ادب کا دکنی دور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

یوں تو مسلمانوں نے دکن پر کئی حملے کیے لیکن علائوالدین خلجی کے حملے نے یہاں کی زبان اور تہذیب و تمدن اور کلچر کو کافی حد تک متاثر کیا۔ مرکزسے دور ہونے کی وجہ سے علائو الدین خلجی نے یہاں ترک سرداروں کو حکمران بنا دیا۔ بعد میں محمد تغلق نے دہلی کی بجائے دیو گری کو دارالسلطنت قرار دیے کر ساری آبادی کووہاں جانے کا حکم دیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان گھرانے وہاں آباد ہوئے۔ محمد تغلق کی سلطنت کمزور ہوئی تو دکن میں آزاد بہمنی سلطنت قائم ہوئی اور دکن، شمالی ہندوستان سے کٹ کر رہ گیا۔ بعد میں جب بہمنی سلطنت کمزور ہوئی تو کئی آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں۔ ان میں بیجا پور کی عادل شاہی حکومت اور گولکنڈ ہ کی قطب شاہی حکومت شامل تھی۔ ان خود مختار ریاستوں نے اردو زبان و ادب کے ارتقاءمیں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے علم و فضل اورشعراءو ادبا دکن پہنچے۔ آیئے اب بیچاپور کی عادل شاہی سلطنت کے تحت اردو کے ارتقا ءکا جائزہ لیں۔

بیجا پور کی عادل شاہی حکومت:۔[ترمیم]

عادل شاہی حکومت کی بنیاد 895ءہجری میں پڑی۔ یہاں کا پہلا حکمران یوسف عادل شاہ تھا۔ بہمنی ریاست کے زوال کے بعد یوسف شاہ نے اپنی آزاد حکومت قائم کی۔ یہ حکومت دو سو سال تک قائم رہی اور نو بادشاہ یکے بعد دیگرے حکومت کرتے رہے۔ ابتدائی صدی میں دکنی زبان کی ترقی کے لیے کچھ خاص کام نہیں ہوا اور ایرانی اثرات ، شیعہ مذہب اور فارسی زبان دکنی زبان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنے ۔ لیکن اس کے برعکس دور عادل شاہی کی شاہی سرپرستی دوسری صدی میں اردو و ادب کی ترقی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ابراہیم عادل شاہ ثانی اور ان کے جانشین محمد عادل شاہ نے اس سلسلے میں دکنی زبان کی جانب خصوصی توجہ دی۔ محمد عادل شاہ کے جانشین علی عادل شاہ ثانی نے دکنی کو اپنی زبان قرار دیا۔ چنانچہ اس صدی میں شاہی سرپرستی کی وجہ سے ادب میں درباری رنگ پیدا ہوا۔ اصناف سخن کی باقاعدہ تقسیم ہوئی۔ قصیدے اور غزلیں کہی گئیں اور شاعری کا ایک اعلیٰ معیار قائم ہوا۔اس کے علاو ہ صوفیا نے بھی یہاںکی زبان پر گہرے اثرات چھوڑے۔
عادل شاہی دور میں اردو کے فروغ و ترویج کے مختصر جائزے کے بعد آئیے اب اس دور کے شاعروں کا مختصر تذکرہ کریں تاکہ زبان و ادب کے ارتقاءکا اندازہ ہو سکے۔

اشرف بیابانی :۔[ترمیم]

شاہ اشرف کے آبائو اجداد کا تعلق سندھ سے تھا۔ آپ جنگلوں ، بیابانوں میں رہنے کی وجہ سے بیابانی مشہور ہوئے۔ ان کی تصانیف میں مثنوی ”نوسر ہار“ نمایان حیثیت کی حامل ہے۔ جس میں واقعات کربلا کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی امام حسین کی شہادت کے واقعات کو بڑے موثر اوردرناک انداز میں بیان کیا ہے۔اس مثنوی کے علاوہ ”لازم المبتدی“، ”واحد باری“ دو منظوم فقہی مسائل کے رسالے ہیں۔ ایک اور تصنف ”قصہ آخرالزمان “ کا ذکر بھی آتا ہے۔

شاہ میراں جی شمس العشاق:۔[ترمیم]

شاہ میراں جی بڑے عالم فاضل آدمی تھے ۔بقول ڈاکٹر نذیر احمد انہوں نے بیجاپورمیں ایسے خاندان کی بنیاد ڈالی جس میں ان کے جانشین یکے بعد دیگرے کئی پشت تک صاحب علم اور صاحبِ ذوق ہوتے رہے۔ ان کے دو فرزندوں کے نام ملتے ہیں ایک برہان الدین جانم اور دوسرے خواجہ عطا اللہ ۔ شاہ میراں جی کو جو تصانیف ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”خوش نامہ “ ”خوش نغز“ ،”شہادت الحقیقت“ اور ”مغزمرغوب“ نظم میں ہیں اور ”مرغوب القلوب“ نثر میں۔ ان کا موضوع تصوف ہے ۔ یہ تصانیف مریدوں اور عام طالبوں کے لیے بطور ہدایت لکھی گئی ہیں۔

شاہ برہان الدین جانم:۔[ترمیم]

برہان الدین جانم شاہ میراں جی شمس العشاق کے بیٹے اور خلیفہ تھے۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں عارفہ خیالات اور تصوف کے مسائل پیش کیے ہیں۔ چنانچہ یہ رسالے ادبی نقطۂ نظر سے زیادہ لسانی اعتبار سے اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے اردو زبان کے ارتقاءکو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔”ارشاد نامہ“ ان کی خاصی طویل نظم ہے جس میں تصوف کے اہم مسائل طالب اور مرشد کے مابین سوال و جواب کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ”حجتہ البقائ“ ،”وصیت الہادی“ ”سک سہیلا“ اور کئی دوہے اور خیال بھی ان سے منسوب ہیں۔

ابراہیم عادل شاہ:۔[ترمیم]

ابراہیم عادل شاہ اس دور کاچھٹا حکمران تھا اسے فنون لطیفہ سے بڑی دلچسپی تھی چنانچہ اس کے عہد میں بیجا پور علم و اد ب کا مرکز بن گیا۔ بادشاہ کو شعر وسخن سے گہرا لگائو تھا وہ خود بھی شعر موزوں کہا کرتا تھا۔ تاریخ سے بھی دلچسپی تھی اور خوش نویسی میں بھی طاق تھے۔ ابراہیم کو موسیقی سے گہرا شغف تھاجس کا واضح ثبوت اس کی کتاب”نورس “ ہے۔ جس میںابراہیم نے مختلف راگ راگنیوں کے تحت اپنے نظم کیے ہوئے گیت پیش کیے ہیں۔

عبدل:۔[ترمیم]

عبدل ابراہیم عادل شاہ کے دور کا مشہور شاعر تھا۔ ان کے حالات زندگی نہیں ملتے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نام عبدالقادر یا عبدالمغنی تھا۔عبدل کی صرف ایک مثنوی ”ابراہیم نامہ “ ملتی ہے۔ ”ابراہیم نامہ“ کے سات سو سے زیادہ شعر ہیں۔ اس مثنوی میں عادل شاہ کی زندگی کے حالات قلم بند ہیں۔ اگرچہ یہ ابراہیم عادل شاہ کی مکمل سوانح عمری نہیں مگر اس میں اس کی زندگی کے اہم واقعات آگئے ہیں۔عبدل کی اس مثنوی میں اس عہد کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔ اس مثنوی کے ذریعے اس دور کے رسم و رواج ،آدابِ دربار و محفل ، عمارات و زیورات، سیر و شکار وغیرہ موضوعات پر قابل قدر معلومات پیش کی گئی ہیں۔

صنعتی بیجاپوری:۔[ترمیم]

صنعتی کا نام محمد ابراہیم تھا۔ صنعتی کی دو مثنویاں ملتی ہیں۔ ”قصہ تمیم انصاری“ اور مثنوی ”گلدستہ“ ۔ ”قصہ تمیم انصاری “ ایک صاحب حضرت تمیم انصاری سے متعلق ہے ۔ جو اپنے گھر سے غائب ہو گئے اور طلسمات میں پھنس گئے اور کئی سال تک مصیبتیں جھیلتے رہے۔
ادبی نقطۂ نظر سے صنعتی کی مثنویوں میں سادگی اور شگفتگی کے ساتھ ساتھ دوسری خوبیاں بھی ہیں۔ مثنوی ”گلدستہ “ عشقیہ داستان ہے۔

ملک خوشنود:۔[ترمیم]

ملک خوشنود گولکنڈہ کی قطب شاہی سلطنت کا غلام تھا جب سلطان کی پھوپھی خدیجہ سلطان کی شادی محمد عادل شاہ سے ہوئی تو ملک خوشنود بھی خدیجہ سلطان کے سامان کی حفاظت کے لیے روانہ کیا گیا۔ راستے میں اس نے اس عمدگی سے کام کیا کہ خدیجہ سلطان نے اسے ایک اعلیٰ عہدے پر مامور کیا۔ ملک خوشنود نے متعدد غزلیں اور قصیدے لکھے ہیں۔ اور امیر خسرو کی فارسی مثنویوں کا اردو ترجمہ بھی کیا جن میں ”یوسف زلیخا“،”بازار حسن “ اور ”ہشت بہشت “شامل ہیں۔

کمال خان رُستمی :۔[ترمیم]

رستمی قادر الکلام شاعر تھے ۔اس نے غزلوں اور قصیدوں کے علاوہ ایک ضخیم مثنوی ”خاور نامہ “ بھی لکھی۔ رستمی نے یہ مثنوی خدیجہ سلطان شہربانو یعنی ملکہ عادل شاہ کی فرمائش پر لکھی تھی۔ یہ مثنوی اصل میں حسام کی فارسی مثنوی خاو ر نامہ کا ترجمہ ہے ۔اس مثنوی میں ایک فرضی داستان نظم کی گئی ہے جس کے ہیرو حضرت علی ہیں جو کئی ملکوں کے بادشاہوں سے جنگ کرتے اور جنوں پریوں سے مقابلہ کرتے ہیں ان کا مقصد تبلیغ اسلام ہے۔ یہ مثنوی کئی اعتبار سے اہم ہے مثلاً یہ اردو کی پہلی ضخیم رزمیہ مثنوی ہے۔ ضخیم ہونے کے باوجود اس میں تسلسل نہیں ٹوٹتے پاتا۔اس کے علاوہ مختلف مواقع پر عادل شاہی عہد کی تہذیب و معاشرت کے مرقعے پیش کیے ہیں۔ اسلوب بیان بھی سادہ اور سلیس ہے۔ یہ مثنوی چوبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ جسے رستمی نے ڈھائی سال کی قلیل مدت میں مکمل کیا ہے۔

حسن شوقی:۔[ترمیم]

شیخ حسن نام اور شوقی تخلص تھا۔ ان کے حالات زندگی کے متعلق ہم لا علم ہیں۔ شوقی کی دو مثنویاں ملتی ہیں۔ ”فتح نامہ نظام شاہ “اور ”میزبانی نامہ “۔
”فتح نامہ نظام شاہ “ میں جنگ تلی کوٹہ کا حال بیان کیا ہے۔ جس میں قطب شاہی، عادل شاہی اور نظام شاہی حکومتوں نے مل کر بیجا نگر کے راجہ سے مقابلہ کیا اور اس کا خاتمہ کرکے علاقہ آپس میں تقسیم کر لیا۔ مثنوی میں اس دور کے تمدن ہندوئوں مسلمانوں کے آپس میں تعلقات سبھی چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ دوسری مثنوی ”میزبانی نامہ “میں شوقی نے سلطان کی شہر گشت اور وزیراعظم مصطفےٰ خان کی بیٹی کی شادی اور اس کی مہان نوازی کا کاتفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ شوقی غزل گو بھی تھے۔

علی عادل شاہ ثانی شاہی:۔[ترمیم]

محمد عادل شاہ کے بیٹے تھے۔ ان کی پرورش خدیجہ سلطان شہر بانو کی نگرانی میں ہوئی جو خود علم و ادب کی پرستار اور شعراءکی قدر دان تھی۔ ملک خوشنود اور رستمی کی صحبت نے بچپن میں ہی اس کے ذوق سخن کو نکھارا۔ باپ کے انتقال پر 1067ھ میں تخت نشین ہوا۔
شاہی نے تقریباًً تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ اردو کے علاوہ ہندی فارسی میں شعر کہتا تھا۔کلیاتِ شاہی میں قصیدے ، مثنویاں ، غزلیں ، مخمس، مثمن ،رباعیات اور گیت دوہے موجود ہیں۔ شاہی کی غزلوں کا اظہا ر و اسلوب لب و لہجے میں ندرت اور بانکپن پایا جاتا ہے ۔ اس نے تشبیہوں کو مقامی رنگ دیا اور ہندوستانی روایات اور ہندو دیومالا کو بڑی چابک دستی سے غزل میں کھپایا ہے۔ اس سے اسکے گہرے مشاہدے وسیع مطالعے اور شاعرانہ باریک بینی اور بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

ملک الشعراءنصرتی :۔[ترمیم]

محمد نصرت نام اور نصرتی تخلص کرتے تھے۔ نصرتی نے بیجا پور کے تین بادشاہوں کا زمانہ دیکھا ۔ علی عادل شاہ کے زمانے میں وہ شہید ہوئے ۔ اب تک ان کی چار کتب کا پتہ چلا ہے۔ یعنی ”گلشن عشق“ ”علی نامہ “ ”تاریخ اسکندری“ اورکلیات نصرتی ۔
گلشن عشق ایک عشقیہ مثنوی ہے جس میں کنور منوہر اور مدماتی کا قصہ نظم کیا گیا ہے۔ ”علی نامہ “ علی عادل شاہ کی سوانح عمری ہے جس میں نصرتی کے قصائد بھی شامل ہیں۔نصرتی کی دونوں مثنویاں اس کے کمال فن اور قدرت کلام کی بہترین شہادتیں ہیں۔نصرتی کی تیسری مثنوی ”سکندر نامہ“ ہے ۔ اس میں سکندر عادل شاہ کی وفات پر شیوا جی اور عادل شاہی فوجوں کے درمیان لڑائی ہوئی اس کا ذکر ہے۔ لیکن اس میں ”علی نامہ “ اور ”گلشن عشق“ جیسا زور بیان اور شگفتگی نہیں ۔ نصرتی صرف مثنوی نگار نہیں تھا بلکہ ایک با کمال غزل گو بھی تھا۔اگرچہ اس کی غزل بہت کم تعداد میں میسر ہے تاہم اس کی غزل میں بے ساختگی ، سلاست اور روانی محسوس ہوتی ہے۔

سید میراں ہاشمی :۔[ترمیم]

ہاشمی کا نام سید میراں تھا۔ وہ علی عادل شاہ ثانی کے عہد کا شاعر تھا۔ ہاشمی مادر زاد اندھا تھا۔ بادشاہ کے دربار میں اسے خاصی مقبولیت حاصل تھی۔ ہاشمی نے ایک دیوان اور مثنوی ”یوسف زلیخا“ چھوڑے ۔ اس کے دیوان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہاشمی کو دکن کی عورتوں کی زبان پر عبور حاصل ہے۔ اس کے دیوان میں ریختی کے انداز کی غزلیں بھی موجود ہیں۔ اس یے کچھ لوگ اسے ریختی کا موجد قرار دیتے ہیں۔

سن آوے تو پردے سے نکل کر بہار بیٹھوں گی
بہانہ کرکے موتیاں کا پروتی ہار بیٹھوں گی

اگر مجموعی طو پر دیکھا جائے تو عادل شاہی دور میں نثری تصانیف کے علاوہ شاعری نے بہت ترقی کی۔ اس دور کے شعراءنے ہر صنف سخن مثلاً مثنوی ، قصیدہ ، مرثیہ ، غزل ، رباعی، گیت اور دوہے سب میں طبع آزمائی کی۔اس دور میں پہلی بار عشقیہ اور رزمیہ مثنویاں لکھی گئیں۔ مثنوی کے علاوہ قصیدہ نگاری کا آغاز ہوااور غزل کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس دور کی غزل میں عورت کی طرف سے اظہارِ عشق پر زور ہے۔ عشق کا تصور بھی جسم کو چھونے ، لطف اندوز ہونے اور رنگ رلیاں منانے کی سطح پر ہے۔ اسی دور میں ریختی کا پہلا دیوان مرتب ہوا۔ غرضیکہ اس دور میں شاعری کی تمام اصناف سخن کو نمائندگی ملی۔ زبان کو بھی ترقی نصیب ہوئی ۔ جہاں تک نثری ادب کا تعلق ہے اس کا موضوع زیادہ تر مسائل تصوف تک محدود ہے۔

قطب شاہی دور[ترمیم]

قطب شاہی سلطنت کا بانی سلطان قلی شاہ تھا۔ سلطان قلی شاہ بھی عادل شاہی سلطنت کے بانی یوسف خان عادل کی طرح ایران سے جان بچا کر دکن آیا اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں ، قابلیت ، وفاداری اور سخت کوشی کی بنا پر ترقی کی منزلیں طے کیں اور صوبہ تلنگانہ کا صوبہ دار بن گیا۔ بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد اپنی خود مختیاری کا علان کیا اور دکن میں ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو کم و بیش ایک سو اسی برس تک قائم رہی ۔
قطب شاہی سلاطین علم و ادب سے خاص لگائو رکھتے تھے اور اہل ہنر کی قدردانی کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی سرپرستی میں مختلف علوم و فنون نے ترقی کی۔قطب شاہی دور کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

١) ابتدائی کوشش جو 1508ءسے 1580 تک ہوئیں
٢) عروج کا زمانہ جو 1580ءسے 1676ءتک جاری رہا۔
٣) دور انتشار جو 1676ءسے شروع ہو کر 1687ءپرختم ہوا۔

تیسرا دور چونکہ حکومت کمزور ہونے کی وجہ سے انتشار کا دور ہے اس لیے اس دور میں علم وادب کے حوالے زیادہ قابلِ ذکر کام نہیں ہوا۔ آئیے ابتدائی دو ادوار کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا دور:۔[ترمیم]

سلطنت گولکنڈہ کے ابتدائی دور کے چار بادشاہ ، سلطان قلی، جمشید قلی، سبحان قلی اور ابراہیم قلی اپنی سلطنت کے استحکام میں مصروف رہے اور انتظام کی طرف زیادہ توجہ کی لیکن یہ بادشاہ بھی صاحب ذوق تھے۔ اس طرح ابراہیم کی کوششوں سے ہی گولگنڈہ میں علمی و ادبی فضا ءپیدا ہوئی اور عوام اردو زبان میں دلچسپی لینے لگے۔اس دور میں فارسی شعراءکو فروغ حاصل ہوا لیکن ابراہیم کے عہد میں اردو شعراءمیں ملا خیالی، ملا فیروز اور سید محمود کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

دوسرا دور :۔[ترمیم]

قطب شاہی سلطنت کا یہ دور صحیح معنوں میں علم و ادب کی ترقی اور عروج کادور ہے۔ کیونکہ ابراہیم قطب شاہ نے جس طرح اہل علم و فضل کی قدردانی کی تھی اس کی وجہ سے دور دور سے اہل علم و فضل آکر دکن میں جمع ہو چکے تھے۔ ابراہیم قطب شاہ کی وفات پر گولکنڈہ کو محمد قلی قطب شاہ جیسا حکمران نصیب ہوا۔ محمد قلی قطب شاہ کا دور کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ۔اس کا دور پرامن دور تھا۔ایسے پرامن اور خوشحال زمانے میں جب بادشاہ خود شعر و شاعری کا دلدادہ ہو اور اس کے دربار میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا موجود ہو تو طاہر ہے کہ دوسرے میدانوں کی طرح علم و ادب کے میدان میں بھی زبردست ترقی ہوئی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہمیں ملا وجہی ، غواصی، احمد، ابن نشاطی وغیر ہ جیسے بلند پایہ شاعروں اورادیبوں کے نام نظر آتے ہیں۔ ذیل میں ہم اس دور کے مشہور شعراءاو رادبا کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔

قلی قطب شاہ:۔[ترمیم]

قلی قطب شاہ گولکنڈ ہ کے پانچویں فرما رواں تھے۔ محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے۔ بقول ڈاکٹر محی الدین قادری ، وہ اردو زبان وادب کا محسن اعظم ہے۔ انتظام سلطنت کے بعد اسے اگر کسی چیز سے دلچسپی تھی تو اردوسخن ہی تھا۔ اس نے ابتدائی ایام میں اردو کی سرپرستی کی اور اسے اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا وسیلہ بنا کر ایک نئی توانائی بخشی ۔
قلی قطب شاہ نے ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن اس کی غزلیں خاص طور سے قابلِ توجہ ہیں۔ ان غزلوں میں ہندی اثرات ہونے کی وجہ سے اظہار محبت عورت کی طرف سے ہے۔ اس کی غزل میں سوز و گداز بھی ہے اور جذبات کی بے ساختگی بھی ملتی ہے۔ اس نے غزل کے موضوعات میں اضافہ کیا اور اسے محض غم ِ جاناں تک محدود نہیں رکھا۔

تیری الفت کا میں سرمست ہور متوال ہوں پیارے
نہیں ہوتا بجز اس کے کسی مئے کا اثر مجھ کو

محمد قلی قطب شاہ کے دیوان میں بڑا تنوع اور رنگا رنگی ہے۔ اس نے مختلف موضوعات پر نظمیں لکھیں۔ اس کے دیوان میں نیچر ل شاعری کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے ہاں ہلا ل عید، ترکاری ، پھل ، پھول ، سالگرہ ، رسم جلوہ، دیگر روسومات شادی بیاہ ، شب معراج ، عید رمضان ، عیدالضحیٰ، وغیرہ پر بھی نظمیں ملتی ہیں۔ جو کہ اس وقت کے دکن کی مکمل تصویر کشی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ملا وجہی:۔[ترمیم]

محمد قلی قطب کے ہم عصر شعراءمیں ملا وجہی سب سے بڑا شاعر ہے۔ وجہی کا سب سے بڑا کارنامہ اردو پہلی نثری کتاب ”سب رس “ ہے۔ جو کہ فتاحی نیشاپوری کی کہانی ”حسن و دل “ کا اردو ترجمہ ہے۔”سب رس “ کئی حوالوں سے بہت اہم کتاب ہے۔ اس کی عبارت مسجع و مقفٰی ہے ۔ لیکن اردو انشائیہ نگاری کے ابتدائی خطوط ہمیں ملا وجہی کے ہاں ہمیں اس کتاب میں نظر آتے ہیں۔
وجہی نے 1400ءمیں ایک مثنوی ”قطب مشتری “ کے نام سے لکھی اس میں اُس نے بھاگ متی کے ساتھ بادشاہ کے عشق کی داستان بیان کی ہے۔ مگر صاف صاف نام لکھنے کی بجائے بھاگ متی کی جگہ مشتری لکھااور اسے بنگال کی شہزادی بتایا ہے۔ قطب مشتری وجہی کے شاعرانہ کمال کااعلیٰ نمونہ ہے اس میں زبان کی برجستگی اور صفائی کے علاوہ مرقع نگاری کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں ۔ جن سے اس دور کی مجلسی اور تہذیبی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔

سلطان محمد قلی شاہ:۔[ترمیم]

سلطان محمد ”قلی قطب شاہ “ کا بھتیجا اور داماد تھا جو اس کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ وہ خود شاعر تھا لیکن نغمہ اور عشقیہ شاعری سے پرہیز کرتا تھا۔ اس نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے۔ اسے علم وفضل او ر تاریخ سے گہرا لگائو تھا۔ اس کی شاعری پربھی تصوف،مذہب اور فلسفہ کا اثر نمایاں ہے۔ وہ ظل اللہ تخلص کرتا تھا۔ مگر اس کا دیوان نایاب ہے۔

ملک الشعراءغواصی:۔[ترمیم]

غواضی کو گولکنڈہ کا ملک شعراءسمجھا جاتا ہے ۔ محمد قلی قطب شاہ کے عہد میں وجہی کو غواضی کے شاعرانہ کمال نے حسد میں مبتلا رکھا ۔ اور اسے دربار سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ جس کے وجہ سے قلی قطب شاہ کے دربار میں غواضی کو اپنے کمال کی داد نہ مل سکی ۔مگر عبداللہ قطب شاہ کے تخت نشین ہوتے ہیں غواضی نے اپنی مثنوی ” سیف الملوک و بدیع الجمال “ میں معمولی رد بدل کرکے اسے سلطان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ چنانچہ غواصی کو ملک الشعراءبنا دیا گیا۔ غواصی کی دوسری مثنوی ”طوطی نامہ “ پہلی مثنوی سے زیادہ ضخیم اور دلچسپ ہے۔ یہ دراصل فارسی کے ”طوطی نامہ “ کا ترجمہ ہے۔ ”طوطی نامہ “ کی زبان اس کی پہلی مثنوی سے زیادہ سلیس اور دلکش ہے مگر شاعرانہ خصوصیات اور نزاکتیں پہلی مثنوی میں زیادہ ہیں۔ ا سکے علاوہ غواصی کی ایک اور مثنوی ”مینا ستونتی “ کچھ عرصہ قبل دریافت ہوئی ہے۔ مثنوی کے علاوہ اس کے کلام میں غزل ، قصیدہ اور مرثیہ بھی ملتے ہیں۔

سلطان عبداللہ قطب شاہ:۔[ترمیم]

عبداللہ قطب شاہ گولکنڈہ کا ساتواں حکمران تھا۔ اس کی عادات و خصائل اپنے نانا قطب شاہ سے بہت ملتی جلتی تھیں۔ چنانچہ اس کے عہد میں وہ تمام رنگ رلیاں اور تقاریب پھر سے جاریہوگئیں جو سلطان محمد کے عہد میں منسوخ تھیں۔ سلطا ن کو شعر و سخن سے بہت زیادہ لگائو تھا۔ اُسی نے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہے۔ اُس نے موسیقی کے متعلق بھی ایک کتاب لکھی۔ سلطان نے حافظ کی غزلوں کے ترجمے بھی کیے۔ عبداللہ قطب شاہ جمالیاتی اعتبار سے محمد قلی قطب شاہ کی روایت کے شاعر ہیں۔ اس کے ہاں متعلقات حسن کا ذکر کثرت سے ہے۔ اس کے اشعار میں مغل دور کے جمالیاتی طرز احساس کی جھلکیاں نظرآتی ہیں۔

ابن نشاطی:۔[ترمیم]

شعرائے گولکنڈہ میں ابن نشاطی ایک عظیم فنکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی زندگی کے حالات معلوم نہیں۔ ”پھول بن “ ان کی لافانی مثنوی ہے۔ جس سے اس کے بارے میں کچھ کچھ اشارے ملتے ہیں۔ نشاطی نہ صرف شاعر تھا بلکہ انشاءپرداز بھی ۔ وہ درباری شاعر کی بجائے ایک عوامی فنکار تھا جو دربار سے زیادہ عوام میں مقبول تھا۔ زبان کی سادگی اور سلاست کے اعتبار سے مثنوی ” پھول بن“شاعری کا اچھا نمونہ کہی جا سکتی ہے۔

طبعی :۔[ترمیم]

ڈاکٹر زور کے نزدیک طبعی ، ابن نشاطی کے بعد حیدر آباد کا سب سے بڑا استاد سخن گزرا ہے۔ ابن نشاطی کی طرح وہ بھی آزاد منش تھا۔ اس نے بھی دربار سے کوئی تعلق نہ رکھا۔ طبعی نے ١٧٠١ءمیں مثنوی ”بہر و گل اندام “ لکھی ۔ جودکنی اردو کے بہترین کارناموں میں سے ہے۔ زبان کی سلاست اور شستگی قابل ِ داد ہے۔اس کی یہ مثنوی نہ صرف زبان کے اعتار سے بلکہ ادبی اعتبار سے فن کے اعلیٰ نمونوں میں شمار ہوتی ہے۔ طبعی نے شاعرانہ تشبیہات و استعارات میں مقامی اور فارسی دونوں روایتوں کو ملا دیا ہے۔

مجموعی طور سے دیکھا جائے تو اس عہد میں اردو زبان و ادب کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جہاںقطب شاہی حکمران اہل علم و ہنر کی سرپرستی کرتے تھے وہاں ان میں سے اکثر و بیشتر شعر و شاعری کے رسیا تھے۔ ان کے دور میں قصیدہ ، مثنوی ، غزل کے میدان میں کافی کام ہوا ۔ زبان کی ابتدائی صورت ہونے کے باوجود بہترین تخلیقات منظر عام پر آئیں۔

ولی دکنی :۔[ترمیم]

ولی کے خاندان ،مقام پیدائش اورتاریخ وفات سبھی کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بعض محققین کے خیال میں احمد نگر میں پیدا ہوئے۔ لیکن میر تقی میر کے نکات الشعراءکے حوالے سے جائے پیدائش اورنگ آباد اور سنہ ولادت 1668ءتسلیم کیا جاتا ہے۔ نام بھی نزاعی ہے لیکن ڈاکٹر جمیل جالبی ، ولی محمد کو اصل نام تسلیم کرتے ہیں۔
ولی کو بلاشبہ جنوبی ہند ہی نہیں بلکہ اردو کے عظیم شعراءمیں شما ر کیا جا سکتا ہے بلکہ عابد علی عابد نے تو ٹی ایس ایلیٹ کے معیار کے مطابق صرف ولی کو اردو شاعری میں ”کلاسیک “ کی مثال تسلیم کیاہے۔دکنی شعرا ءنے غزل کے ڈھانچے کو تو اپنایا لیکن اس کے مزاج سے پوری طرح شیر و شکر نہ ہو سکے۔ چنانچہ ان کی غزل پر ہندی شاعری کے اثرات نمایاں ہیں۔ لیکن ولی نے لسانی اجتہاد سے کام لیتے ہوئے فارسی شاعری کا بغور مطالعہ کیا۔ غزل کے مزاج کو سمجھا اور فارسی غزل سے استفادہ کرتے ہوئے اردو غزل کومستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ ولی نے نہ صرف مضامین کو وسعت دی بلکہ لسانی اعتبار سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
ولی کی شاعری میں زندگی سے بھر پور لب و لہجہ ملتا ہے جو ہمیںزندگی کی زرخیزی کااحساس دلاتا ہے۔ اس کا تصور حسن نشاطیہ لے سے بھرپور ہے۔ لیکن یہ نشاطیہ انداز کبھی حد سے متجاوز نہیں ہوتا۔ولی کی شاعری میں فطرت کا تمام حسن سمٹ کرآگیا ہے۔

نہ جائوں صحنِ گلشن میں خوش آتا نہیں مجھ کو
بغیر از ماہ رو ہرگز تماشا ماہتابی کا

صنم مجھ دیدہ و دل میں گزر کر
ہوا ہے باغ ہے آب رواں ہے

ولی کا تصور عشق پاکیزہ ہے عشق کو وہ ہادی و رہبر تصور رکرتے ہیں۔ اور محبوب کے حسن و جمال کی تعریف و توصیف کرتے وقت سراپا نگاری میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صوفیانہ تصورات بھی ان کی شاعری میں ملتے ہیں۔

حسن تھا عالم تجرید میں سب سوں آزاد
طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

اس بات میں کوئی شک نہیںکہ شمالی ہند میں اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز ولی کے دیوان کی بدولت ہوا۔ ان کا اثر معاصرین اور مقلدین پر موقوف نہیں بلکہ ان کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔