مجدد الف ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(احمد سرہندی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
امام ربانی
شیخ احمد الفاروقی السرہندی
مکمل نام

امام ربانی

شیخ احمد الفاروقی السرہندی
پیدائش 26 مئی 1564ء
وفات 10 دسمبر 1624ء(63 برس زندہ رہے)
عہد مغلیہ دور
علاقہ اسلامی فلسفہ / اسلامی فلسفی
مکتبہ فکر سنی اسلام
شعبہ عمل نفاذ اسلامی قانون
افکار و نظریات اسلامی فلسفے کا ارتقام اور نفاذ شریعت
مؤثر شخصیات الغزالی، محمد الباقی باللہ
متاثر شخصیات اسلامی فلسفہ، فقہ، تصوف، شاہ ولی اللہ، محمد معصوم فاروقی، سیف الدین فاروقی، نور محمد بدایونی، مرزا مظہر جان جاناں، عبداللہ دہلوی، خالد البغدادی، عبداللہ شمدینی، طٰہٰ الحقاری، محمد صالح، علامہ اقبال، صبغت اللہ ہزانی، فہیم ارواسی، عبدالحکیم ارواسی

شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبدالا حد فاروقی) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے ۔


زندگی[ترمیم]

آپ کی ولادت جمعہ 14 شوال 971ھ بمطابق 26 مئی 1564ء کو نصف شب کے بعد سرہند شریف ہندوستان میں ہوئی۔ آپ کے والد شیخ عبد الاحد ایک ممتاز عالم دین تھے اور صوفی تھے۔ صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔

تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی، قادریہ سلسلہ کی شیخ سکندر کیتھلی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ سے حاصل کی۔ 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ۔ آپ کو مرشد کی وفات (نومبر 1603ء) کے بعد سلسلہ تقشبندیہ کی سربراہی کا شرف حاصل ہوا۔

مجدد کا لقب[ترمیم]

بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ہزار سال کے بعد تجدید دین کے لئے اللہ تعالٰی ایک مجدد مبعوث فرماتا ہے۔ چنانچہ علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز RAHMAT.PNG کے بعد دوسرے ہزار سال کے مجدد آپ ہی ہیں اسی لئے آپ کو مجدد الف ثانی کہتے ہیں۔


شریعت کی پابندی[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ آپ کے مرشد حضرت خواجہ رضی الدین محمد باقی با اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان میں تصوف کا نقشبندی سلسلہ متعارف کرایا اور آپ نے اس سلسلہ کو ترقی دی۔

بدعات کا رد[ترمیم]

مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

قید و بند کی صعوبت[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لئے دور ابتلاء سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امراء نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا:

سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔

بادشاہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ جھک جائیں لیکن حضرت مجدد الف ثانی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ بعض امراء نے بادشاہ کو آپ کے قتل کا مشورہ دیا۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تو نہ ہو سکا البتہ آپ کو گوالیار کے قلعے میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ نے قلعے کے اندر ہی تبلیغ شروع کر دی اور وہاں کئی غیر مسلم مسلمان ہو گئے۔ قلعہ میں متعین فوج میں بھی آپ کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ بالآخر جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور آپ کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد جہانگیر نے آپ کو اپنے لشکر کے ساتھ ہی رکھا۔

انتقال[ترمیم]

آپ منگل 28 صفر 1034ھ بمطابق 10 دسمبر 1624ء کو انتقال کرگئے۔ مدتِ حیات 62 سال 4 مہینے 14 دن تھی۔ اور 14 شوال 971ھ میں سر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔

اولاد و امجاد[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی کے سات صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں جن کے نام یوں ہیں:

صاحبزادگان[ترمیم]

صاحبزادیاں[ترمیم]

  • بی بی رقیہ بانو علیہ الرحمہ
  • بی بی خدیجہ بانو علیہ الرحمہ
  • بی بی ام کلثوم علیہ الرحمہ

بيروني روابط[ترمیم]

مجدد الف ثانی اردو ويب سائٹ

سانچہ:اسلامی اوکیہ جوت