احتراق
وکیپیڈیا سے
| بھڑک کر شعلہ بناتی ایک تیلی کبریت (match) ؛ یہ احتراق کے عمل کی ایک نہایت سادہ ، آسان اور عمدہ مثال کے طور پر سمجھی جاسکتی ہے ۔ | |||
|
|
|||
|
|||
احتراق ؛ سائنسی مضامین میں بھڑک جانے یا جلنے کے عمل کو کہا جاتا ہے جس کے دوران حرارت اور دیگر اشکال میں توانائی کا قابلِ استعمال اخراج ہوتا ہے، اسے ایک کیمیائی تعامل (reaction) میں شمار کیا جاتا ہے اور انگریزی میں اسے combustion کہتے ہیں۔ کیمیائی تعریف کے مطابق یہ احتراق کا عمل ایک برحراری (exothermic) عمل ہے جس میں ایندھن اور کوئی تکسیدہ (oxidant) آپس میں کیمیائی عمل کر کہ جواہر اور برقات کا تبادلہ کرتے ہیں اور نئی اقسام کے سالمات میں بدل جاتے ہیں جس دوران توانائی ؛ حرارت ، روشنی ، اور دھویئں کی سالماتی حرکات کی صورت میں باہر نکلتی ہے اسی لیۓ اسکو برحراری تعامل کہا جاتا ہے۔
[ترمیم] تعامل کی نوعیت
وہ کیمیائی تعامل کہ جسکو جلنا یا احتراق کہا جاتا ہے اصل میں ایک ایسے عامل جوہر یا سالمے کہ جو کسی دوسرے جوہر یا سالمے کی تکسید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کے زریعے عمل پذیر ہوتا ہے اور اس عامل کو اسکی اسی خاصیت کی وجہ سے تکسیدہ کہا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک تکسیدہ اصل میں ایک ایسا عامل ہوتا ہے کہ جو کسی دوسرے جوہر یا سالمے کو برقات (electrons) منتقل کرنے کی ، فراہم کرنے کی (کمی پورا کرنے کی) صلاحیت کا حامل ہو۔
- CH4 + 2O2 → CO2 + 2H2O + حـرارت
- CH2S + 6F2 → CF4 + 2HF + SF6 + حـرارت