اشتراکیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سوشلزم Socialism

اشتراکیت

مارکسی اشتراکیت
کسبی اشتراکیت
گلڈ اشتراکیت
فیبین
سوشل سامراج

نظریے کا محرک[ترمیم]

لینن اشتراکیت کے نمائندہ جھنڈے "سرخ پرچم" کے ساتھ

معاشی اور سیاسی نظریہ، جس کا دعوی ہے کی سرمایہ دارانہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ اور اس کی وجہ سے دولت کی پیداوار اور تقسیم میں رکاوٹ ہوتی ہے کیونکہ دولت پیدا کرنے کے بنیادی ذرائع : زمین، جنگلات، بینک، معدنیات بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹر یاں وغیرہ چند لوگوں کی ذاتی ملکیت ہیں اور وہ ان سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے بہت سی اخلاقی اور معاشی و معاشرتی قدروں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ وہ اس دولت کو نہ اپنے ملازموں کی بھلائی اور نہ ہی معاشرے کی فلاح و بہبود کی خاطر کام میں لاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے لیے دولت پیدا کرنے والے محنت کش عوام ہی ہوتے ہیں۔ جن کو ان کی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا۔

نظریے کے مطابق مسائل کا حل[ترمیم]

ان مسائل کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ دولت پیدا کرنے کے تمام بنیادی ذرائع کو قوم کی مشترکہ ملکیت بنا دیا جائے۔ تاکہ دولت کی پیداوار اور تقسیم قومی مفادات کے مطابق ہو۔ یہ کام سماجی انقلاب کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ جو محنت کش عوام کی راہنمائی میں برپا ہو گا اور وہی اشتراکی ریاست کی تنظیم کریں گے۔

سوشلزم کے مشاہیر[ترمیم]

اشتراکیت کا نمائندہ نشان

اشتراکی گروہوں کی تقسیم بلحاظ نظریات[ترمیم]

موجودہ اشتراکی فلسفلہ بنیادی طور پر چار گروہوں میں منقسم ہے۔ چاروں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ چونکہ تمام معاشرتی امراض و مسائل کی جڑ شخصی حق ملکیت ہے، اس لیے وسائلِ پیدائش کی شخصی ملکیت کو ختم کر دینا چائیے۔ ان گروہوں میں اختلاف اس بات پر ہوتا ہے کہ ایسی ریاست کو تشکیل دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اشتراکیت کا عروج[ترمیم]

اسکی واضح مثالیں انقلاب روس اور انقلاب چین ہیں


اشتراکیت کا تنزل[ترمیم]

1991ء میں سوویت یونین، چیکو سلواکیہ اور یوگو سلاویہ کے ٹوٹنے سے اس نظام کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔

سیاسی نظریات
فوضیت
عیسائی جمہوریت
اسلامی جمہوریہ
اشتراکیت
قدامت پسندی
فسطائیت
نسائیت
اسلامیت
آزاد خیالی
قوم پرستی
اشتراکیت
Search Wikimedia Commons ویکیمیڈیا العام میں اشتراکیت سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔