اسلاموفوبیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسلاموفوبیا لفظ ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے۔ اس سے غیر مسلم ’ اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’ نسلیت مسلم گروہ سے ڈرنا ‘ مطلب لیتے ہیں۔ اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بڑھکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔

اسلامفوبیا یعنی اسلام سے دشمنی جس کی انگریزی (Islamophobia) ہے یا اسلام کا خوف ۔یہ نسبتا ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ جس کا مفہوم بے جا طرفداری ، نسلی امتیاز اور لڑائی کی آک بھڑکانا طئے کیا گیا ہے ۔

بہت سارے لوگوں نے اس کی شناخت یہ بھی کرائی ہے کہ یہ لفظ مسلمان یا پھر ان کی شدت پسندیکے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے آغاز ہوا لیکن بیسویں صدی کی اسی اور نوے کے ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا ۔ 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔

تاریخ و ارتقاء

انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف و دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف اس لفظ کی ایجاد کی 1987ء سے ہوتی ہے ۔ جبکہ 1997 ء میں اس اصطلاح کی تعریف کرنے کی کوشش کی گئی جب برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ نے" Islamophobia: A Challenge for Us All" کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں اس لفظ کی تعریف بیان کی کہ اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے بے پناہ خوف اور نتیجتا ایک ایسا ڈر جو کہ لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کو جنم دیتا ہے اور فرانسیسی مصنفین کے نزدیک اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایمیلی نے "ثقافت اور وحشیت" کے عنوان پر مقالہ میں کیا جس کو 1994 ء میں فرانس کے ایک اخبار لیمنڈا نے شائع کیا ۔ جس میں اس نے اسلامو فوبیا کی صنف رواں کے تعلق سے بیان کیا ۔اور 1998 ء میں صہیب بن الشیخ نے اپنی کتابMarianne et le Prophète(ص:171)میں اس لفظ کو ایک باب کے عنوان کے طور پر لیا ۔عالمی پیمانہ پر اس لفظ کا استعمال خوب ہوا خصوصا 11 ستمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر اس لفظ کو خوب فروغ دیا گیا ۔

کچھ اسلامی جماعتیں خصوصا جہادی اور سلف کی طرف دعوت کا کام انجام دینے والی جماعتیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھوکنے اور لوگوں کو یہ تاثر دلانے کے لئے کہ اسلام کے کیمپ میں رہ کر کی جانے والی کوششوں سے خوف و دہشت کا کوئی واسطہ نہیں اس لفظ کی عمومی اصطلاح کو بدلنے لگیں اور آخر کار ان جماعتوں کو منہ کی کھانی پڑی ۔ گویا ان کے نزدیک ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ کا موقف اس تعلق سے مختلف الآراء ہے ۔جس کا اظہار اس نے اس انداز میں کیا ہے ۔

1÷اسلام ایک متحدہ گوشہ نشین بے حس و حرکت گروہ ہے جو ترقی و تبدیلی جو قبول نہیں کرتا ۔

2÷اسلام ایک الگ اور اجنبی دین ہے جس کے اور دیگر ثقافتوں کے درمیان کوئی مشترک اقدار اور مقاصد نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ ان میں اثر ڈال دیتا ہے ۔

3÷اسلام مغرب سے بھی زیادہ گھٹیا دین ہے جو شدت پسند ، بے تکی باتیں کرنے والا اور خواتین کےتئیں سخت ہے ۔

4÷اسلام ایک ایسا دین ہے جو سختی اور دشمنی کی صفات سے متصف ہے جو خطرے میں دالنے والا ہے اور دہشت پسندوں کو مضبوط بناتا ہے اور مختلف ثقافتوں سے لڑنے میں طاق ہے۔

5÷ اسلام ایک ایسی سیاسی آئیڈیا لوجی ہے جو سیاسی یا جنگی مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔