اسلامی اقتصادی تاریخ
|
زمرہ جات |
|
|
|
|
[ترمیم] اسلامی اقتصادیات
اسلامی معیشت کی بنیاد محدود خواہشات اور لامحدود وسائل پر قائم ہے جس سے انڈسٹری ترقی کرتی ہے اور ملک خوشحال ہوتا ہے۔ مسلمان دیانتداری اور کوالٹی میں مستقل مزاجی کو اپنائیں تو عالمی سطح پر ان کا وقار بحال ہوجائے گا۔ اسلام مساوی معاشی حقوق کی بات کرتا ہے۔ اور سرمایہ داری اور سوشل ازم دونوں کے قریب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کا ردعمل تھا جبکہ اسلام بزنس مین اور عوام دونو ں کے حقوق کی بات کرتا ہے ۔
اسلام کا معاشی نظام اعتدال پر مبنی ہے۔ اگر فرد متاثر ہو رہا ہو تو اسلام معاشرے کو فائدہ نہیں دیتا اور اگر فرد کی وجہ سے معاشرہ متاثر ہو رہا ہو تو فرد کو رعایت نہیں دیتا اگر ایک ادارے کا نظام درست ہے اور اس کے ملازم اس کے خلاف ہوگئے ہیں تو اسلام ادارے کو تحفظ دے گا اور اگر ملازم درست ہیں اور ادارے کا نظام درست نہیں تو ملازموں کو فائدہ دے گا۔ اسلام نے مالک اور گاہک دونوں کے حقوق متعین کیے ہیں۔ اسلام کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا اور منافع کی تقسیم کا عادلانہ نظام دیتا ہے اور بزنس میں مقابلے کیلئے کوالٹی پر زور دیتا ہے اور مد مقابل کا بزنس منفی ہتھکنڈوں سے خراب کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ اسلام اداروں میں ایسے نظام کی بات کرتا ہے جہاں ملازم اپنا موقف بلا خوف بیان کرسکے۔ اسلام اجارہ داری کے خلاف ہے اور فری مقابلے اور فری مارکیٹ کی بات کرتا ہے۔ آج غیر اسلامی دنیا اسلام کے زریں اصولوں کو اپنائے ہوئے ہے۔
اسلام جہاں اداروں کو ملازم کے حقوق کا پابند بناتا ہے وہاں ملازم کو بھی پابند کرتا ہے کہ کمپنی کے سیکرٹ محفوظ رکھے اور زیادہ مالی مفاد کیلئے کمپنی کو نہ چھوڑے کیونکہ کمپنی نے برے حالات میں بھی اس کا خیال رکھا ہوتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تجارت کی اخلاقیات سکھائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی، گلوبل وارمنگ اور پانی کی آلودگی کی اسلام نے 14سو سال قبل بات کی تھی۔
آج مغرب دہشت گرد کو مسلم دہشت گرد کہتا ہے تو وہ بد دیانت بزمین کو بددیانت مسلم بزمین بھی کہتا ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور بزنس کی اسلامی اخلاقیات اور قدروں کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ ایک مسلم ملک کے مضبوط ہونے سے مسلم اُمہ مضبوط ہوگی۔