ارنسٹ ہیمنگوئے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Ernest Hemingway


ارنسٹ ہیمنگوئے
ارنسٹ ہیمنگوئے

شہرہ آفاق ادیب صحافی اور ناول نگار۔ ہیمنگوئے 21 جولائی 1899 ء کو شکاگو کے ایک قصبے اوک پارک ایلیونس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ڈاکٹر تھا جسے بیٹے کی پیدائش کی اتنی خوشی ہوئی کہ اس نے گھر کے باہر بگل بجا کر اس بات کا اعلان کیا۔ ہمینگوئے کی ماں ایک اوپرا سے وابستہ تھی جہاں وہ میوزک کے بارے میں پڑھا کر پیسے کماتی۔ اس کا مذہب کی طرف رجحان زیادہ نہ تھا۔ ماں کا خیال تھا کہ ہمینگوئے بھی میوزک کی طرف راغب ہوگا لیکن ہمنگوئے گھر سے باہر ، اپنے والد کے ساتھ شکار اور شمالی مشی گن کی جھلیوں اور جنگلوں میں کیمپ لگانے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ یوں وہ فطرت سے قریب رہنے کی کوشش کرتا۔

تعلیم[ترمیم]

تعلیم کے لیے اس نے اوک پارک اینڈریو فورسٹ ہائی سکول میں داخلہ لیا سکول کے دور میں اس نے کھیلوں اور تعلیم دونوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ فٹبال اور باکسنگ کے مقابلوں میں حصہ لیتا۔ تعلیمی حوالے سے سب سے زیادہ استعداد کار مظاہرہ اس نے انگریزی کلاسوں میں کیا۔ سکول کے زمانے میں شائع ہونے والے اخبارات اور ائیر بک میں اس کی نگارشات شائع ہوتیں ۔ وہ اس زمانے میں اپنے ادبی ہیرو سے متاثر ہو کر اس کے نام رنگ لارڈنر جوئنیر کے نام سے بھی لکھتا تھا۔ ہائی سکول میں تعلیم پانے کے بعد اس نے کالج کا رخ کیا اور اخبار کنساس سٹی میں بطور رپوٹر بھرتی ہوگیا۔ اخبار کے ساتھ وابستگی تو چھ ماں رہی لیکن تحریر کے حوالے سے اسے جو مشق حاصل ہوئی وہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے کا عمر بھر تذکرہ کرتے رہے۔ اور جملوں کی شستہ بناوٹ چھوٹے اقتباسات اور شستہ زبان کا استعمال انہوں نے اخبار سے ہی سیکھا۔

عالمی جنگ[ترمیم]

چھ ماہ تک رپورٹنگ کے بعد اس نے والد کی خواہش کے برخلاف پہلی جنگ عظیم میں حصہ لینے کے لیے امریکی فوج میں شامل ہونے کی ٹھانی۔ وہ بینائی سے کمزوری کے باعث طبی معائنے میں ناکام ہوا۔ البتہ و ریڈ کراس ایبولینس کا ڈرائیور بن کر جنگ میں شریک ہوگیا۔ اٹلی میں محاذ جنگ پر جاتے ہوئے پیرس میں روک لیا گیا جو کہ اس وقت جرمنی کی بمباری کی ذد میں تھا۔ ہیمنگوئے فلوریڈا ہوٹل کے نسبتاً محفوظ علاقے میں قیام کے بجائے ، محاذ کے قریب جانے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا ۔ اٹلی کے محاذ جنگ پر پہنچنے کے بعد اس کو پہلی مرتبہ جنگ کی ستم رانیاں دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کی ڈیوٹی کے پہلے روز ایمونیشن فیکٹری میں دھماکہ ہوا۔ ہیمنگوئے کو وہاں سے انسان لاشوں کو نکالنا پڑا۔ اس تجربے کے بعد A Natural History the dead کے نام سے کتاب بھی لکھی۔ موت کے قریب سے دیکھنے کے عمل نے ہمینگوئے کو توڑ کر رکھ دیا۔ آٹھ جولائی 1918ء کو فرائض کی انجام دہی کے دوران مورٹرشل لگنے سے زخمی ہوا جس سے بطور ایمولنس ڈرائیور اس کا کیئریر انجام کو پہنچا۔ اس کے علاوہ اس کو گولی بھی لگی۔ زخمی ہونے کے باوجود زخمی اطالوی فوجی کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے کارنامے کے نتیجے میں اس کو اطالوی حکومت نے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ اٹلی کی سرزمین میں پہلی جنگ عظیم کے دوران زخمی ہونے والا پہلی امریکی تھا گو کہ اس امر کے مزید دعوے دار بھی بعد میں پیدا ہوگئے۔

پہلی محبت[ترمیم]

ہیمنگوئے کو امریکی ریڈ کراس کے ہسپتال میلان میں علاج کے لیے داخل کیا گیا، وہاں اس کے لیے تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، وہ جی بھر کر شراب پیتا اور اخبار کا مطالعہ کرکے اپنا وقت گزارتا۔ یہاں اس کی ملاقات اگینزوون کروسکی نامی نرس سے ہوئی اوروہ اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا لیکن اس کے امریکہ پہنچنے پر اس نے طے شدہ منصوبہ کے تحت ، اس کے پیچھے امریکہ آنے کے بجائے ایک اطالوی فوجی افسر سے تعلق استوار کر لیا۔ محبت میں ناکامی کے اس تجربے نے ذہنی طور پر شدید متاثر کیا۔ 1925 ء میں شائع ہونے والی ہیمنگوئے کی پہلی کہانی “ A very Short story” اسی ناکام محبت کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔

جنگ کے بعد[ترمیم]

جنگ کے بعد ہیمنگوئے اوک پارک دوبارہ آبسا اور 1920ء میں وہ اخبار ٹورانٹو سٹار کے ساتھ وابستہ ہوگیا اور بطور فری لانسر ، سٹاف رائیٹر اور غیر ملکی نمائدہ کے طور پر کام کرنے لگا۔ یہیں اس کی دوستی رپورٹر مورلے کلاگن سے ہوئی، مورلے نے اس زمانے میں جب افسانے لکھے تو اس نے ہمینگوئے کو دکھائے تو اس نے انہیں بنظر استحسان دیکھا۔ بعد میں دونوں پیرس میں ایک مرتبہ پھر اکھٹے ہوئے کچھ عرصہ تک ہیمنگوئے شکاگو کے جنوب میں رہا جہاں وہ ٹورانٹو سٹار کے لیے رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ ماہنامے کوآپریٹو کامن ویلتھ سے بطور ایڈیٹر وابستہ تھا۔ تین ستمبر 1921ء میں اس کی شادی ہوگئی ۔ ہنی مون کے بعد وہ بیوی کے ہمراہ ایک شکستہ اپارٹمنٹ میں رہنے پر مجبور ہوا۔ ۔ ہیمنگوئے کی بیوی اس قیام گاہ کو ذرا بھی پسند نہ رکتی تھی اور اسے تاریک اور پریشان کن قرار دیتی تھی۔

پیرس میں قیام[ترمیم]

1921ء میں ہیمنگوئے نے اوک پارک اور شکاگو کو چھوڑ دیا اور پریس میں آ بسا ۔ جہاں وہ ٹورانٹو سٹار کے لیے رپورٹنگ کرتا رہا۔ اس زمانے میں اس کا تعارف گرٹروڈسٹین سے ہوا جو اس کی سرپرست بن گئی اور اس نے اسے پریس کی جدید تحریک سے روشناس کرا۔یا۔ یہی امریکی جلا وطن افراد کے اس سرکل کا نقطۂ آغاز تھا جو بعد میں گم شدہ نسلیں کے نام سے جانا گیا۔ ہیمنگوئے نے بعد میں اپنے ناول “ The sun also rises”اور اپنی یاداشتوں کے ذریعے گمشدہ نسلوں کو بہت زیادہ شہرت بخشی۔ اس زمانے میں اس کا ایذرا پاؤنڈ سے بھی رابطہ رہا جسے امیج ازم کا بانی کہا جاتا ہے۔ 1922 میں جیمز جوائس کی شہر آفاق کتاب “Ulysses” شائع ہوئی۔ امریکہ میں ناول پر پابندی کے بعد ہمینگوئے نے ٹورانٹو میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے ناول کو امریکہ میں پہنچانے کا انتظام کیا۔ ہیمنگوئے نے اپنی یاداشتوں میں جیمز جوائس سے پیرس میں ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔ 1923 میں پریس سے اس کی پہلی کتاب Three stories and ten poems”شائع ہوئی غیر ملکی نمائندے کے طور پر اسے بے پناہ کامیابی ملی

کینڈا آمد[ترمیم]

1923 میں وہ کینڈا پہنچا اور پیٹر جیکسن کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا۔ کینڈا میں ہیمنگوئے کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ اس زمانے میں اس کے اپنے اخبار کے ایڈیٹر سے اختلافات پیدا ہوگئے اور ہمینگوئے نے ناراض ہو کر استفا دے دیا لیکن اسے منظور نہ کیا گیا اور وہ 1924ء کے دوان مسلسل ٹورانٹو سٹار کے لیے لکھتا رہا۔ سٹار کے لیے اس کی تحریریں ڈیٹ لائن ٹورانٹو کے نام سے شائع ہوئیں۔ 1925 میں اس کا افسانوی مجموعہ In our time شائع ہوا امریکہ سے شائع ہونے والی اس کی پہلی کتاب تھی ۔ یہ کتاب اس حوالے سے ہیمنگوئے کے لیے بڑی اہم ثابت ہوئی کہ اس کے اختیار کردہ اسلوب کو ادبی برادری نے قبول کر لیا ہے۔ اس مجموعے کی سب سے مقبول کہانی “ Big two hearted river” تھی۔اپریل 1925ء میں The great Gatsby شائع ہونے کے بعد اس کی ملاقات ایف سکاٹ فنز گیرالڈ سے ہوئی جو جلد دوستی میں بدل گئی ۔ اب ان کے مباحث اورپنے پلانے کی محفلیں جمنے لگیں۔ دونوں میں مسوادات کا تبادلہ ہوجاتا تھا۔ فرانس میں گزرے ماہ و سال کے حوالے سے اس نے طویل ناول The sun also rises لکھا۔ برطانیہ میں یہ ناول “Fiesta” کے عنوان سے چھپا ۔ اس ناول کو کسی حد تک خود نوشت کہا جاسکتا ہے۔ جس میں پیرس اور سپین میں آباد امریکیوں کے گروہوں کو دکھایا گیا ہے۔ اس ناول کو یورپ اور امریکہ میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔

دوسری شادی[ترمیم]

1927ء میں ہیمنگوئے نے ہیڈلی رچرڈسن کو طلاق دے کر پالین فیفر سے شادی کر لی جو فیشن رپورٹر تھی ۔ اس دور میں ہیمنگوئے نے کھتولک ازم کو قبول کیا ۔ اسی برس اس کا افسانوی مجموعہ “Men with out women” چھپا ۔ اس کتاب میں ہی ہیمنگوئے کی مشہور ترین کہانی “The killers” بھی شامل تھی۔ 1928ء میں وہ بیوی کے ہمراہ فلوریڈا منتقل ہوگیا۔


غم کا سال[ترمیم]

1928ء کا برس ہیمنگوئے کے لیے بڑا دکھ بھرا تھا کیونکہ اسی برس اس کے والد ذیابیطس کا مریض اور معاشی مشکلات کا شکار تھا۔ اس نے خود کو گولی مار کر زندگی کے بندھنوں سے اذادی حاصل کی۔ وہ اوک پارک پہنچا جہاں اس نے باپ کی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا۔ اس نے جب کیھتولک نظریے کے مطابق اس بات کا اظہار کیا کہ خود کشی کرنے والے جنہم میں جائیں گے تو وہاں نزاعی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس برس ہیمنگوئے کے دوسرے بیٹے پیٹرک نے کنساس میں جنم لیا ۔ بیٹے کی پیدائش بڑی پچیدہ صورتحال میں ہوئی جس کی تفصیلات اس نے اپنے ناول ’’وداع جنگ‘‘ کے اختتامی صفحات میں درج کی ہیں۔ اس ناول اور بہت سے افسانوں کو اس نے پالین ک والدین کے گھر آرکنساس میں ہی لکھا۔ 1931ء میں ہیمنگوئے کا ویسٹ فلوریڈا میں قیام پذیر ہوگیا۔ اب اس جگہ اس نے امریکہ میں پہلی رہائش گاہ قئم کی جس کو بعد میں میوزیم کا درجہ دے دیا گیا۔


سپین کے متعلق تحریریں[ترمیم]

1932ء میں ہیمنگوئے کی کتاب جو کہ بل فاٹنگ کے موضوع پر لکھی گئی تھی “Death in the afternoon”شائع ہوئی۔ ہمنگوئے کی سپین کے بارے میں تحریروں میں اسپانوی مصنف پییو بروجا کا گہرا اثر نظرآتا ہے۔ ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے کے بعد وہ بروجا سے ملنے بھی گیا جو اس وقت بستر مرگ پر تھا۔ اس نے اس امر کا اعتراف بھی کیا کہ بروجا اس سے زیادہ نوبیل انعام کا حق دار تھا۔ 1933 میں وہ سیاست کے لیے افریقہ کے کئی ممالک کو گیا اس سفر کے تجربات بھی کئی کتابوں کی صورت میں منظر عام پر آئے۔


ہسپانوی سول وار کی رپورٹنگ[ترمیم]

ہسپانوی سول جنگ کی نارتھ امریکن نیوز پیپرز الائنس کی طرف سے رپورٹنگ کے لیے وہ 1937ء میں سپین گیا ، اس جنگ نے اس کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ہیمنگوئے جو کہ اپنی بیوی پالیون سے شادی کے وقت کیتھولک ہوچکا تھا اب مذہب کے بارے میں تشکک کا شکار ہوا اور چرچ سے باغی ہو گیا ۔ اس کی بیوی کیھتولک ازم کی پرجوش حامی تھی اس لیے وہ فرانکو کی فاشٹ حکومت کی حمایت کر رہی تھی اس کے برخلاف ہیمنگوئے ری پبلیکن حکومت کی حمایت کرتا تھا۔ اس زمانے میں اس نے “The Denunciation” لکھا جس کا چرچا بہت کم ہی ہوا اس کی اشاعت بھی 1969ء میں ممکن ہوئی جب اس کو ہیمنگوئے کی کہانیوں کے مجموعے میں شامل کیا گیا۔

بیوی سے طلاق[ترمیم]

1939ء میں فرانکو اور قوم پرستں نے ری پبلکن کو شکست سے دوچار کیا اور یوں سول جنگ کا خاتمہ ہو گیا جس کی وجہ سے ہیمنگوئے کو خود اختیار کردہ وطن سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ، دوسری جانب بیوی کو طلاق دینے کے باعث وہ ویسٹ فلوریڈا میں اپنے گھر سے محروم ہوگیا۔ طلاق کے کچھ ہی ہفتوں بعد اس نے سپین میں چار سال سے اپنے ساتھ کام کرنے والی مارتھا گیلہوم سے تیسری شادی رچا لی۔ یہ 1940ء کی بات ہے اسی برس اس کی اسپین کی سول جنگ کے حوالے سے ناول “For Whom the bells tolls” شائع ہوا۔ یہ ناول حقیقی واقعات کے تناظر میں ہی لکھا گیا تھا۔ جس میں ایک امریکی فوجی رابرٹ جورڈن جوری پبلک کی جانب سے ہسپانوی فوجیوں سے لڑ رہا تھا۔ اس ناول کو ہیمنگوئے کا اہم ترین ادبی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم[ترمیم]

امریکہ دوسری جنگ عظیم میں آٹھ دسمبر 1941ء کو شریک ہوا۔ ہیمنگوئے اس جنگ کی کوریج کے لیے کویر میگزین کی طرف سے یورپ گیا۔ جنگ کے بعد ہیمنگوئے “The garden of eden”لکھنے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کا یہ تصنیفی منصوبہ برسوں بعد نہایت مختصر شکل میں 1986ء میں شائع ہوا۔ ایک موقع پر نہایت ہی مختصر شکل میں 1986ء میں شائع ۔ آخر می تین حصوں میں اس کا کتاب لکھنے کا منصوبہ تھا لیکن وہ ’’بوڑھا اور سمندر‘‘ کے روپ میں ہی اس کو پیش کرسکا۔

نوبل انعام[ترمیم]

جنگ عظیم کے بعد ہی اس نے خاتون صحافی جس سے اس کی 1944ء میں ملاقات ہوئی تھی اس سے شادی کر لی۔ 1954ء میں نوبیل انعام ملنے پر اس کو بطور ادیب ساکھ میں بہتر بنانے میں مدد ملی۔ انہیں کئی مرتبہ فضائی حادثوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جھاڑیوں میں آگ لگنے کی وجہ سے وہ زخمی ہوا جس نے اس گی اجیرن کر دی جس سے وہ نوبیل انعام حاصل کرنے کی غرض سے سٹاک ہوم جانے سے بھی قاصر رہا۔

کیوبا سے وابستگی[ترمیم]

1959ء میں جب وہ کیوبا میں مقیم تھا انقلاب آیا اور بتیسٹا کی حکومت ختم ہوئی تو بدستور کیوبا میں ہی مقیم رہا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ کاسترو کا حمایتی ہے اور اس کے برپا کیے ہوئے انقلاب کے لیے اس نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد ایف بی آئی اس کی نگرانی کرتی رہی کیونکہ اس کے بارے میں شبہ کیا جاتا تھا کہ اس کا ہسپانوی سول وار کےدنوں میں جن مارکسی سوچ کے حامل افراد کے ساتھ اس کا تعلق استوار ہوا، وہ اس زمانے میں کیوبا میں دوبارہ سرگرم تھے۔1960ء میں اس نے کیوبا کو خیرآباد کہا۔

مشکلات[ترمیم]

فروری 1960ء میں وہ بل فائٹنگ کے بارے میں اپنی کتاب دی ڈیجرس سمر کی اشاعت کے لیے بھاگ دوڑ کرتا رہا ۔ لیکن کوئی بھی پبلشر اس کی کتاب چھاپنے پر رضامند نہ ہوا۔ اس پر اس نے اپنی بیوی کی ایک دوست ول لانگ کی منت سماجت کی جو کہ لائف میگزین کا بیورو چیف تھا کہ وہ اپنے رسالے میں تصاویر کے ساتھ اس کی اشاعت کا کوئی بندوبست کرے۔ بالآخر اس کی مذکورہ کہانی کا پہلا حصہ ستمبر 1960ء میں چھپ گیا لیکن وہ رسالے میں اپنے مضمون کے ساتھ چھپنے والی تصویر سے کسی طور مطمئن نہ تھا اس مضمون کا بقیہ حصہ رسالے کے اگلے شمارے میں چھپ گیا۔

صحت کی خرابی[ترمیم]

1960ء میں وہ بلڈپریشر اور جگر کی بیماری کا شکار تھا اوراس کے ساتھ وہ الیکٹرو کنکولسر تھراپی بھی کروارہا تھا۔ کیونکہ ابھی بھی شدید ذہنی دباؤ اور مالخولیا کا شکار تھا۔ اس طریقہ علاج سے یاداشت جاتی رہتی ہے۔ اس کا وزن بھی بہت گھٹ گیا اورکہا جاتا ہے کہ اس وجہ سے وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوا۔

خود کشی[ترمیم]

1961ء کے موسم بہار میں اس نے خودکشی کی کوشش کی جس پر دوبارہ اس کی ای سی ٹی کی گئی۔ دو جولائی 1961ء کو جب اس کی باسٹھویں سالگرہ میں چند ہی ہفتے رہ گئے تھے اس نے سر میں گولی مار خود کو ہلاک کر لیا۔ ہیمنگوئے اپنے دماغی خلل کا ذمہ دار ای سی ٹی کے طریقہ علاج کو گردانتا رہا اس کا کہنا تھا کہ اس کہ وجہ سے اس کی یاداشت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو اس سے اتفاق ہے اور کچھ ڈاکٹرز کو اس سے اتفاق نہیں۔ ہیمنگوئے کے خاندان میں خودکشی کا رجحان موجود تھا اس کے باپ نے بھی خودکشی کی تھی اور دو بہنوں نے بھی اسی راہ کاانتخاب کیاتھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]