الخالد ٹینک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الخالد
Al-Khalid
قسم 90 آئی آئی ایم / ایم بی ٹی 2000
Type 90-IIM / MBT-2000
Al-Khalid MBT (1).jpg
الخالد ایم بی ٹی
قسم بنیادی جنگی ٹینک
مقام منشاء Flag of Pakistan.svg پاکستان
(Al-Khalid)
Flag of the People's Republic of China.svg چین
(Type 90-IIM)
تاریخ استعمال
استعمال میں 2001–تاحال
مستخدم پاکستان، چین، بنگلہ دیش، مراکش، سری لنکا، میانمار
جنگیں 2013 Lahad Datu standoff
تاریخ پیداوار
طرحکار نورینکو, فیکٹری 617
ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا
طرح شدہ 1990–99
صنائع ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (الخالد)
نورینکو (قسم 90 آئی آئی ایم)
پیداوار 2001–تاحال
متغیرات پاکستانی:
  • الخالد
  • الخالد اول
  • الخالد دوم (زیر ارتقا)

چینی:

  • قسم 90 آئی آئی ایم
  • ایم بی ٹی 2000
  • وی ٹی - ۱ اے
تخصیصات (الخالد)
وزن 46 t (51 short tons)
لمبائی 10.07 میٹر (33.0 فٹ)
چوڑائی 3.50 میٹر (11.5 فٹ)
اونچائی 2.40 میٹر (7.9 فٹ)
عملہ 3

زرہ بکتر جامع اسلحہ, رولڈ یکساں اسلحہ, دھماکہ خیز رد عمل اسلحہ[1]
مرکزی
اسلحہ
125 ملی میٹر ہموار بور توپ, 39
ثانوی
اسلحہ
7.62 ملی میٹر محوری اسلحہ مشین گن, 3000 rds
12.7 ملی میٹر بیرونی طیارہ شکن مشین گن, 500 [2]
انجن کے ایم ڈی بی 6 ٹی ڈی-2 6-سلنڈر ڈیزل انجن
1,200 hp (890 kW)
طاقت / وزن 26 hp/tonne[2]
ٹرانسمیشن ایس ای ایس ایم ایایس ایم500 5-رفتار خودکار
سسپنشن Torsion bars, hydraulic dampers
عملیاتی
حد
500 کلومیٹر (جنگی حد)[4]
رفتار 72 کلومیٹر / گھنٹہ[3][4]

الخالدٹینک پاکستانی فوج کا نیا اور جدید ترین ٹینک ہے۔ یہ 400 کلومیٹر دور تک بغیر کسی مزاحمت سفر کرسکتا هے۔ اس کے اندر ایک 1200 HP یوکرین کا بنایا گیاانتهائ جدید انجن نصب ہے۔ یہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے۔ اسکا عمله تین آدمیوں پر مشتمل هوتا هے ـ الخالد ٹینک کا افتتاح پاکستان میں صدر جنرل ضیاءالحق 1988ء میں کیا اور واپسی پر ایک سازش کے تحت اپنے تقریبا 25 فوجی جرنیلوں سمیت C-130 طیارے میں شهید کردیۓ گۓ.

اسلحہ[ترمیم]

اس میں ایک عدد 125 ملی میٹر سموتھبور توپ نصب ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ اس میں ایک مشین گن اسکی چھت پر اور ایک نیچے بھی لگی ہوتی ہے۔ اسکی توپ 200 میٹر سے لیکر 2000 میٹر تک کے دشمن کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس میں روس کا بنایا گیا گولہ لگانے والا خودکار نظام نصب ہے۔

یہ پانچ میٹر گہرے پانی میں سے بھی گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ٹینک چین اور یوکرین کی مدد سے پاکستان میں بنایا جارہا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]