افلاطون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
افلاطون

افلاطون(Plato)، جس کا اصل نام ارسٹوکلیز بتایا جاتا ہےیونان کے موثر ترین فلسفیوں میں سے ایک ہے۔افلاطون سقراط کا شاگرداور متعدد فلسفیانہ مکالمات کاخالق اور ایتھنز میں اکادمی(اکیڈمی) نامی ادارے کا بانی تھا جس میں بعدازاں ارسطو نے تعلیم حاصل کی۔افلاطون نے اکیڈمی میں وسیع پیمانے پر تعلیم دی اور بہت سے فلسفیانہ موضوعات، جن میں سیاست، اخلاقیات، مابعدالطبیعیات اور علمیات شامل ہیں، پر لکھا۔افلاطون کے مکالمات اسکی اہم ترین تحریریں ہیں، اگرچہ اس سے بعض خطوط بھی تک پہنچے ہیں۔یقین کیا جاتا ہے کہ افلاطون کے تمام مصدقہ مکالمات ہم تک صحیح سلامت ہم تک آئے ہیں۔

تاہم بعض ماہرین نے افلاطون سے منسوب مکالمات(First Alcibiades, Clitophon )کو مشکوک قرار دیا ہے یا ان کے مطابق بعض تحریریں سراسر غلط طور پر اس سے منسوب کر دی گئیں( Demodocus,Second Alcibiades)۔ جبکہ افلاطون سے منسوب تمام خطوط کو بھی جھوٹا قرار دیا گیا ہے، تاہم ساتویں خط کو ان دعووں سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔

سقراط افلاطون کے مکالمات کا کم و بیش مرکزی کردار ہے۔ مگریہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ تحریر کردہ دلائل میں سے کون سے افلاطون کے اور کونسے سقراط کے ہیں۔کیونکہ سقراط نے بذات خود کچھ تحریر نہیں کیا۔اس مسئلے کو عموما ”سقراطی مسئلہ” کہا جاتا ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ افلاطون اپنے استاد سقراط کے خیالات سے بے حد متاثر تھا، اور اسکی ابتدائی تحریروں میں بیان کردہ تمام خیالات اور نظریات ماخوذ ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

کتب خانہ افلاطون

بیرونی روابط[ترمیم]

http://plato-dialogues.org/plato.htm

http://librivox.org/euthyphro-by-plato

http://plato.stanford.edu/entries/plato

http://www.ellopos.net/elpenor/greek-texts/ancient-greece/guthrie-plato.asp