اسلامی جمہوری اتحاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد (مختصراً آئی جے آئی، IJI) پاکستان کا ایک سابق سیاسی اتحاد تھا جو فوجی آمر ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو کی وطن واپسی سے تقویت ملی تھی اور عوامی سطح پر ان کی پذیرائی سے ظاہر ہوتا تھا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لے گی، اسی "خطرے" کا مقابلہ کرنے کے لیے دائیں بازو کی تمام جماعتوں نے اتحاد کر کے پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

اسلامی جمہوری اتحاد 9 جماعتوں پر مشتمل تھا، جن میں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ، نیشنل پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام تھیں تاہم اس میں نواز شریف کی زیر قیادت پاکستان مسلم لیگ کو بہت زیادہ اکثریت حاصل تھی اور انتخابات میں ملک بھر سے کھڑے کیے گئے امیدواروں میں سے 80 فیصد کا تعلق اسی جماعت سے تھا۔ پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جینس (آئی ایس ایس آئی) کے اُس وقت کے سربراہ حمید گل نے اگست 2009ء میں انکشاف یا اعتراف کیا کہ انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تاکہ دائیں بازو کی قوتوں کو ایک مرکز پر جمع کیا جائے۔ [1]

اس اتحاد کے سربراہ غلام مصطفیٰ جتوئی تھے جبکہ سب سے اہم رہنما میاں نواز شریف تھے جو ضیاء الحق کے دور میں صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے اور یوں ایک صنعت کار سے اہم سیاست دان کے طور پر منظر عام پر آئے۔

عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد نے صرف 53 نشستیں حاصل کیں جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 93 نشستیں سمیٹیں۔ اتحاد نے بیشتر نشستیں صوبہ پنجاب سے جیتیں اور یوں میاں نواز شریف پیپلز پارٹی سے باہر اہم ترین رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔ صوبہ پنجاب میں اکثریت کے بل بوتے پر وہ دسمبر 1988ء صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔

البتہ 1990ء کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور قومی اسمبلی کی 105 نشستیں حاصل کر کے اقتدار حاصل کر لیا اور یوں میاں نواز شریف پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔

1993ء کے عام انتخابات تک اسلامی جمہوری اتحاد کا خاتمہ ہو چکا تھا اور یوں پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں کا اتحاد ختم ہو گیا اور یوں پیپلز پارٹی کو اُن انتخابات میں کامیابی ملی اور بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ ملک کی وزیر اعظم بنیں۔

حوالہ جات[ترمیم]