اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شاعری کی ابتداء[ترمیم]

اقبال کی شاعری پر اظہار خیال کرنے والے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی شاعری کا آغاز اسی وقت وہ گیا جب وہ ابھی سکول کے طالب علم تھے اس سلسلے میں شیخ عبدالقادر کہتے ہیں،

” جب وہ سکول میں پڑھتے تھے اس وقت سے ہی ان کی زبان سے کلام موزوں نکلنے لگا تھا۔“

عبدالقادر سہروردی کا کہنا ہے کہ،

” جب وہ سکول کی تعلیم ختم کر کے اسکاچ مشن کالج میں داخل ہوئے تو ان کی شاعری شروع ہوئی۔“ ان دونوں آراءمیں اگرچہ معمولی سا اختلاف ہے لیکن یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز انہی دنوں ہوگیا تھا جب وہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے چھوٹے موٹے مشاعروں میں بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کی اس زمانہ کی شاعری کا نمونہ دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد علامہ اقبال جب اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور پہنچے تو اس علمی ادبی مرکز میں ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو ابھرنے اور تربیت پانے کا سنہر ی موقعہ ہاتھ آیا ، یہاں جگہ جگہ شعر و شاعری کی محفلوں کا چرچا تھا۔ مرزا رشد گورگانی دہلوی اور میر ناظم لکھنوی جیسے پختہ کلام اور استادی کا مرتبہ رکھنے والے شاعر ےہاں موجود تھے اور ان اساتذہ شعر نے ایک مشاعرے کا سلسلہ شروع کیاتھا۔ جو ہر ماہ بازارِ حکیماں میں منعقد ہوتا رہا۔ اقبال بھی اپنے شاعرانہ ذوق کی تسکین کی خاطر اس مشاعر ے میں شریک ہونے لگے۔ اس طرح مرزا ارشد گورگانی سے وہ بحیثیت شاعر کے متعارف ہوئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے مرزا صاحب سے اپنے شعروں پر اصلاح بھی لینی شروع کر دی۔ اس زمانہ میں وہ نہ صرف غزلیں کہا کرتے تھے۔ اور یہ غزلیں چھوٹی بحروں میں سادہ ، خیالات کا اظہار لئے ہوئی تھیں۔ البتہ شوخی اور بے ساختہ پن سے اقبال کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اظہار ضرور ہو جاتا تھا۔ بازار حکیماں کے ایک مشاعرے میں انہی دنوں اقبال نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ تھا۔

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے

اس شعر کا سننا تھا کہ محفل مشاعرہ میں موجود سخن سنج اصحاب پھڑک اُٹھے اور مرزا ارشد گورگانی نے اسی وقت پیشن گوئی کی کہ اقبال مستقبل کے عظیم شعراءمیں سے ہوگا۔

شاعری کی شہرت[ترمیم]

اقبا ل کی شاعری کا چرچا شروع شروع میں بازار حکیماں کے مشاعروں تک محدود تھا۔ یا پھر لاہور کے کالجوں کی ادبی مجالس میں انہیں شاعر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ شہر کی ادبی مجالس میں انہیں ایک خوش گو اور خوش فکر نوجوان شاعر کی حیثیت سے پہنچانا جانے لگا۔ انہی دنوں انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم پر بھی توجہ کی۔ ایک ادبی مجلس میں انہوں نے اپنی اولین نظم ”ہمالہ “ سنائی تو اسے بہت پسند کیاگیا۔ چنانچہ اقبال کی یہ پہلی تخلیق تھی جو اشاعت پذیر ہوئی۔ شیخ عبدالقادر نے اسی زمانہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے اپنا پہلا مشہور رسالہ ”مخزن “ جاری کیاتھا۔ اس کے پہلے شمارے میں اپریل ١٠٩١ءمیں اقبال کی یہ نظم شائع ہوئی یہ گویا ان کی باقاعدہ شاعری کا آغاز تھا۔ ان کے پہلے مجموعہ کلام ”بانگ درا“ کی اولین نظم یہی ہے۔ اور اسی نظم کے چھپنے کے بعد ان کی شہرت روز بروز پھیلتی چلی گئی۔ FARD KAIM RABT E MILAT SY HY TANHAA KUCH NHE

MOJ HY DARIA MAIN OR BEROON E DARIA KUCH NHE

شاعری کے مختلف ادوار[ترمیم]

اقبال کے ذہنی و فکری ارتقاءکی منازل کا تعین اس کی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اقبال نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری کو ہی بنایا ہے۔ یہ طریقہ سب سے پہلے شیخ عبدالقادر نے اختیار کیاتھا۔ انہوں نے ”بانگ درا“ کا دیباچہ لکھتے وقت اقبال کی شاعری پر تبصرہ کیا ہے۔ اور اسے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ لیکن یہ تقسیم بعد میں اس لئے قابل قبول نہیں رہی کہ شیخ عبدالقادر کے پیش نظر اقبال کا وہ کلام تھاجو ”بانگ درا“ میں شامل ہے۔ بعد کے نقادوں کے ان کے پورے کلام کو پیش نظر رکھ کر شیخ عبدالقادر کی پیروی کرتے ہوئے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ چنانچہ مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے اقبال کی شاعری کے چار ادوار قائم کئے ہیں۔ ان دونوں کے ہاں ادوار کا تعین تقریباً یکساں ہے۔ طاہر فاروقی نے اپنی کتاب ”سیرت اقبال“ اور عبدالسلام ندوی نے اپنی کتاب” اقبال کامل“ میں ان ادوار کا تعین کیاہے۔ان دونوں کے نزدیک اقبال کی شاعری کے مندرجہ ذیل چار ادوار ہیں۔

1۔ پہلا دور از ابتداء1905ءیعنی اقبال کے بغرضِ تعلیم یورپ جانے تک کی شاعری

2۔دوسرا دور 1905ءتا 1908ءیعنی اقبال کے قیامِ یورپ کے زمانہ کی شاعری

3۔ تیسرا دور 1908ءتا 1924ءیعنی یورپ سے واپس آنے کے بعد ”بانگ درا “ کی اشاعت تک کی شاعری

4۔ چوتھا دور 1924ءتا 1938ء”بانگ درا “ کی اشاعت سے اقبال کے وفات تک کی شاعری

بعد میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی کتاب ”طیف اقبال“ میں یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے صرف ایک دور کا اضافہ کرتے ہوئے اقبال کی شاعری کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے دراصل اقبال کی شاعری کو ان سیاسی واقعات کی روشنی میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے جن سے ہندوستان کے مسلمان متاثر ہوتے رہے۔ اس لئے ان کی شاعری کی تقسیم ان چار ادوار میں ہی درست ہے جو مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے متعین کئے ہیں۔


شاعری کا پہلا دور[ترمیم]

اقبال کی شاعری کا پہلا دوران کی شاعری کی ابتداءسے ٥٠٩١ءتک یا بالفاظِ دیگر اس وقت تک شمار کیا جاسکتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر یورپ روانہ ہوئے ۔ اس دور کی خصوصیات ذیل ہیں۔


روایتی غزل گوئی[ترمیم]

اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے مرزا ارشد گورگانی سے اصلاح لینی شروع کی تب بھی ان کی غزلوں کا روایتی مزاج برقرار رہا ۔ البتہ ان کی طبیعت کی جدت طرازی کبھی کبھی ان سے کوئی ایسا شعر ضرور کہلوا دیتی تھی جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب استاد داغ کی زبان دانی اور شاعری کا چرچا تمام ہندوستان میں پھیلا تھا۔ اقبال نے اصلاح ِ سخن کی خاطر داغ سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ نہ صرف اپنی غزلوں پر داغ سے اصلاح لیتے رہے بلکہ داغ کا لب و لہجہ اور رنگ اپنانے کی کوشش بھی کی۔اور داغ کی طرز میں بہت سی غزلیں کہیں ۔ چند غزلیں جو اس دور کی یادگار کے طور پر باقی رہ گئی ہیں وہ واضح طور پر داغ کے رنگ نمایاں کرتی ہیں انہی میں سے وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی

تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی


نظم نگاری[ترمیم]

اقبال نے جلد ہی اندازہ کر لیاتھا کہ روایتی قسم کی غزل گوئی ان کے مزاج اور طبیعت سے مناسبت نہیں رکھتی اور انہیں اپنے خیالات کے اظہار کے لئے زیادہ وسیع میدان کی ضرورت ہے چنانچہ انہوں نے نظم نگاری کی جانب توجہ کی اور اس کا آغاز” ہمالہ “ جیسی خوبصورت نظم لکھ کر کیا جسے فوراً ہی قبول عام کی سند حاصل ہوگئی۔ اس سی ان کا حوصلہ بندھا اور انہوں نے پے درپے نظمیں لکھنی شروع کر دیں ۔ انہی نظموں میں ان کی وہ مشہور نظمیں شامل ہیں جو ”نالہ یتیم “ ”ہلال عید سے خطاب“ اور ”ابر گہر بار“ کے عنوان سے انجمنِ حمایت اسلام کے جلسوں میں پڑھی گئیں۔


مغربی اثرات[ترمیم]

اقبال کو شروع ہی سے مغربی ادب کے ساتھ شغف رہاتھا چنانچہ اپنی شاعری کے ابتدائی زمانہ میں انہوں نے بہت سی انگریزی نظموں کے خوبصورت ترجمے کئے ہیں۔ ”پیام صبح “ ”عشق اور موت“اور ” رخصت اے بزم جہاں“ جیسی نظمیں ایسے تراجم کی واضح مثالیں ہیں۔ اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ مثلاً مکڑاور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری ، بچے کی دعا، ماں کا خواب ، ہمدردی وغیرہ یہ تمام نظمیں مغربی شعراءکے کلام سے ماخوذ ہیں۔


فلسفہ خودی[ترمیم]

اقبال کے ابتدائی دور کی کئی نظمیں اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں اقبال کی فلسفہ خودی کے کئی عناصر اپنی ابتدائی اور خام شکل میں موجود ہیں۔ یہی عناصر ہیں جنہیں آگے چل کر اپنی صورت واضح کی اور مربوط و منظم ہو کر اقبال کے نظام فکر میں بنیادی حیثیت اختیار کر لی اور اس کا نام فلسفہ خودی قرار پایا۔اس فلسفہ خودی کے درج ذیل عناصر ہیں۔

1 اقبال کے فلسفہ خودی میں انسان کی فضیلت ، استعداد اور صلاحیتو ں کابڑا زور دیا گیا ہے۔

2 فلسفہ خودی کا دوسرا بڑا عنصر عشق اور عقل کی معرکہ آرائی میں عشق کی برتری کا اظہار ہے۔

3 فلسفہ خودی کا ایک اور عنصر خیر و شر کی کشمکش ہے جو کائنات میں ہر آن جاری ہے۔

4 فلسفہ خودی کا ایک بہت قوی عنصر حیاتِ جاودانی اور بقائے دوام کا تصور ہے۔

5 اقبال کے فلسفہ خودی کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ زندگی کی جہد مسلسل خیال کرتے ہیں۔

اقبال کے اس ابتدائی دور کی شاعری کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول ،

” یہ ایک طرح کا جستجو، کوشش، اظہار اور تعمیر کا دور ہے اقبال کی آنے والی شاعری کے بیشتر رجحانات اور شاعرانہ افکار کے ابتدائی نقوش و آثار اس شاعری میں مل جاتے ہیں۔“

جبکہ ڈاکٹر عبداللہ رومانی کا کہنا ہے۔

” اس دور کا اقبال نیچر پر ست ہے اور جو چیز اس دور کی نظموں میں نمایاں نظر آتی ہے وہ تنہائی کا احساس ہے اس بھری انجمن میں اپنے آپ کو تنہا سمجھنے کا احساس اور زادگانِ فطرت سے استعفار اور ہم کلامی اقبال کی رومانیت کی واضح دلیل ہے۔“


شاعری کا دوسرا دور[ترمیم]

اقبال کی شاعری کا دوسرا دور 1905ءمیں ان کی یورپ کے لئے روانگی سے لےکر 1908ءمیں ان کے یورپ سے واپسی تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ گویا اس دور میں ان کا وہ کلام شامل ہے جو انہوں نے اپنے قیام یورپ کے دوران لکھا اس تمام عرصہ میں انہیں شعری مشغلہ کے لئے بہت کم وقت ملا کیونکہ ان کا زیادہ وقت اعلیٰ تعلیم کے حصول پی ۔ ایچ ۔ ڈی کے لئے تحقیقی مصرفیات اور مغربی افکار کے مطالعہ میں صرف ہوتا رہا۔ شائد ان ٹھوس علمی مصروفیات کا یہی اثر تھا کہ ایک مرحلہ پر وہ شاعری کو بیکار محض تصور کرنے لگے اور اس مشغلہ کو ترک کرنے کا ارادہ کر لیا۔ شیخ عبدالقادر جو اُن دنوں انگلستان میں تھے لکھتے ہیں کہ،

” ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ سے کہا کہ ان کا مصمم ارادہ ہو گیا ہے کہ وہ شاعری کو ترک کر دیں اور قسم کھا لیں کہ شعر نہیں کہیں گے۔ میں نے ان سے کہاکہ ان کی شاعری ایسی شاعری نہیں جسے ترک کرنا چاہیے ۔ شیخ صاحب کچھ قائل ہوئے کچھ نہ ہوئے آخر یہ قرار پایا کہ آخری فیصلہ آرنلڈ صاحب کی رائے پر چھوڑا جائے ۔ آرنلڈ صاحب نے مجھ سے اتفاق رائے کیا اور فیصلہ یہی ہوا کہ اقبال کے لئے شاعری چھوڑنا جائز نہیں۔“

اس زمانہ کی شاعری کی خصوصیات درجِ ذیل ہیں،


پیامبری[ترمیم]

اقبال کی اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہے یورپ کی ترقی کے مشاہدہ نے ان پر یہ راز کھولا کہ زندگی مسلسل جدوجہد ، مسلسل حرکت ، مسلسل تگ و دو اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے سے عبارت ہے۔ اس لئے مولانا عبدالسلام ندوی کہتے ہیں،

” اسی زمانہ میں ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوگیا اور انہوں نے شاعر کی بجائے پیامبر کی حیثیت اختیار کر لی۔“

چنانچہ انہوں نے ”طلبہ علی گڑھ کالج کے نام“ کے عنوان سے جو نظم لکھی اس میں کہتے ہیں،

اور روں کا ہے پیام اور ، میرا پیام اور ہے
عشق کے دردمند کا طرز کلام اور ہے
شمع سحر کہہ گئی، سوز ہے زندگی کا راز
غمکدہ نمود میں ، شرط دوام اور ہے

اس طرح چاند اور تارے اور کوشش ناتمام بھی اسی پیغام کی حامل ہیں۔

یورپی تہذیب سے بیزاری[ترمیم]

اقبال یورپ کی ترقی سے متاثر ہوئے تھے لیکن ترقی کی چکا چوند انہیں مرغوب نہیں کرسکتی ہے۔ وہ صحیح اسلامی اصول و قوانین اور قرآنی احکام پر عمل کرنے اور بری باتوں سے پرہیز کرنے کے قائل ہیں۔ مغربی تہذیب کا کھوکھلا پن ان پر ظاہر ہوتا ہے وہ اس سے بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔

دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا


اسلامی شاعری[ترمیم]

مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن اور ناپائیداری کا ادراک کرنے کے بعد اورجس فن افکار نے اس تہذیب کو جنم دیا تھا ان کی بے مائیگی کو سمجھ لینے کے بعد اقبال آخر کار اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔

اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں
شمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میں
خود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں


فارسی شاعری کا آغاز[ترمیم]

اس دور میں اقبال نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں طبع آزمائی شروع کی ۔ فارسی زبان کی وسعت اور اس کے پیرایہ اظہار و بیان کی ہمہ گیری کے ساتھ اقبال کو اپنی شاعری کے وسیع امکانات کی بڑی مطابقت نظر آئی۔

اس دور تک پہنچتے پہنچتے اقبال کے افکار و خیالات کسی قدر واضح اور متعین شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یورپی تہذیب کی ملمع کاری اور کھوکھلے پن کا ان پر اظہار ہوگیا ہے اور وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پانے لگے ہیں۔ اس ملت کے لئے ان کے پاس اب یہ پیغام ہے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر سختی سے کار بند ہوں۔


شاعری کا تیسرا دور[ترمیم]

اقبال کی شاعری کا تےسرا دور 1908ءمیں یورپ سے ان کی واپسی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور 1924ءمیں ”بانگ درا“ کی اشاعت تک شمار کیا جاتا ہے یہ دور ان کے افکار و خیالات کی تکمیل اور تعین کا دور ہے اس دور کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔


وطنیت و قومیت[ترمیم]

اقبال نے قیام یورپ کے دوران اُن اسباب کا بھی تجزیہ کیا تھا جو مغربی اقوام کی ترقی اور عروج ممدو معاون ہونے اور ان حالات کا بی گہرا مشاہدہ کیاتھا جو مشرقی اور خاص طور پر اسلامی ممالک کے زوال اور پسماندگی کا باعث بنے۔ ان کی تیز بین نظروں کے سامنے اب وہ تمام حربے بے نقاب تھے جو مغربی اقوام نے مشرق کو غلام بنائے رکھنے کے لئے وضع کر لئے تھے۔ ان سب حربوں میں زیادہ خطرناک حربہ وطنیت اور قومیت کا نظریہ تھا۔ اس تصور کو ملتِ اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھنے لگے اِ سی لئے انہوں نے کہا کہ،

ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اقوام میں مخلوق ِ خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے


اسلامی شاعری[ترمیم]

اس دور میں اقبال صرف وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کو مسترد کرکے اس کے مقابلے میں ملت کے اسلامی نظریہ کی تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اب ان کی پوری شاعری کا مرکز و محور ہی اسلامی نظریات و تعلیمات بن گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں انہوں نے دوسرے مذہبی پیشوائوں مثلاً رام اور گورونانک وغیرہ کی تعریف میں بھی نظمیں لکھیں ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی ان کی پوری توجہ اسلام اور ملت اسلامیہ کی جانب ہے۔ ”شمع و شاعر“ اور ”خضر راہ“ اس زمانے کے حالات کا بھرپور جائزہ لیتی ہوئی نظمیں ہیں۔


فلسفہ خودی[ترمیم]

اس دور میں اقبال کا فلسفہ خودی پوری طرح متشکل ہو کر سامنے آیا۔ ان کی اس دور کی شاعری تمام کی تمام اسی فلسفہ کی تشریح و توضیح ہے۔ چنانچہ اردو شاعری میں بھی اس فلسفہ کا اظہار اکثر جگہ موجود ہے اسی زمانہ میں انہوں نے کہا،

تور از کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا!
خودی کا راز داں ہو جا ، خدا کا ترجماں ہوجا
خودی میں ڈوب جا غافل ، یہ عین زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہوجا


شاعری کا چوتھا دور[ترمیم]

یہ دور 1924ءسے لے کران کے وفات تک ہے اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔


طویل نظمیں[ترمیم]

بانگ درا“ میں اقبال کی کئی نظمیں شامل ہیں جن میں سے اکثر خارجی اور سیاسی محرکات کے زیر اثر ہیں۔ یہ محرکات چونکہ بہت ہیجان خیز تھے اس لئے نظموں میں جوش و جذبہ کی فضا پوری طرح قائم رہی ہے۔ مثال کے طور پر ”شکوہ“ ”جواب شکوہ“ ، ”شمع و شاعر“ ، طلوع اسلام“ وغیرہ نظموں کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔ کئی طویل نظمیں ”بال جبریل “ میں ہیں جیسے ”ساقی نامہ“ وغیرہ۔


نئے تصورات[ترمیم]

اس دور کے کلام میں کچھ نئے تصورات سامنے آئے مثلاً شیطان کے متعلق نظم ”جبریل اور ابلیس“

ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمود
میرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تاروپو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصہ آدم کو رنگیں کر گیا کسِ کا لہو

گزشتہ ادوار کی تکمیل[ترمیم]

بیشتر اعتبار سے یہ گزشتہ ادوار کی تکمیل کرتا ہے۔ مثلاً پہلے ادوار میں وہ یورپی تہذیب سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اس دور میں وہ اس کے خلاف نعرہ بغاوت بلندکرتے ہیں اور اس کے کھوکھلے پن کو واشگاف کرتے ہیں۔


افکار و نظریات میں تغیر و تضاد[ترمیم]

اقبال کی شاعری کے مندرجہ بالا تفصیلی جائزہ سے یہ بات پوری عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ فکری ارتقاءکی مختلف منازل سے ضرور گزرے ہیں۔ لیکن فکری اور نظریاتی تضاد کا شکار کبھی نہیں ہوئے ۔ ابتدائی دور میں وہ وطن پرست تھے تو آخر وقت تک محب وطن رہے ہیں لیکن وطن کی حیثیت انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو انسان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے آپس میں برسرِ پیکار رہتی ہے۔

کچھ عرصہ بعد انہیں یہ شعور حاصل ہوکہ وہ ایسی ملت کے فرد ہیں جو جغرافیائی حدود میں سمونا نہیں جانتی اس کا نتیجہ یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے ہم وطن دیگر مذاہب کے پیرووں کے لئے نفرت کا اظہار کیا ہو۔بلکہ صرف یہ ہوا کہ انہوں نے اپنا تشخص اس ملت کے حوالہ سے کیا جس کا وہ حصہ تھے۔ یہ ان کی فکری ارتقاءکے مختلف مراحل کے نشانات ہیں اور وہ بہت جلد وطن اور ملت کے متعلق ایک واضح نکتہ نظر کو اپنا چکے تھے ۔ اس کے بعد وہ آخر وقت تک اسی نکتہ نظر کی وضاحت اور تبلیغ میں مصروف رہے اور کسی مقام پر کوئی الجھائو محسوس نہیں کیا۔