اسلام آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش



اسلام آباد
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ وفاقی دارالحکومت
ضلع اسلام آباد
محل وقوع 33.7167 درجے شمال، 73.0667 درجے مشرق
آبادی 673،766 بمطابق 2009ء
منطقۂ وقت معیاری عالمی وقت +5
اسلام آباد is located in پاکستان
اسلام آباد

پاکستان میں اسلام آباد کا مقام

اسلام آباد کا محل وقوع
اسلام آباد

شہر اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ 1998ء میں كى گئی مردم شمارى کے مطابق اس شہر كى آبادى 805,235 تھی جبکہ حال ہی میں ایک تخمینے کے مطابق اس شہر کی آبادی تقريبا بیس لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، جسکی وجہ سے یہ پاکستان کا نواں بڑا شہر قرار دیا گیا ہے۔ اس شہر کو 1964ء ميں پاکستان کے دارالحکومت کا درجہ ديا گيا۔ اس سے پہلے کراچی کو يہ درجہ حاصل تھا- اسلام آباد کا شمار دنيا کے چند خوبصورت ترين شہروں میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا سب سے زیادہ شرح خواندگی والا شہر ہے۔

اپنے قیام کے دنوں کے وقت سے ہی شہر اسلام آباد نے پاکستان بھر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا. دارالحکومت کے طور پر، اسلام آباد حکومت پاکستان کی نشست ہے جسکی وجہ سے حکومت پاکستان کے اہم دفاتر اور صدارتی محل (ایوان صدر) بھی یہاں واقع ہے.نیز یہ سفارت کاروں، سیاست دانوں اور سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی بھی کرتا ہے۔ پاکستان مونومنٹ جو کہ پاکستان کے دو قومی یادگاروں میں سے ایک ہے، بھی اسی شہر میں واقع ہے. اسلام آباد ایک صاف، پرسکون اور سبز شہر کے طور پر جانا جاتا ہے.

یہ شہر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی حدود کے اندر، پاکستان کے شمال مشرقی حصے میں واقع ایک جدید اور بین الاقوامی شہر ہے. اسلام آباد پاکستان کے دارالحکومت کراچی کو تبدیل کر کے 1960s کے دوران تعمیر کیا گیا تھا. یہ پاکستان میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر کے طور پر شمار کیا جاتا ہے.اس کے اہم اور قابل ديد مقامات ميں فيصل مسجد، شکر پڑياں، دامن کوہ اور چھتر باغ شامل ہیں۔اس کے علاوہ پير مہر علی شاہ كا مزار جو کے گولڑہ شريف میں واقع ہے اور برى امام كا مزار جو کے مغل بادشاہ اورنگزيب نے اپنى دورحكومت میں تعمير كروايا تھا، اسلام آباد كے چند ا ہم مقامات اور تفریخی گاہیں ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد بھی اسی شہر میں ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1958ء تک پاکستان کا دارالحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی بہت تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دارالحکومت کو کسی دوسرے شھر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کیا اور یہاں شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا۔اس نئے دارالحکومت کے لئے زمین کا انتظام کیا گیا جس میں صوبہ پختونخوا اور پنجاب سے زمین لئی گئی. عارضی طور پر دارالحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان Constantinos A. Doxiadis نے کیا۔ 1968ء میں دارالحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

دارالحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ساتھ ساتھ دارالحکومت کے طور پر اس شہر نے کی اہم اجلاسوں کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی بھی کی۔ اکتوبر 2005 کے کشمیر کے زلزلے میں شہر کو کچھ نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا اور پھر جولائی 2007 میں لال مسجد کے محاصرے سمیت ، جون 2008 میں دہشت گردی کے واقعات کی ایک سیریز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ڈنمارک کے سفارت خانے پر بم حملہ اور ستمبر 2008 میریٹ ھوٹل بم دھماکے بھی اسی شہر میں ہوئے . 2010 28 جولائی کو ائیربلو کی پرواز 202 اور بھوجا ایئر کی پرواز کے المناک فضائی حادثات بھی اسلام آباد میں ہوئے۔

جغرافیہ و آب وہوا[ترمیم]

ٹیلہ چارونی جو کہ 1604 میٹر بلند ہے شہر کا سن سے بلند مقام ہے

اسلام آباد سطح مرتفع پوٹوھار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع ہے. اسکی بلندی540 metres (1,770 ft).[1][2] ہے۔یہ شہر اور قدیم شہر راولپنڈی ساتھ ہی واقع ہیں اور جڑواں شہر کہلاتے ہیں۔,[3] اور دونوں کی کوئی سرحدی تعین نی.[4] اسکے شمال مشرق میں پہاڑی علاقہ مری وقع ہے , اور شمال میں ٹیکسلہ .کاہوٹہ جنوب مشرق میں, اٹک شمال مشرق میں یہ شہر 906 square kilometres (350 sq mi).[5][6]

اسلام آباد کی آب و ہوا پانچ موسموں پر مشتمل ہے: موسم سرما ( نومبر فروری) ، موسم بہار ( مارچ اور اپریل ) ، موسم گرما ( مئی اور جون ) ، مانسون یعنی برسات ( جولائی اور اگست ) اور موسم خزاں ( ستمبر اور اکتوبر)۔ سب سے گرم مہینہ جون کا ہوتا ہے، سب سے ٹھنڈا مہینہ جنوری کا جبکہ جولائی کے مہینہ میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ 2001 23 جولائی کو اسلام آباد میں صرف دس گھنٹوں کو دوران 620 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس نے گزشتہ 100 سال کے سب سے زیادہ بارش کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے۔

معیشت[ترمیم]

اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج کی بنیاد 1989 ء میں رکھی گئی۔اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج، کراچی اسٹاک ایکسچینج اور لاہور اسٹاک ایکسچینج کے بعد پاکستان کی تیسری سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے جس کا اوسط یومیہ کاروبار 1 ملین حصص سے زیادہ ہے. اسلام آباد میں دو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے ساتھ معلومات اور مواصلات ٹیکنالوجی کی قومی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی بڑی مقدار میں کام کر رہی ہیں. پی آئی اے، پی ٹی وی، پی ٹی سی ایل، او جی ڈی سی ایل، اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی طرح پاکستان کی کئی سرکاری کمپنیاں بھی اسلام آباد میں مقیم ہیں. اس طرح پی ٹی سی ایل، موبی لنک، ٹیلی نار، یوفون، اور چائنا موبائل اور دیگر تمام اہم ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹرز کے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں واقع ہیں.

آبادی[ترمیم]

پاکستان کی آبادی کی مردم شماری تنظیم کے ایک اندازے کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 2012 میں تقریبا 2 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 805.235 تھی. اردو زبان ملک کی قومی و سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے شہر کے اندر بولی جاتی ہے جبکہ انگریزی بھی وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے. شہر میں دیگر بولی جانے والی زبانوں میں پنجابی، پشتو اور پوٹھوہاری میں شامل ہیں. آبادی کی اکثریت کی مادری زبان پنجابی ہے جو کہ 68 فیصد ہے۔ آبادی کا ۱۰ فیصد پشتو بولنے والے ہیں اور 8 فیصد دیگر زبانے بولنے والے ہیں. تقریبا ۱۵ فیصد سندھی زبان بولنے والے ہیں۔ شہر کی آبادی کے لوگوں میں زیادہ کی اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ہے.

آبادی کی اکثریت 15-64 سال کی عمر کے گروپ میں ہے. آبادی کا صرف ۳ فیصد کی عمر 65 سال سے اوپر ہے جبکہ 37،90 فیصد 15 سے کم عمر کے ہے اور بے روزگاری کی شرح 15.70 فیصد ہے. اسلام 95،53 فیصد کے ساتھ، شہر میں سب سے بڑا مذہب ہے. شہری علاقے میں مسلمانوں کی شرح 93،83 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب، 98،80 فیصد ہے. دوسرا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے جسکے بعد ہندو ہے۔

انفراسٹرکچر[ترمیم]

نقل و حمل[ترمیم]

اسلام آباد کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ نظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈہ کے نام سے جانا جاتا بے جس کے ذریعے اسلام آباد دنیا بھر کے اہم مقامات سے منسلک ہے. نظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈہ پاکستان میں تیسرا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے اور چکلالہ راولپنڈی میں، اسلام آباد شہر کے باہر واقع ہے. مالی سال میں 2004-2005، بے نظیر بھٹو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 23.436 ہوائی جہاز کی نقل و حرکت ہوئی اور 2.88 ملین سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔

مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لئے اسلام آباد سے باہر فتح جنگ کے علاقہ میں گندھارا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی زیر تعمیر ہے جو مکمل تیار ہونے کے بعد پاکستان میں سب سے بڑا ہوائی اڈو بن جائے گا. گندھارا بین الاقوامی ہوائی اڈہ 400 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے۔

شراکت دار شہر[ترمیم]

تصویریں[ترمیم]


  1. ^ Stanley D. Brunn; Jack F. Williams, Donald J. Zeigler (May 2003). "Cities of South Asia". Cities of the World: World Regional Urban Development (3rd ed.). Rowman & Littlefield Publishers. pp. 368–369. ISBN 978-0847698981. http://books.google.com.pk/books?id=wPZq1ZTaVQoC&pg=PA368#v=onepage&q&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 July 2012. 
  2. ^ "Islamabad Airport". Climate Charts. http://www.climate-charts.com/Locations/p/PK41571.php#data. 
  3. ^ Yasmeen Niaz Mohiuddin (27 November 2006). Pakistan: A Global Studies Handbook (1st ed.). ABC-CLIO. p. 299. ISBN 978-1851098019. http://books.google.com.pk/books?id=OTMy0B9OZjAC&pg=PA299#v=onepage&q&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 July 2012. 
  4. ^ Wolfgang Saxon (11 April 1988). "New Capital City With an Industrial Twin". The New York Times. http://www.nytimes.com/1988/04/11/world/new-capital-city-with-an-industrial-twin.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 July 2012. 
  5. ^ Butt, M. J., Waqas, A., Iqbal, M, F., Muhammad., G., and Lodhi, M. A. K., 2011, "Assessment of Urban Sprawl of Islamabad Metropolitan Area Using Multi-Sensor and Multi-Temporal Satellite Data." Arabian Journal For Science And Engineering. Digital Object Identifier (DOI): 10.1007/s13369-011-0148-3.پہ پھیلا ہوا ہےشہر کے کچھ حصوں کو دریا کورنگ سیراب کرتا ہے جسکا پانی راول دیم میں بھی گرتا ہے۔ .
  6. ^ url=http://www.britannica.com/EBchecked/topic/295631/Islamabad#ref749695/اسلام آباد