ابوبکر الرازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابو بکر رازی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد بن زکریا رازی
رازی اپنے دور کے عظیم حکیم، دانشور اور ماہر طبیب
مکمل نام محمد بن زکریا رازی
پیدائش 26 اگست 865ء
فارس
وفات 925ء
عہد دورِ قدیم
علاقہ فارس
مکتبہ فکر فارسی سائنس
شعبہ عمل کیمیاء، طب، حیاتیات، طبیعیات، فلسفہ


( 251ھ ۔ 313ھ / 865ء ۔ 925ء )


انکا مکمل نام ، ابوبکر محمد ابن ذکریا الرازی (انگریزی: Rhazes یا Rasis مکمل نام Muhammad ibn Zakariya al-Razi) ہے۔ آپ نامور مسلمان عالم، طبیب، فلسفی، ماہر علم نجوم اور کیمیاء دان تھے۔ جالینوس العرب کے لقب سے مشہور ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ بقراط نے طب ایجاد کیا، جالینوس نے طب کا احیاء کیا، رازی نے متفرق سلسلہ ہائے طب کو جمع کر دیا اور ابن سینا نے تکمیل تک پہنچایا۔


حالات زندگی[ترمیم]

رازی کی ولادت رے میں ہوئی۔ جوانی میں موسیقی کے دلدادہ رہے پھر ادب و فلسفہ، ریاضیات و نجوم اور کیمیا و طب میں خوب مہارت حاصل کی۔

پہلے رے پھر بغداد میں سرکاری شفاخانوں کے ناظم رہے۔ طب میں آپ کو وہ شہرت دوام ملی کہ آپ طب کے امام وقت ٹھہرے۔


دنیا کی تاریخ میں جہاں بہت سے طبیبوں کا نام آتاہے وہاں’’ابوبکر محمد بن زکریا رازی‘‘ کا نام علم طب کے امام کی حیثیت سے لیا جاتاہے۔ مغرب میں آپ ریزز Rhazes کے نام سے مشہور ہیں۔ رازی 860ء میں ایران میں پیدا ہوئے۔ جب زندگی کی ذمہ داریاں بڑھیں تو کیمیا گری کے فن کو اپنالیا۔ ان کا خیال تھا کہ کیمیا گری کی بدولت وہ کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرکے بہت جلد امیر اور دولت مند بن جائیں گے۔ کیمیاگری کے جو طریقے اس زمانے میں مشہور تھے، ان میں مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر دنوں بلکہ مہینوں تک دھات کو آگ پر رکھنا پڑتا تھا، زکریا رازی نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ دواؤں اور جڑی بوٹیوں کے حصول کے لیے انہیں دوا فروشوں کی دکانوں پر جانا پڑتا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی ایک دوا فروش سے دوستی ہوگئی۔ چنانچہ وہ فرصت کے لمحات میں عموماً اس کی دکان پر بیٹھ جاتے۔ اس سے ان میں رفتہ رفتہ طب کے علم میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ ایک دن کیمیاگری کے شوق میںآگ کو پھونکیں مارے مارتے ان کی آنکھیں جھلس گئیں۔ وہ علاج کے لیے ایک طبیب کے پاس گئے۔ طبیب نے علاج کرنے کے لیے اچھی خاصی فیس طلب کی۔ اس وقت رازی کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اصل کیمیا گری تو یہ ہے نہ کہ وہ جس میں وہ اب تک سرکھپاتے رہے۔ چنانچہ رازی نے اب اپنی توجہ علم طبِ کی تحصیل میں صرف کردی۔ وہ طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بغداد روانہ ہوگئے۔ بغداد میں اس وقت ’’فردوس الحکمت‘‘ کا نامور مصنف علی بن ربن طبری بقید حیات تھا۔ رازی نے اس بزرگ استاد سے طب کے تمام رموز سیکھے او ر بڑی محنت سے اس میں کمال حاصل کیا۔ 908ء میں بغداد کے مرکزی شفا خانے میں، جو اس زمانے میں عالم اسلام کا سب سے بڑا شفا خانہ تھا، انہیں اعلیٰ افسر کا عہدہ پیش کیا گیا جہاں وہ چودہ برس تک کام کرتے رہے۔ یہ عرصہ انہوں نے طبی تحقیقات اور تصنیف وتالیف میں گزارا۔ ان کی سب سے مشہور کتاب’’حاوی‘‘ اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ حاوی دراصل ایک عظیم طبی انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں انہوں نے تمام طبی سائنس کو جو متقدمین کی کوششوں سے صدیوں میں مرتب ہوئی، ایک جگہ جمع کردیا اور پھر اپنی ذاتی تحقیقات سے اس کی تکمیل کی۔ فن طب کا یہ امام 932ء میں 92ء سال کی عمر پانے کے بعد انتقال کرگیا۔

اہم تصانیف[ترمیم]

رازی کی تصانیف سترہویں صدی عیسوی تک یورپ میں بڑی مستند تصور کی جاتی تھیں، ان کے تراجم لاطینی میں کئے گئے اور یورپ کی درسگاہوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہیں۔


  • کتاب الجدری والحصبہ
  • کتاب الحاوی


بیرونی روابط[ترمیم]