اسلامی قانون وراثت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسلام سے پہلے کے زمانے میں عرب میں ورثہ صرف مردوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ اسلام ہر وارث کا حصہ مقرر کرتا ہے اور وراثت کی بنیاد قریبی رشتہ داری قرار دیتا ہے نہ کہ ضرورت مند کی ضرورت۔

مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلامی فقہ

زمرہ جات










سنی عقیدے کے مطابق قرانی احکامات پرانے عرب دستور کو رد نہیں کرتے بلکہ انہیں صرف بہتر بناتے ہیں تا کہ عورتوں کو بھی وراثت میں شامل کیا جائے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق چونکہ قران نے پرانے عرب دستور کی تائید نہیں کی ہے اس لیئے اسے مکمل طور پر مسترد کر کے نیا قرانی طریقہ اپنانا چاہیئے۔


ورثہ تقسیم کرنے سے پہلے[ترمیم]

کفن دفن کے اخراجات نکال لیئے جائیں۔
سارے قرضے اتار دیئے جائیں جس میں ادھار، مہر، زکات اور چھوڑے ہوئے روزوں کا کفارہ شامل ہے۔

ہبہ۔ کوئی بھی چیز کسی کو بھی دینے کی آزادی۔ زندگی میں دی گئی چیز واپس نہیں لی جا سکتی۔
وصیت۔ یہ زبانی بھی ہو سکتی ہے اور تحریری بھی- یہ ورثے کی کل مقدار کا ایک تہائی تک ہو سکتی ہے۔ یہ مرنے کے بعد ہی دی جا تی ہے اور وارثوں کو نہیں مل سکتی۔

ورثے کی تقسیم[ترمیم]

مرد اور عورت دونوں حقدار ہوتے ہیں۔
مرد کا حصہ عورت کے حصے کا دوگنا ہوتا ہے۔ ( مردوں پر مہر اور خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے )
قران نے چھ طرح کا حصہ مقرر کیا ہے یعنی 1/8, ¼, ½, 1/6, 1/3, 2/3
کبھی کبھی ایک وارث کی موجودگی سے دوسرے وارث کے حصے پر فرق پڑتا ہے۔ اسے حجاب کہتے ہیں۔
ورثہ کم ہو یا زیادہ تقسیم کرنا لازم ہے۔
اگر کوئ وارث ورثہ تقسیم ہونے سے پہلے مر جائے تو اسکا حصہ اسکے وارثوں کو ملتا ہے۔[[1]]

سگے بھائ کو سگی بہن سے دوگنا ملتا ہے اسی طرح سگے پوتے کو سگی پوتی سے دوگنا ملتا ہے. ایک باپ سے ہونے والے سوتیلے بھائ بہنوں میں بھی بھائ کو بہن سے دو گنا ملتا ہے مگر ایک ماں سے سوتیلے بھائ بہن uterine brother and uterine sister کو برابر برابر ملتا ہے۔

اسلامی قانون وراثت میں متوفی کے بیٹے کا حق پہلے ہے پھر متوفی کے باپ کا پھر متوفی کے بھائ کا اور پھر متوفی کے چچا کا۔

مستقل وارث[ترمیم]

ان کو ہر صورت میں حصہ ملتا ہے بشرطیکہ یہ متوفی کی وفات کے وقت زندہ ہوں۔

دوسرے وارث[ترمیم]

انہیں بعض صورتحال میں حصہ ملتا ہے اور بعض صورتحال میں نہیں ملتا۔

قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار کو حصہ نہیں ملتا جیسے بیٹے کی موجودگی میں پوتوں کا حصہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح باپ کی موجودگی میں بھائ کو حصہ نہیں ملے گا کیونکہ بھائ سے رشتہ باپ کے ناطے ہوتا ہے۔

اگر ایک بھی بیٹا زندہ ہے تو کسی دوسرے مرے ہوئے بیٹے کے بچوں ( یتیم پوتوں) کو حصہ نہیں ملتا۔

قرآنی وارث[ترمیم]

قران میں نو طرح کے رشتہ داروں کا حصہ بیان کیا گیا ہے۔ فقہی قیاس کی بنیاد پر تین مزید رشتہ داروں کا اضافہ کرتے ہیں۔ اس طرح کل بارہ رشتہ داروں کو وراثت میں حصہ مل سکتا ہے جن میں بیٹا شامل نہیں ہے۔
ان میں سے چار مرد ہیں باقی آٹھ عورتیں۔
• باپ
• دادا پردادا یا اس سے بھی اوپر کا کوئ دادا۔ (قیاس کی بنیاد پر )
• شوہر
• بیوی
• بیٹی
• پوتی یا پڑپوتی (قیاس کی بنیاد پر )
• سگی بہن
• سگے باپ سے سوتیلی بہن
• سگی ماں سے سوتیلی بہن
• سگی ماں سے سوتیلا بھائ
• ماں
• نانی (قیاس کی بنیاد پر )

ان کو جب حصہ ملنا ہوتا ہے تو انکا حصہ قران میں طے شدہ ہے۔ پھر بچے ہوئے مال سے دوسروں کو حصہ ملتا ہے مثلاً بیٹوں کو۔

یتیم پوتے کی وراثت[ترمیم]

یتیم پوتے کی وراثت کے حوالے سے کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ علماء ایسے یتیم پوتوں کو جن کا باپ دادا کی زندگی میں وفات پا گیا ہو، ان کو دادا کا بعیدی رشتے دار قرار دیتے ہوئے وراثت سے خارج سمجھتے ہیں۔ کچھ علماء نے یتیم پوتے کو دادا کی وراثت میں حق دار بتایا ہے۔ محمد اکبر نے اپنی تحریروراثت کے چند پہلو[1] میں یتیم پوتے کے حق وراثت کے لیے قرآنی دلائل دئیےہیں۔

شرائط[ترمیم]

وارث کا مرنے والے/والی کی موت کے وقت زندہ ہونا ضروری ہے۔
لے پالک بچے کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔
ناجائز اولاد کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ کنیز سے ہونے والی اولاد جائز اور وارث ہوتی ہے۔
غلام کا وراثت میں کوئ حصہ نہیں ہوتا۔ آزاد شدہ غلام وارث ہو سکتا ہے
کنیز اگر متوفی کے بچے کی ماں ہو تو بھی اسے وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔[2]
اگر بیوی حاملہ ہے تو پیٹ میں موجود بچے کا بھی وراثت میں حصہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ زندہ پیدا ہو۔
بیٹے کی موجودگی میں اسکے بچوں (پوتے پوتی) اور بیٹی کی موجودگی میں اسکے بچوں (نواسے نواسی) کو حصہ نہیں ملتا۔
کافر کو مسلمان اور مسلمان کو کافر کی وراثت ممکن نہیں ہے۔ قاتل اگر مقتول کا وارث بھی ہے تو اسے حصہ نہیں ملے گا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

ورثے کی تقسیم کے بعد[ترمیم]

ورثے کی تقسیم کے بعد کچھ نہیں بچنا چاہیئے۔
اگر کچھ بچتا ہے اور کوئ بیٹا بھی نہیں ہے تو یہ قریب ترین رشتہ دار جو مرد ہو اس کو ملے گا۔
اگر سارے حصے مل کر موجودہ ورثے سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر وارث کا حصہ ایک ہی تناسب سے کم ہو جائے گا۔ (ایک ہی مقدار سے کم نہیں ہو گا)

بچوں کا حصہ[ترمیم]

بیٹے کی موجودگی میں بیٹی کا حصہ مقرر نہیں ہوتا بلکہ ہر بیٹے کا حصہ ہر بیٹی کے حصے کا دوگنا ہوتا ہے۔
اگر مرنے والے/والی کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہیں اور کوئ بیٹا نہیں ہے تو ورثے کا دو تہائ ان میں برابر برابر بانٹ دیا جائے گا۔ لیکن اگر ایک ہی بیٹی ہے تو اسے آدھا ورثہ ملے گا۔ ( نسا 11 )
اگر بیٹی نہیں ہے تو یتیم پوتی بیٹی کی جگہ حقدار ہو گی۔ پوتے پوتی کا ذکر قران میں نہیں ہے مگر سنی فقہا اتفاق رائے سے انہیں وارث تصور کرتے ہیں۔ اگر متوفی کی ایک بیٹی اور ایک یتیم پوتی ہے تو بیٹی کو آدھا اور پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا۔ یہ کل ملا کر دو تہائ ہوتا ہے۔
دو یا زیادہ بیٹیوں کی موجودگی میں یتیم پوتی/ پوتیوں کا بالکل حصہ نہیں ہوتا۔
اگر یتیم پوتے بھی وارث ہیں تو پوتے کو پوتی کا دوگنا ملے گا۔
نواسے نواسی کو اپنے نانا نانی کی وراثت نہیں ملتی کیونکہ عربوں میں وراثت مرد کی نسل سے چلتی ہے عورت کی نسل سے نہیں۔
اگر مرنے والے/والی کا ایک ہی بیٹا ہے اور کوئ دوسرا وارث نہیں ہے تو اسے پورا کا پورا ملے گا۔ لیکن اگر کوئ اور وارث بھی ہے تو اسکا/ انکا حصہ نکالا جائے گا۔

والدین کا حصہ[ترمیم]

اگر متوفی (مرنے والے/ والی) کی اولاد یا پوتے پوتی ہیں تو والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ ( یعنی والدین میں مرد کو عورت کا دوگنا نہیں ملے گا)۔ بقیہ بچوں اور دوسرے وارث (بیوی یا شوہر) میں تقسیم ہو گا۔

اور اگر متوفی کی اولاد یا پوتے پوتی نہیں ہیں اور دوسرا کوئ وارث (بیوی یا شوہر) بھی نہیں ہے تو ماں کو ایک تہائ اور باپ کو دو تہائ ملے گا۔

اگر متوفی کی اولاد نہیں ہے اور بہن بھائ ہیں (چاہے وہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے) تو ماں کا حصہ چھٹا ہوتا ہے۔

ماں کا حصہ ماں نہ ہونے پر نانی کو اور باپ کا حصہ باپ نہ ہونے پر دادا کو ملتا ہے۔

شوہر بیوی کا حصہ[ترمیم]

اگر بیوی مر جائے اور اسکے بچے یا یتیم پوتے پوتیاں نہ ہوں (کسی بھی شوہر سے ) تو شوہر کو آدھا ورثہ ملے گا۔ لیکن اگر اس عورت کے بچے یا یتیم پوتے پوتیاں ہوں توشوہر کو چوتھائ ورثہ ملے گا۔

اگر شوہر کا انتقال ہو جائے اور اسکی کوئ اولاد نہ ہو تو ورثہ کا چوتھائ بیوی کو ملے گا اور اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔
لیکن اگر شوہر کی کوئ اولاد ہے تو بیوی کا حصہ آٹھواں رہ جائے گا۔

بھائ بہن کا حصہ[ترمیم]

متوفی کے دونوں والدین اگر زندہ ہوں تو متوفی کے بہن بھایئوں کو حصہ نہیں ملتا۔

اگر کسی مرد یا عورت کے نہ بچے ہوں اور نہ والدین (یعنی کلالہ ہو) تو ایک بھائ اور/ یا ایک بہن ( جنکی ماں ایک اور باپ مختلف ہوں) دونوں کو چھٹا حصہ ملے گا ( یعنی مرد کو عورت کا دوگنا نہیں ملے گا) اور اگر دو سے زیادہ ہوں تو ایک تہائ ورثہ میں سے برابر برابر تقسیم ہو گا ۔ اگر صرف دو بھائ (بہن کوئ نہیں) یا دو بہنیں (بھائ کوئ نہیں) ہوں تو بھی دونوں کو چھٹا حصہ ملے گا۔ النسا 12

اگر کسی مرد یا عورت کے نہ بچے ہوں اور نہ والدین (یعنی کلالہ ہو) اور ایک ہی بھائ ( باپ کی طرف سے ) ہو تو بھائ کو پورے کا پورا ورثہ ملے گا۔ (سورہ نسا آیت 176 )

اگر کسی مرد یا عورت کے نہ بچے ہوں اور نہ والدین (یعنی کلالہ ہو) اور ایک ہی بہن ( باپ کی طرف سے ) ہو تو بہن کو آدھا ورثہ ملے گا۔ (سورہ نسا آیت 176 )

اگر کسی مرد یا عورت کے نہ بچے ہوں اور نہ والدین (یعنی کلالہ ہو) اور دو یا دو سے زیادہ بہنیں ( باپ کی طرف سے ) ہوں تو دو تہائ ورثہ ان میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔

قرانی حوالہ[ترمیم]

قران کی صرف تین آیتیں ورثہ کی تقسیم کی تفصیل بتاتی ہیں۔ وہ یہ ہیں۔
“تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔ اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔ اگر میت صاحبِ اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے۔ اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور (صرف) والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے۔ اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حق دار ہو گی۔ (یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تماری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں اور اللہ یقینًا سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔”(سورۃ النساء آیت11)


جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں اس میں تمہارا آدھا حصہ ہے بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو اس میں سےجو چھوڑ جائیں ایک چوتھائي تمہارا ہے اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں یا قرض کے بعد اور عورتوں کے لیے چوتھائی مال ہے جو تم چھوڑ کر مرو بشرطیکہ تمہاری اولاد نہ ہو پس اگر تمہاری اولاد ہو تو جو تم نے چھوڑا اس میں ان کا آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کے بعد جو تم کر جاؤ یا قرض کے بعد اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی یہ میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا اور اس میت کا ایک بھائي یا بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے پس اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں وصیت کی بات جو ہو چکی ہو یا قرض کے بعد بشرطیکہ اوروں کا نقصان نہ ہو یہ الله کا حکم ہے اور الله جاننے والا تحمل کرنے والا ہے (سورۃ النساء آیت 12)


وہ تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں- کہہ اللہ تمہیں کلالہ ( والدین اور اولاد کے بغیر ) کے متعلق فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئ مرد مر جائے جسکی اولاد نہ ہو مگر اسکی ایک بہن ہو تو اسے ترکے کا نصف ملے گا، اور ( اگر بہن پہلے مرے تو ) وہ ( مرد ) خود اسکا وارث ہو گا اگر اسکی بہن کی اولاد نہ ہو۔ اور اگر وہ دو عورتیں ہوں تو ان کے لیئے ترکے کا دو تہائ ہو گا۔ اور اگر بھائ بہنوں میں کئی مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کے لیئے دو عورتوں کے حصے کی مانند ہو گا۔ اللہ تم پر واضح کرتا ہے تا کہ تم بھٹک نہ جاؤ، اور اللہ ہر بات کو جانتا ہے۔ النسا 176


دقت[ترمیم]

موجودہ اسلامی وراثت کے قوانین عربوں کے قدیم رواج اور قرانی احکامات کا ملغوبہ ہیں اور کبھی کبھی مشکل صورتحال پیدا کر دیتے تھے جنہیں مسلمان فقہا نے دور کیا ہے۔ مثال کے طور پر خلیفہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک عورت کا انتقال ہوا جس کے پیچھے شوہر ،ماں ، دو سگے اور دو سوتیلے (ماں سے) بھائ تھے۔ خلیفہ حضرت عمر نے قرانی وارثوں کو انکا حصہ دیا یعنی شوہر کو آدھا، ماں کو چھٹہ حصہ اور دونوں سوتیلے بھاِئوں کو ملا کر ایک تہائ۔ دونوں سگے بھائ جنہیں پرانے عرب قانون کے مطابق ساری جائیداد ملنی تھی انہیں کچھ بھی نہیں ملا کیونکہ کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ ( اگر دو سوتیلے بھائیوں کی بجائے دو سوتیلی بہنیں ہوتیں تو بھی انہیں کل ملا کر ایک تہائ ہی ملتا اور سگے بھائیوں کے لیئے کچھ نہ بچتا)۔ دونوں سگے بھایئوں نے اعتراض کیا کہ ہماری ماں اور سوتیلے بھایئوں کی ماں تو ایک ہی تھی پھر کیوں انہیں حصہ ملا اور ہمیں نہیں۔ خلیفہ حضرت عمر نے اس اعتراض کو تسلیم کیا اور نیا فیصلہ صادر کیا کہ ایک تہائ میں دو نہیں چاروں بھایئوں کا حصہ ہو گا۔

اسی طرح اگر ایک عورت مر جائے اور وارثوں میں شوہر اور باپ ماں ہوں تو شوہر کو آدھا اور ماں کو ایک تہائ ملے گا اور اس طرح بچنے والا چھٹا حصہ باپ کو ملے گا یعنی ماں کا آدھا۔ خلیفہ حضرت عمر نے علما کے مشورہ کے بعد تسلیم کیا کہ باپ کا حصہ ماں کے حصے کا دوگنا ہونا چاہیئے۔

مثالیں[ترمیم]

اگر ایک شخص کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں بیٹا بیٹی اور بیوی ہیں تو بیوی کو آٹھواں حصہ یعنی 12500 روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 87500 روپوں کے تین حصے ہونگے۔ بیٹے کو دو حصے یعنی 58333 اور بیٹی کو ایک حصہ یعنی 29166 روپے ملیں گے۔

اگر کسی خاتون کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں بیٹا بیٹی اور شوہر ہیں تو شوہر کو چوتھائ حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 75000 روپوں کے تین حصے ہونگے۔ بیٹے کو دو حصے یعنی 50000 اور بیٹی کو ایک حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے۔

اگر ایک شخص کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں بیٹا بیٹی بیوی باپ اور ماں ہیں تو بیوی کو آٹھواں حصہ یعنی 12500 روپے ملیں گے باپ اور ماں دونوں کو چھٹا چھٹا حصہ یعنی باپ کو 16666 اور ماں کو 16666روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 54166 روپوں کے تین حصے ہونگے۔ بیٹے کو دو حصے یعنی 36111 اور بیٹی کو ایک حصہ یعنی 18055 روپے ملیں گے۔ یہاں چونکہ باپ زندہ ہے اس لیئے دادا دادی اور بھائ بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔
چونکہ بیٹا زندہ ہے اس لیئے بھائ بہن اور پوتے پوتی کو کچھ نہیں ملے گا۔
چونکہ ماں زندہ ہے اس لیئے دادی اور نانی کو کچھ نہیں ملے گا۔
چونکہ بیٹی زندہ ہے اس لیئے نواسے نواسی کو کچھ نہیں ملے گا۔


اگر ایک کلالہ شخص کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں ایک بیوی اور باپ کی طرف سے ایک بھائ اور ایک بہن ہیں تو بیوی کو چوتھائ حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 75000 روپوں کے تین حصے ہونگے۔ بھائ کو دو حصے یعنی 50000 اور بہن کو ایک حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے۔ ایک باپ سے ہونے والے سگے اور سوتیلے بھائ بہن کے لیئے یہی حصہ ہے مگر اگر یہ بھائ اور بہن دونوں ماں کی طرف سے ہیں تو بیوی کا حصہ تو 25000 ہی رہے گا مگر اب بھائ اور بہن دونوں کو 37500 اور 37500 روپے ملیں گے۔ سگے بھائ کی موجودگی میں اسی باپ سے سوتیلے بھائ کا کوئ حصہ نہیں ہوتا مگر مشترک ماں سے سوتیلے بھائ کا حصہ چھٹا ہوتا ہے۔ باقی بچا ہوا سگے بھائ کا ہوتا ہے۔



انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کےمغربی علاقے میں رہنے والے مینانکابو قبیلے کے افراد کٹر مسلمان ہونے کے باوجود ماں اور نانی سے وراثت کا سلسلہ جوڑتے ہیں اور انکے قدیم رواج کے مطابق ماں کی زمین اور جائیداد بیٹی کو ملتی ہے۔ انہیں یہ بات اسلام کے منافی محسوس نہیں ہوتی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ وراثت کے چند پہلو

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]