اسوان بند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جدید اسوان بند

اسوان بند مصر کے شہر اسوان کے قریب دریائے نیل پر قائم ایک عظیم بند ہے۔ دراصل یہ دو بند ہیں جن میں ایک جدید اور ایک قدیم ہے۔ جدید بند کو عربی میں "السد العالی" جبکہ انگریزی میں Aswan High Dam کہتے ہیں۔ قدیم بند کو Aswan Low Dam کہا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم اسوان بند کی تعمیر برطانوی دور میں ہوئی جو 1899ء میں شروع ہوکر 1902ء میں مکمل ہوئی۔ یہ 1900 میٹر طویل اور 54 میٹر بلند تھا۔ 1907ء سے 1912ء اور 1929ء سے 1933ء کے درمیان دو مراحل میں بند کی بلندی میں اضافہ کیا گیا۔

اسوان بند کے ساتھ تعمیر کی گئی "سوویت۔مصر دوستی کی یادگار"

1946ء میں جب ایک مرتبہ پھر بند میں پانی زیادہ ہوگیا تو اس دفعہ تیسری مرتبہ بند کو بلند کرنے کے بجائے نئے بند کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا جسے قدیم بند سے 6 کلومیٹر دور تعمیر کیا گیا۔ 1952ء میں جمال عبدالناصر کے دور حکومت میں چیکوسلواکیہ سے خفیہ عسکری معاہدے اور عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے پر امریکہ اور برطانیہ نے بند کی تعمیر کے لئے 270 ملین ڈالر کا قرضہ دینے سے انکار کردیا۔ جس پر جمال عبدالناصر نے نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لیتے ہوئے اس سے ہونے والی آمدنی سے بند کی تعمیر کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے نے یورپ میں تہلکہ مچادیا اور برطانیہ اور فرانس کی مدد سے اسرائیل نے مصر پر حملہ کرتے ہوئے نہر سوئز پر قبضہ جمالیا۔ یہ واقعہ سوئز بحران کہلاتا ہے۔ اقوام متحدہ، روس اور امریکہ نے مداخلت کرتے ہوئے قابض افواج سے مصر نے باہر نکلنے کا مطالبہ کیا جسے تسلیم کرلیا گیا۔

سرد جنگ کے ان دنوں میں سوویت یونین نے افریقہ میں اپنے اثرات بڑھانے کے لئے 1958ء میں مصر کو اسوان بند کی تعمیر میں تعاون کی پیشکش کی اور بطور تحفہ ایک تہائی لاگت بھی دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ تکنیکی ماہرین اور بھاری مشینری بھی مہیا کی۔

1960ء میں بند کی تعمیر کا آغاز کیا گیا اور سد عالی 21 جولائی 1970ء کو مکمل ہوا۔

خصوصیات[ترمیم]

جدید اسوان بند 3600 میٹر طویل، بنیادوں پر 980 میٹر اور ہلال پر 40 میٹر عریض اور 111 میٹر بلند ہے۔ بند میں ہر سیکنڈ میں 11 ہزار مکعب میٹر پانی گذر سکتا ہے۔ اس عظیم بند کی تعمیر سے بننے والی جھیل کو "جھیل ناصر" کا نام دیا گیا جو 550 کلومیٹر طویل اور زیادہ سے زیادہ 35 کلومیٹر عریض ہے۔ اس کا سطحی رقبہ 5250 مربع کلومیٹر ہے۔

بند سے 175 میگا واٹ کے 12 جنریٹر چلتے ہیں جو 2.1 گیگا واٹ کی پن بجلی پیدا کرتے ہیں۔ بجلی کی پیداوار کا آغاز 1967ء میں ہوا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

اسوان بند کی خلائی تصاویر