اردشیر دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

404 ق م،

358ق م ،

دراثانی کا بیٹا جو دارا ئے دانشمند کے لقب سے ہنحامنشی تخت پر بیٹھا۔ اپنے بھائی سائرس خرد کو جو تخت کا دعوے دار اور ایشائے کوچک کا گورنر تھا شکست دی۔ یونان کی اہم فوجی طاقت سپارٹا کو ہرا کر ذلت آمیز شرائط ماننے پر مجبور کیا۔ مصر اور بابل کی بغاوتیں فرو کیں۔ نہایت رحم دل اور نیک بادشاہ تھا۔ اپنی ظالم ماں پاری سائیس کے کہنے پر اپنی بیٹی اتوسا سے شادی کی۔ ایران کے قدیم دیوتا متھرا (سورج) کی پرستش کو دوبارہ رواج دیا۔ مردم خیزی کی دیوی اناہتیا کے بت جگہ جگہ نصب کیے اور ان دونوں دیوتاؤں کو اہورمزدا (پارسیوں کا خدا) کے ہم مرتبہ قرار دیا۔ اس کا حرم بہت وسیع تھا۔ اور اس کے بیٹوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ تھی مگر اس کی موت کے وقت فقط ایک بیٹا زندہ تھا۔

اس کے علاوہ ارد شیر دوم 379ء۔ 383ء میں ایک غیر معروف ساسانی بادشاہ بھی تھا۔