اسلام میں پیامبر یوسف علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت یوسف علیہ السلام بن یعقوب عہ بن اسحاق عہ بن ابراہیم عہ کا دین اسلام کی آسمانی کتاب قرآن پاک میں تذکرہ آیاہے۔اندازہ ہے کہ انکی بعثت کا زمانہ سترھویں صدی قبل مسیح تھا۔ یہ وہی حضرت یوسف عہ ہیں جن کا ذکر یہودیوں کی کتاب تنک اور عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل میں بطور یوسف علیہ السلام ابن یعقوب عہ آیاہے۔ یوسف نام مشرق وسطیٰ میں مستعمل ایک نام ہے جبکہ تمام عالم اسلام بھی اسکو استعمال کیاجاتاہے۔ حضرت یعقوب کے تمام بیٹوں میں سے صرف حضرت یوسف عہ کو ہی مقام نبوت سے سرفراز کیاگیاتھا۔ اگرچہ دیگر انبیاء کا تذکرہ قرآن کی مختلف سورتوں میں تھوڑا تھوڑا آیاہے تاہم حضرت یوسف عہ کے ذکر سے مزین ایک مکمل سورۃ جس کانام سورۃ یوسف ہے میں آیاہےتاکہ انکے واقعات کو خاص اہمیت دی جاسکے۔ گو کہ سارا قرآن پاک اہمیت کے حامل واقعات و دروس پر مبنی ہے۔ قرآن پاک میں حضرت یوسف عہ کی زندگی کے اہم ترین واقعات کو تفصیل سے بیان کیاگیاہے کہ کسی دیگر نبی کا اس قدر تفصیلی تذکرہ نہیں ہے اسی طرح بائبل سے زیادہ تفصیل بابت حضرت یوسف عہ قرآن پاک میں دستیاب ہے۔ علماء کے نزدیک حضرت یوسف اپنے والد یعقوب عہ کے گیارھویں اور لاڈلے فرزند تھے۔
ابن کثیر کے بیان کے مطابق حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں ان سب کے ناموں سے قبیلے موسوم تھے تاہم ان سب قبائل میں سے سب سے عظیم، بہتر اور خاص قبیلہ بنی یوسف ہے۔