الحاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

الحاد کا لفظ عربی زبان میں لغوی اعتبار سے، انحراف اور یا (درست راہ) سے ہٹ جانے کے معنوں میں آتا ہے۔ لفظ الحاد کو انگریزی میں بعض اوقات atheism بھی لکھ دیا جاتا ہے جو کہ اپنے معنوں میں خاصا مختلف مفہوم کا حامل ہے جسکی درست اردو عقلاً و منطقاً، لامذبیت یا لادینی (atheism) آتی ہے جبکہ الحاد اسلامی مضامین میں استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح ہے جو کہ اپنا پس منظر قرآن (Quran) سے اخذ کرتی ہے۔ ایک اور مبالغہ جو کہ بکثرت دیکھنے میں آتا ہے وہ ہے لفظ دہریت (materialism) کو الحاد اور atheism کے لیۓ استعمال کرنا؛ دہریت ، الحاد ، کفر کے الفاظ کا مفہوم بنیادی طور پر قرآنی پس منظر میں ہی بیان کیا جاسکتا ہے اور پھر اسکے بعد اسکے مناسب انگریزی متبادلات (اگر ضرورت ہو تو) بیان کیے جاسکتے ہیں لیکن کسی ایسی انگریزی اصطلاح کو کسی خالص قرآنی اصطلاح کی جانب سختی سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ انگریزی میں ایک لفظ apostasy کم و پیش ان ہی معنوں میں آتا ہے کہ جب (کسی بھی دنیاوی مفاد کی خاطر) اپنے مذہب کی تعلیمات سے انحراف کر لیا جاتا ہو ؛ اور یہی وجہ ہے کہ الحاد کا مناسب متبادل لغتی اعتبار سے apostasy ہی کیا جاتا ہے۔

لفظ الحاد کا مفہوم[ترمیم]

لفظ الحاد بنیادی طور پر انحراف کے معنوں میں آتا ہے اور اپنی اساس میں یہ کلمہ، لحد سے ماخوذ ہے۔ لحد کا لفظ عام طور پر اردو میں بھی قبر کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے؛ فی الحقیقت لحد سے مراد اس طاق یا دراڑ یا درز کی ہوتی ہے کہ جو قبر میں ایک جانب ہٹی ہوئی ہوتی ہے اور جس میں میت کو رکھا جاتا ہے۔ چونکہ یہ طاق یا درز درمیان سے ہٹی ہوئی ہوا کرتی ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ قبر کے درمیان سے منحرف ہوجاتی ہے اسی وجہ سے اسکو لحد کہا جاتا ہے اور اسی لحد سے الحاد بھی بنا ہے۔

لفظ کا قرآنی ماخذ[ترمیم]

قرآن کی سورت الاعراف آیت ایک سو اسی کا عربی متن اور اردو ترجمہ

لفظ دہریت کی طرح الحاد کا لفظ بھی قرآن کی آیات میں اپنا ماخذ رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسکا بیان قرآنی مفہوم کے لحاظ سے کیا جانا ضروری ہے اور کسی ایک انگریزی اصطلاح کو اسکی جانب سختی سے نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کی سورت ، الاعراف (The Heights) کی آیت 180 میں یلحدون (یعنی لحد کرنا یا انحراف کرنے) کا لفظ آتا ہے۔