احمد فراز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
احمد فراز

احمد فراز, ٹورنٹو 2005
تخلص فراز کمیونسٹ
پیشہ اردو شاعر, لیکچرر
قومیت پاکستانی
نژادیت پشتون سید
شہریت پاکستانی
تعلیم ایم اے اردو, ایم اے فارسی
مادر علمی پشاور ماڈل سکول
جامعہ پشاور
لکھائی دور 1950 - 2008
صِنف اردو غزل
موضوعات عشق , تحریک مزاحمت
ادبی تحریک پروگریسو رائٹرز موومنٹ/ڈیموکریٹک موومنٹ
نمایاں اعزاز(ات) ہلال امتیاز
ستارہ امتیاز
نگار ایوارڈ
اولاد 3 بیٹے: سعدی, شبلی اور سرمد فراز
اہل و عیال سید محمد شاہ برق (والد)
سید مسعود کوثر (بھائی)

احمد فراز کوہاٹ، پاکستان میں پیدا ہونے والے اردو شاعر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

احمد فراز (4 جنوری 1931 - 25 اگست 2008) ء میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ "" تنہا تنہا "" شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ "" درد آشوب ""چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے " آدم جی ادبی ایوارڈ "" عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔

آپ 2006 ء تک "" نیشنل بک فاؤنڈیشن ""کے سربراہ رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی انٹرویو کی پاداش میں انہیں "" نیشنل بک فاؤنڈیش "" کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ۔ احمد فراز نے 1988 ء میں"" آدم جی ادبی ایوارڈ "" اور 1990ء میں"" اباسین ایوارڈ "" حاصل کیا ۔ 1988 ء مین انہیں بھارت میں "" فراق گورکھ پوری ایوارڈ "" سے نوازا گیا ۔ اکیڈمی آف اردو لٹریچر ( کینڈا ) نے بھی انہیں 1991ء میں ایوارڈ دیا ، جب کہ بھارت میں انہیں 1992 ء میں ""ٹاٹا ایوارڈ "" ملا۔

انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے ۔ ان کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے ۔ جامعہ ملیہ (بھارت ) میں ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع "" احمد فراز کی غزل "" ہے ۔ بہاولپور میں بھی "" احمد فراز ۔فن اور شخصیت "" کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا ۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،فرانسیسی ،ہندی،یوگوسلاوی،روسی،جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں ۔

احمد فراز جنہوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی، اپنی شاعری کے زمانۂ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اس کے سیاسی کردار کے خلاف شعر کہنے کے سبب کافی شہرت پائی۔ انہوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے دور کے خلاف نظمیں لکھیں جنہیں بہت شہرت ملی۔ مشاعروں میں کلام پڑھنے پر انہیں ملٹری حکومت نے حراست میں لیے جس کے بعد احمد فراز کوخود ساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی۔

سنہ دوہزار چار میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انہیں نے یہ تمغا سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا۔ احمد فراز نے کئی نظمیں لکھیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی غزلیات کو بھی بہت شہرت ملی۔

مجموعہ کلام[ترمیم]

  • تنہا تنہا
  • درد آشوب
  • شب خون
  • نایافت
  • میرے خواب ریزہ ریزہ
  • بے آواز گلی کوچوں میں
  • نابینا شہر میں آئینہ
  • پس انداز موسم
  • سب آوازیں میری ہیں
  • خواب گل پریشاں ہے
  • مودلک
  • غزل بہانہ کرو
  • جاناں جاناں
  • اے عشق جنوں پیشہ

نمونہ کلام[ترمیم]

اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتبابوں ميں مليں
مت ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي يہ خزینے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں
غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو نشہ برپا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں
تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں
آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں
اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں ملیں

میرے صبر کی انتہا کیا پوچھتے ہو فراز وہ مجھ سے لپٹ کر رو رہا تھا کسی اور کے لیے۔

بیرونی روابط[ترمیم]