اختبارِ خون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اختبارِ خون
اختبارِ خون

طب میں اختبارخون یا blood test سے مراد طبی تجربہ گاہ میں کیا جانے والا خون کا معائنہ ہوتا ہے جسکی مدد سے

1- کسی مرض کی تشخیص کی جاتی ہے

2- کسی دوا کا جسم پر اثر، اس دوا کی وجہ سے جسمم یا خون میں کیمیائی تبدیلیوں اور خون میں اسکی مقدار پر نظر رکھی جاتی ہے

3- جسم کے مختلف اعضاء (organs) کے فعلیاتی اور امراضیاتی (pathological) افعال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

نظریاتی اساس[ترمیم]

چونکہ خون ایک جاندار کے جسم میں مستقل گردش کرتا ہے اور اسکا رابطہ جسم کے قلب سے لیکر دوردراز تمام حصوں سے ہوتا ہے اور اپنی گردش کے دوران خون تمام جسم کو غذائی اجزاء اور آکسیجن مہیا کرتا ہے، اسی خوبی کی وجہ سے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں براہ راست خون میں اپنا اثر ظاہر کرتی ہیں جنکو خون کے طبی معائنہ کے زریعے شناخت کیا جاسکتا ہے۔ اور اسی وجہ سے خون کے اختبارات ، تمام طبی اختبارات میں سب سے زیادہ استعمال کیۓ جانے والے اختبارات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسکی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ خون کو جسم کے دیگر نسیجات (tissues) کی نسبت زیادہ آسانی سے اور وافر مقدار میں حاصل کیا جاسکتا ہے اور اسکے لیۓ بنیادی سی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ایک ممرضہ (nurse) یا طرازگر مختبر (laboratory technician) انجام دے سکتا ہے۔ اکثر خون کے اختبارات، مکمل خون پر کیۓ جانے کے بجاۓ خون کے اجزاء پر بھی کیۓ جاتے ہیں، جو کہ یا تو مصل (serum) پر کیۓ جاتے ہیں یا شاکلہ (plasma) پر کیۓ جاتے ہیں۔

تحصیل خون[ترمیم]

خون کو عام طور پر کسی ایسی خون کی نالی سے نکالا جاتا ہے جو کہ خون کو دل کی جانب واپس لے کر جارہی ہو، ایسی خون کی نالی کو ورید (vein) کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات خون کو شریان (artery) سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ چونکہ خون نکالنے کے لیۓ ورید میں سوئی داخل کی جاتی ہے اس لیۓ اسکو طب میں بزل ورید (venipuncture) کہتے ہیں، اگر شریان سے خون نکالا جاۓ تو اسکو بزل شریان (arterial puncture) کہتے ہیں۔

طریقہ کار[ترمیم]

  1. مریض یا وہ فرد جسکا اختبار کے لیۓ خون لینا ہو مکمل پرسکون اور سہولت سے لیٹا یا بیٹھا ہو اور اسکو خون نکالنے کے طریقہ کی مکمل وضاحت فراہم کی جاتی ہے
  2. عموما خون نکالنے کے لیۓ کہنی کے اندرونی جانب یا اگلے بازو کی کسی ورید کا انتخاب کیا جاتا ہے
  3. بزل یا سوراخ کرنے کے لیۓ منتخب کی جانے والی جگہ پر جلد کو مطہر (antiseptic) سے مکمل صاف اور جراثیم (germs) سے پاک کیا جاتا ہے
  4. ایک ربر کی نرم اور لچکدار پٹی یا کف کو اس جگہ سے ذرا اوپر جہاں سوئی داخل کرنی ہو باندھا جاتا ہے تاکہ خون کا دل کی جانب بہاؤ رک جاۓ اور ورید واضع ہو کر سامنے آجاۓ
  5. سوئی کو جلد کے ساتھ کم زاویے پر رکھتے ہوۓ وین میں داخل کیا جاتا ہے اور خون کی مطلوبہ مقدار کو ایک سرنج یا کسی مخصوص اختبار کے لیۓ اسکی خلائی نلی (vacuum tube) میں بھر لیا جاتا ہے
  6. اس عمل کے دوران ہی ربر کی پٹی کو کھول دیا جاتا ہے تاکہ خون کا بہاؤ بحال ہو جاۓ
  7. مطلوبہ مقدار میں خون حاصل کرنے کے بعد سوئی کو نکال لیا جاتا ہے اور سوراخ کی جگہ پر ایک الکحل یا کسی دوسرے جراثیم کش مادے کو رکھنے والی پٹی کو رکھ کر محفوظ کیا جاتا ہے۔ چند منٹ کے دباؤ سے خون کو بہ کر نکلنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے

عمومی اختبارات (جنرل ٹیسٹس)[ترمیم]

یوں تو خون پر بہت اقسام کے اختبارات کیۓ جاتے ہیں جن میں سے چند ایسے ہیں جو عام طور پر علاج میں بکثرت استعمال کیۓ جاتے ہیں جنکا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ خون پر کیۓ جانے والے یہ اختبارات خون کے خلیات پر بھی ہوسکتے ہیں اور اسمیں شامل کیمیائی اجزاء پر بھی ہوسکتے ہیں۔

اختبارات کیمیاۓ خون (بلڈ کیمسٹری ٹیسٹس)[ترمیم]

یہ وہ اختبارات ہوتے ہیں جنکی مدد سے خون کے کیمیائی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ایک اختبار ایسا ہوتا ہے کہ جسمیں خون میں شامل اجزاء پر سات اقسام کا تجزیہ کیا جاتا ہے مطالعہ کیا جاتا ہے اسکو کیم 7 کہا جاتا ہے اور اس میں مطالعہ کیۓ جانے والے اجزاء یہ ہوتے ہیں۔

1- BUN

2- سیرم کلورائڈ

3- CO2

4- کریئٹینن

5- گلوکوز

6- پوٹاشیئم

7-سوڈیئم

لحمیاتی اختبارات (پروٹین ٹیسٹس)[ترمیم]

اختبارات نامیاتی سالمات (آرگینک مالیکیول ٹیسٹوں) میں لحمیات یعنی پروٹینز پر کیۓ جانے والے اختبارات اہم ہیں ۔ لحمیات بہت اقسام کی ہوتی ہیں جو کہ خون کے ساتھ گردش کرتی ہیں اور انکی مقدار مختلف بیماریوں میں کم زیادہ ہوتی رہتی ہے، اسکے علاوہ لحمیات کے زریعے مختلف اعضاء کے افعال اور انکے امراض کا الگ الگ اندازہ لگانا بھی ممکن ہوتا ہے

1-البومن ٹیسٹ: یہ ٹیسٹ جگر اور گردے کے امراض میں مفید ثابت ہوسکتا ہے، اسکے علاوہ بھی ایک طبیب اپنے تجربہ کی بنیاد پر اس اختبار کو دیگر کئی موقوں پر استعمال کرتا ہے

2- سی ری ایکٹو پروٹین ٹیسٹ: اس لحمیہ کی مقدار مختلف اقسام کی التہاب (انفلامیشن) میں تبدیل ہوتی ہے اور اسکے زریعے انکو شناخت کیا جاسکتا ہے مثلا دل ریومٹائڈآرتھرائٹس وغیرہ

3- ٹوٹل پروٹین ٹیسٹ: اس سے سیرم میں موجود تمام پروٹین کا اندازہ لگایا جاتا ہے

اختبارات جسم ضد (اینٹی باڈی ٹیسٹس)[ترمیم]

1- ELISA ٹیسٹ

2- کومب ٹیسٹ

خلیات[ترمیم]

1- فل بلڈ کاؤنٹ

2- ہماٹوکریٹ

3- ارتھروسائٹ سڈیمنٹیشن ریٹ

4- کراس میچنگ

4- بلڈ کلچر

مزید دیکھیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

[1]