابوعبیدہ ابن الجراح جنگ یرموک کے فاتح ہیں جس نے ہرقل شاہ روم کو شام چھوڑنے پر مجبور کیا۔ بیت المقدس کے فاتح ہیں جو دینا کا عظیم روحانی مرکز ہے۔ آپ نے بیت المقدس میں پہلی نماز وہاں پڑھی جہاں آج کل مسجد اقصیٰ ہے۔ابوعبیدہ فتح شام کے بعد شام کے پہلے گورنر تھے۔ وہ جرنیل بھی تھے۔ اچھے منتظم بھی اور دین اسلام کے مبلغ بھی تھی۔

امین الملت کی زندگی کا آخری معرکہ حمص کی وہ خونریز جنگ ہے جسمیں ہر قل نے شام واپس لینے کی آخری کوشش کی لیکن ناکام ہوا اور اس کے بعد اس نے کبھی شام کا رخ نہ کیا۔

شان فقر[ترمیم]

فاتح شام اور فاتح بیت المقدس کی شان فقر کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ جب فاروق اعظم بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے بھائی ابوعبیدہ بن الجراح سے فرمائش کرکے ان کے ہاں کھانا کھایا جس میں صرف چند سوکھے ہوئے ٹکڑے تھے جن کو ابوعبیدہ پانی میں بھگو کر کھایا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا ’’شام میں آکر سب ہی بدل گئے لیکن ابوعبیدہ ایک تم ہو کہ اپنی اسی وضع پر قائم ہو۔ایک اور موقع پر فاروق اعظم نے آپ کے بارے میں فرمایا :

’’الحمد اللہ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی نظر میں سیم و زر کی کچھ حقیقت نہیں۔

مزار - ابوعبیدہ ابن الجراح

وفات[ترمیم]

18 ھ میں مسلمانوں کے لشکر میں طاعون کی وبا پھوٹ نکلی جسے عمواس کی طاعون کہا جاتا ہے۔ اس موذی وبا نے مسلمانوں کی جان لے لی ان میں سے ایک سپہ سالار اعظم امین الملت ابوعبیدہ بھی تھے۔ جن کو عمر فاروق نے مدینہ واپس بلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ’’ میں مسلمانوں کی فوج میں ہوں اور میرا دل ان سے جدا ہونے کو نہیں چاہتا۔ ‘‘ اس طرح اٹھاون برس کی عمر میں یہ تاریخ ساز شخصیت مالک حقیقی سے جا ملی ۔