اسد بن فرات
( 142ھ ۔ 213ھ / 759ء ۔ 828ء )
ابو عبد الله اسد بن فرات بن سنان امام مالک، امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی اور دوسرے مشاہیر محدثین کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ انہیں افریقہ کا قاضی القضاۃ بنا دیا گیا۔ جب زیادۃ اللہ بن ابراہیم اغلبی نے سسلی (صقلیہ) پر حملے کے لیے مشاورت کی تو آپ نے اس کی پرزور حمایت کی۔ اس نے ایک سو جہازوں کا بیڑہ تیار کیا جس کا مرکز قیروان (تیونس) تھا۔ قاضی اسد کو ہی اس حملے کا قائد مقرر کیا۔ سات سو سوار اور دس ہزار پیادے جہازوں پر سوار ہوئے۔ پہلے عام طور پر سسلی کے دارلحکومت سراکیوز (سرقوسہ) پر حملہ کیا جاتا تھا۔ قاضی اسد نے اچانک شہر مازر (مازارا) پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر کے خسکی کے راستے سراکیوز (سرقوسہ) کا قصد کیا اور اس کا محاصر کر لیا۔ شہر فتح نہیں ہوا تھا کہ قاضی اسد نے زخمی ہو کر وفات پائی۔ انہیں سراکیوز (سرقوسہ) کے باہر ہی دفن کر دیا گیا اور وہاں ایک مسجد بنا دی گئی۔