اردو حروف تہجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


اردو حروفِ تہجی

اردو زبان میں چھتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں [1] جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔

حروف کی فہرست[ترمیم]

اردو کے سینتیس حروف کی فہرست درج ذیل ہے۔ کچھ تفصیل درج ہے۔ مزید کے لیے مطلوبہ حرف کا اپنا مضمون دیکھئیے۔

  • الف ('ا'): اردو میں دو قسم کے الف ہیں ایک الف ممدودہ (آ) کہلاتا ہے اور دوسرا الف مقصورہ (ا)۔
  • بے ('ب'پے ('پ'تے ('ت'ٹے ('ٹ'ثے ('ث'جیم ('ج'چے ('چ'حے ('ح'): اسے حائے حطی کہا جاتا ہے۔، خے ('خ')
  • دال ('د'ڈال ('ڈ'ذال ('ذ'رے ('ر'ڑے ('ڑ'زے ('ز'ژے ('ژ')
  • سین ('س')، * شین ('ش'صاد یا صواد ('ص'ضاد یا ضواد ('ض'طوئے ('ط'ظوئے ('ظ'عین ('ع'غین ('غ')
  • فے ('ف'قاف ('ق'کاف ('ک'گاف ('گ'لام ('ل'میم ('م'نون ('ن'): اس کی دو شکلیں مستعمل ہیں۔ ایک سادہ نون 'ن' اور دوسری نونِ غنہ 'ں' جو ناک کی مدد سے نکالے جانے والی آواز ہے۔ یہ آواز فرانسیسی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
  • واؤ ('و'ہے ('ہ'): اس کی مختلف اشکال ہیں مثلاً 'ہ' اور 'ھ' جس میں مؤخر الذکر کو دو چشمی ہے کہا جاتا ہے اور اسے اکثر مخلوط حروف بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے چھ، کھ وغیرہ۔
  • ہمزہ ('ء'): یہ حروفِ علت کا نعم البدل بعض کے نزدیک یہ ایک الگ حرف ہے جیسا کہ 'دائرہ' جیسے الفاظ میں۔ مگر یہ کئی جگہ صرف تلفظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں اسے الگ حرف نہیں گنا جاتا۔ اس کے حرف گننے یا نہ گننے کا یہ اصول اس وقت بھی لاگو ہوتا ہے جب حروفِ ابجد کے حساب سے اعداد نکالے جاتے ہیں۔
  • یے (چھوٹی یے) ('ی'): اس کی بھی دو اشکال ہیں جو اس بات پر منحصر ہے کہ 'ی' لفظ میں آخر میں ہے یا نہیں۔
  • یے (بڑی یے) ('ے'):


حرف ‘‘ ة ’’’[ترمیم]

حرف ‘‘ ة ’’ کو عموماً اُردو ابجد کا حصّہ نہیں مانا جاتا، تاہم کئی الفاظ و اِصطلاحات میں اِس کا اِستعمال ضرور ہے. جس کی ایک مثال مرکب لفظ دائرةالمعارف ہے. اور شاید اِسی اِستعمال کی وجہ سے مقتدرۂ قومی زبان نے اُردو حروفِ تہجی میں اِس کو شامل کیا ہے، اِس کے ساتھ ساتھ کئی مزید حروف کو بھی شاملِ ابجد کیا گیا ہے جس سے اُردو حروفِ تہجی کی تعداد 58 ہوجاتی ہے ..


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ مرزا خلیل احمد بیگ کی کتاب اردو کی لسانی تشکیل
  • کتاب: آئیے اردو سیکھیں از مرزا خلیل احمد بیگ


جدول 1: درج ذیل جدول میں حروف تہجی ، قابلِ طق (clickable) ہیں اور متعلقہ ابجد کی جانب راہنمائی کرتے ہیں۔ ہر ابجد کے نیچے اسکا انگریزی تلفظ ، غیراردو (یا طالب اردو) صارفین کو مدنظر رکھ کر دیا گیا ہے؛ جبکہ (قوسین) میں موجود انگریزی متبادل ابجدیہ ، بصورت ضرورت لاطینی اردو (roman urdu) تلفظ کی ادائگی میں یکسانیت قائم رکھنے کے مقصد سے درج ہیں۔
ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح
Alif (a) Bay (b) Pay (p) tey (t) Tey (T) sey (s) Jiim (j) chey (ch) Hey (H)
خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س
Khey (Kh) daal (d) Daal (D) zaal (z) rey (r) Rey (R) zey (z) zhey (zh) siin (s)
ش ص ض ط ظ ع غ ف ق
shiin (sh) Suad (S) Zuad (Z) toy (t) zoy (z) ain (a) Ghain (Gh) fey (f) qaaf (q)
ک گ ل م ن و ہ ی ے
kaaf (k) gaaf (g) laam (l) miim (m) noon (n) wao (w,v) hey (h) yei (y) Yei (Y)