الاسکا ہائی وے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

x70pxHighway 1 shieldسانچہ:Infobox road/name/CAN shield

الاسکا ہائی وے
Alaska State Route 2
Yukon Highway 1
British Columbia Highway 97
سڑک کی معلومات
لمبائی: 2,232 km[2] (1,387 mi)
(as of 2012)
دور: 1942[1] – تا حال
بڑے جنکشن
South end: [[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] in Dawson Creek, BC
  [[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] in Charlie Lake, BC
[[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] near Fort Nelson, BC
[[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] in Watson Lake, YT
[[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] at Johnsons Crossing, YT
[[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] at Jakes Corner, YT
[[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] in Carcross Cutoff, YT and Whitehorse, YT
[[سانچہ:Jct/link/CAN|سانچہ:Jct/abbrev/CAN]] at Haines Junction, YT
AK-5 at Tetlin Junction, AK
AK-1 in Tok, AK
North end: AK-2 / AK-4 at Delta Junction, AK
Location
Major cities: Fort St. John, BC, Fort Nelson, BC, Watson Lake, YT, Whitehorse, YT, Tok, AK, Delta Junction, AK
شاہراتی نظام
سانچہ:Infobox road/browselinks/CAN
سانچہ:Infobox road/browselinks/USA
سانچہ:Infobox road/browselinks/CAN

الاسکا ہائی وے جسے الاسکن ہائی وے، الاسکا کینیڈا ہائی وے یا الکن ہائی وے بھی کہا جاتا ہے، دوسری جنگ عظیم میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کو زمینی راستے سے الاسکا کی ریاست سے ملانے کے لئے تعمیر کیا گیا۔ یہ شاہراہ کینیڈا سے ہو کر گذرتی ہے۔ ڈاسن کریک، برٹش کولمبیا کے مقام سے کئی کینیڈین شاہراہوں سے یہ سڑک شروع ہوتی ہے اور وائٹ ہارس، یوکون سے ہوتی ہوئی ڈیلٹا جنکشن، الاسکا پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ 1942 میں تکمیل پر اس کی کل لمبائی 2700 کلومیٹر کے لگ بھگ تھی۔ تاہم 2012 میں اس کی لمبائی کم ہو کر 2232 کلومیٹر رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ شاہراہ کے مختلف حصوں کی تعمیر اور کئی جگہوں پر شارٹ کٹ بننا ہے۔ 1964 میں اس شاہراہ کو عوام الناس کے لئے کھول دیا گیا تھا۔ لمبے عرصے تک یہ سڑک انتہائی دشوار گذار اور خطرناک سمجھی جاتی تھی لیکن اب پوری سڑک پختہ حالت میں تعمیر ہے۔

غیر رسمی طور پر سنگ میل صرف اہم جگہوں پر لگائے گئے تھے جہاں لوگ زیادہ سستانے رکتے تھے۔ آخری سنگ میل ڈیلٹا جنکشن پر ہے جسے سنگ میل نمبر 1622 کا نام دیا گیا ہے۔ اس جگہ سے رچرڈسن ہائی وے شروع ہوتی ہے جو 155 کلومیٹر طویل ہے اور فیئر بینکس کو جاتی ہے۔ عام طور پر اسے لوگ الاسکا ہائی وے کا شمالی حصہ سمجھتے ہیں اور فیئر بینک پر لگے سنگ میل پر سنگ میل نمبر 1520 درج ہے۔ غیر رسمی طور پر اسے پین امریکن ہائی وے کہا جاتا ہے جو جنوب میں ارجنٹائن تک جاتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

تعمیر[ترمیم]

الاسکا تک جانے والی شاہراہ کی تعمیر کے لئے 1920 کی دہائی سے تجاویز پیش کی جا رہی تھیں۔ تھامس میکڈونلڈ جو اس وقت امریکہ ادارہ برائے عوامی شاہراہوں کے سربراہ تھے، نے امریکہ اور کینیڈا سے گذرنے والے شاہراہ کا خواب دیکھا تھا۔ اس خیال کی خاطر سلم ولیمز نے کتا گاڑی پر امریکہ سے الاسکا تک کا سفر کیا۔ چونکہ یہ سڑک زیادہ تر کینیڈا سے گذرنی تھی اس لئے کینیڈا کی حکومت کا تعاون اشد ضروری تھا۔ تاہم کینیڈا والوں کے خیال میں اس سڑک سے یوکون کے چند ہزار لوگو ں کو ہی فائدہ پہنچتا اس لئے انہوں نے دلچسپی نہیں لی۔

تاہم سڑک کے راستے میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور پھر یہ راستہ راکی پہاڑوں ہوتا ہوا پرنس جارج، برٹش کولمبیا کے راستے ڈاسن سٹی کو جا کر مغرب کو مڑ کر فیئر بینکس، الاسکا کا رخ کرتا۔

پرل ہاربر پر حملے اور بحر الکاہل میں شروع ہونے والی جنگی سرگرمیوں اور شمالی امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع الیوشن جزائر پر جاپان کے حملے کے اندیشے کے سبب امریکہ اور کینیڈا دونوں نے ہی اس سڑک کی تعمیر کا سوچا۔ 6 فروری 1942 کو اس سڑک کی تعمیر کی اجازت امریکی فوج نے دی جس کی تصدیق 5 روز بعد کانگریس اور امریکی صدر روز ویلٹ نے دی۔ کینیڈا نے اس شرط پر حامی بھری کہ تعمیر کے تمام تر اخراجات امریکی حکومت ادا کرے گی اور جنگ کے اختتام پر یہ سڑک اور اس سے متعلقہ سہولیات کینیڈا کی ملکیت ہو جائیں گی۔

ٹرین کے ذریعے ڈاسن کریک تک سینکڑوں کی تعداد میں تعمیراتی مشینری کی منتقلی کے بعد 8 مارچ 1942 سے سڑک کی باقاعدہ تعمیر شروع ہو گئی۔ بہار کے آغاز کے ساتھ ہی سڑک کے جنوبی اور شمالی، دونوں سروں سے کام شروع ہو گیا۔ جب جاپانیوں نے الیوشن جزائر میں کسکا اور اٹو جزائر پر حملہ کیا تو تعمیر کے کام کو مہمیز ملی۔ 24 ستمبر 1942 کو دونوں جانب سے تعمیراتی کارکن سنگ میل نمبر 588 پر آن ملے۔ اس جگہ کو کانٹیکٹ کریک کا نام دیا گیا۔ یہ جگہ برٹش کولمبیا اور یوکون کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ 28 اکتوبر 1942 کو سڑک کی تعمیر مکمل ہوئی جب میل نمبر 1202 پر شمالی سڑک آن ملی۔

جنگ کی ضروریات کے پیش نظر اس سڑک کو انتہائی دشوار گذار علاقوں سے گذار کر نارتھ ویسٹ سٹیجنگ روٹ تک لایا گیا جہاں کے ہوائی اڈے پر امریکہ کی جانب سے روس کو ادھار یا ویسے ہی دیئے جانے والے جنگی ہوائی جہاز استعمال ہوتے تھے۔

سڑک کی تعمیر کا بنیادی مقصد امریکی فوج کو جنگی ساز و سامان کی منتقلی کا راستہ مہیا کرنا تھا۔ اس راستے کے چار اہم مراحل تھے: الاسکا میں ڈیلٹا جنکشن سے جنوب مشرق کا راستہ جو بیور کریک، یوکون سے جا ملتا، ڈاسن کریک سے شمال اور پھر مغرب کو جانے والا راستہ، وائٹ ہارس سے مشرق اور مغرب کو جانے والا راستہ جو وائٹ پاس اور یوکون روٹ کے مقام پر کشتی کی مدد سے دریا کے پار جاتا تھا ۔ امریکی فوج نے ہر قسم کا ساز و سامان مہیا کیا جس میں دریا میں چلنےو الی کشتیاں، ریلوے انجن اور عارضی رہائش کے لئے مکانات بھی شامل تھے۔

اگرچہ یہ سڑک 28 اکتوبر 1942 کو تعمیر ہو چکی تھی لیکن 1943 تک اس پر عام گاڑیاں نہیں چل پائی تھیں۔ پھر بھی اس سڑک پر بہت جگہ انتہائی دشوار چڑھائیاں، خراب سطح، وغیرہ جیسے مسائل کے علاوہ عارضی طور پر بنائے گئے شہتیروں والے پل بھی تھے جنہیں بعد میں فولاد سے تبدیل کیا گیا۔ جاپان کی طرف سے حملوں کا خطرہ کم ہونے کے بعد سڑک کے مختلف حصوں کی تعمیر کا کام پرائیویٹ ٹھیکیداروں کو دینے کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔

برواش لینڈنگ اور کوئیڈرن کے درمیان یوکون کا 100 کلومیٹر کا حصہ 1943 میں مئی اور جون کے مہینے میں ناقابل عبور ہو گیا کیونکہ اس وقت پرمافراسٹ پگھل رہی تھی۔ اس لئے کورڈرائے روڈ تعمیر کی گئی۔ پرانی سڑک کے آثار ابھی بھی چند جگہوں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ موجودہ تیکنیک میں اس خامی پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب پرمافراسٹ نہیں پگھلتی۔ تاہم اس حصے پر ابھی بھی ہر سال کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

جنگ کے بعد[ترمیم]

امریکہ اور کینیڈا میں سڑک کی تعمیر کا اصل معاہدہ یہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے چھ ماہ بعد سڑک کینیڈا کے حوالے کر دی جائے گی۔ یکم اپریل 1946 کو اس پر عمل ہوا۔ امریکی فوج نے کینیڈا کی فوج کو سڑک کا انتظام منتقل کر دیا۔ 1960 کی دہائی میں الاسکا میں سڑک کا زیادہ تر حصہ پختہ ہوا۔ کینیڈا والا حصہ زیادہ تر بجری سے بنا تھا تاہم اب یہ حصہ بھی مکمل طور پر پختہ کر دیا گیا ہے۔

دی مائل پوسٹ کے نام سے اس شاہراہ اور الاسکا کی دیگر شاہراہوں کے متعلق معلومات پر مبنی پہلی تفصیلی کتاب 1969 میں چھپی اور اب بھی ہر سال چھپتی ہے۔

Flag of Canada.svg کینیڈا

  1. ^ "Timeline: Alaska from Russian Colony to U.S. State". American Experience. WGBH/PBS. 2010. http://www.pbs.org/wgbh/americanexperience/features/timeline/alaska/. Retrieved January 8, 2012.
  2. ^ "Alaska Highway". The Milepost. Morris Visitor Publications. http://www.milepost.com/highway_info/alaska_highway. Retrieved January 8, 2012.