التہاب
وکیپیڈیا سے
| التہاب میں نمایاں ہونے والے پانچ اھم اشارات۔ |
|||
| التہاب کے وقت ؛ عدیلات (neutrophils) (جامنی رنگ میں) دموی اوعیہ (blood vessels) سے ہجرت کر کہ کیمحرک (chemotaxis) کے عمل سے سوزشی نسیج کی جانب جاتے ہیں۔ اور وہاں پہنچ کر خلوی اکل (phagocytosis) کے زریعے ممراض (pathogen) کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ |
|||
|
|
|||
|
|||
سوزش کو طب و حکمت میں التِہاب کہا جاتا ہے اور انگریزی میں اسکو inflammation کہتے ہیں۔ طب میں سوزش سے مراد ایک جاندار کے جسم کا ایک ایسے ردعمل کی ہوتی ہے جو وہ کسی بھی قسم کی چوٹ یا صدمے کے بعد (یا کہ لیں کہ اسکے خلاف) ظاہر کرتا ہے، اس ردعمل میں درد ، سوجن ، سرخی اور حرارت کی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔
طبی الفاظ میں التہاب کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ یہ ایک چوٹ یا صدمے یا کسی نسیج پر ضرر کے ردعمل میں پیدا ہونے اولا ایک ایسا محلی (localized) ردعمل ہوتا ہے کہ جو ضرری سازندہ (injurious) کو یا تو ختم کردیتا (یا کرنے کی کوشش کرتا ہے) ، یا اسکو رقیق (dilute) کردیتا ہے (تاکہ اسکی طاقت کم ہوجاۓ) اور یا پھر دیواربند (wall off) کردیتا ہے تاکہ اسکی تباہ کاری محدود کی جاسکے۔ اپنے حادی (acute) وقت پر اس میں پانچ بنیادی علامات نمایاں ملتی ہیں۔
- درد (pain) --- جسکو طب میں الم (dolor) کہا جاتا ہے۔
- حرارت --- جسکو طب میں حرارہ (calor) کہا جاتا ہے۔
- سرخی (redness) --- جسکو طب میں حمر (rubor) کہتے ہیں۔
- سوجن (swelling) --- جسکو طب میں ورم (tumor) کہتے ہیں۔
- فعلی ناکارگی (loss of function) --- جسکو طب میں فقدان فعلیہ (function laesa) کہا جاتا ہے۔

