ارومچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ارومچی شہر کے مختلف منظر، سب سے اوپر ارومچی کے مرکزی کاروباری علاقے کا ایک طائرانہ منظر، نیچے بائیں جانب سرخ پہاڑ (ہانگ شان) اور دائیں جانب ارومچی کا شبینہ بازار اور نیچے ارومچی سے کوہ تیان شان کا ایک منظر

اُرومچی (اویغور: ئۈرۈمچی‎، سادہ چینی: 乌鲁木齐، روایتی چینی: 烏魯木齊، انگریزی: Ürümqi یا Ürümchi) شمال مغربی چین کے صوبہ سنکیانگ کا دارالحکومت ہے۔ یہ قازقستان کی سرحد کے قریب تیل کی دولت سے مالا مال خطے کا صنعتی و ثقافتی مرکز ہے۔ 2007ء کے اندازے کے مطابق شہر کی آبادی 15 لاکھ 90 ہزار ہے۔

یہ کوہ تیان شان کے شمالی دامن میں سطح سمندر سے 3 ہزار فٹ (900 میٹر) کی بلندی پر ایک زرخیز نخلستان میں قدیم شاہراہ ریشم پر واقع ہے اور وسط ایشیا میں ایک اہم حیثیت کا حامل رہا ہے۔

یہاں کی صنعتوں میں لوہا، سیمنٹ، زرعی مشینری، کیمیائی مادے اور پارچہ جات تیار کیے جاتے ہیں۔ کوئلہ اور خام لوہے کے ذخائر قریب ہی پائے جاتے ہیں۔

اس کی بیشتر آبادی ہان نسل کے چینی باشندوں پر مشتمل ہے جبکہ ترک قبیلے اویغور مسلمان باشندے سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ علاوہ ازیں قازق اور کرغز اقلیت بھی پائی جاتی ہے۔

اس شہر کی مساجد آج بھی اسلام کے واضح اثرات کی گواہی دیتی ہیں۔ یہاں جامعہ سنکیانگ بھی واقع ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ہان (206 قبل مسیح220ء) اور تانگ خاندانوں (618ء907ء) کی حکومتوں کے بعد یہاں مسلمانوں نے آٹھویں صدی میں قدم رکھا اور 1760ء میں مشرقی ترکستان پر چینی قبضے تک یہاں مسلمانوں کی حکومت رہی۔ 1884ء میں شہر کو نو تشکیل شدہ صوبہ سنکیانگ کا دارالحکومت بنایا گیا۔ 1763ء کے بعد سے اس کا باضابطہ چینی نام دیکھوا تھا لیکن 1954ء میں اسے ارومچی کا نام دیا گیا جو عام طور پر معروف تھا۔ 1955ء میں اسے سنکیانگ اویغور خود مختار علاقے کا دارالحکومت بنایا گیا۔ 1955ء میں تیل کے ذخائر کی دریافت کے بعد یہاں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی ہے۔

جولائی 2009ء میں سنکیانگ میں یہ شہر مسلم چینی فسادات، جسے ہان-اویغور فسادات قرار دیا جاتا ہے، کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد مارے گئے۔

جڑواں شہر[ترمیم]