الخوارزمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد ابن موسیٰ الخوارزمی
سوویت اتحاد سے 6 ستمبر 1983 کو الخوارزمی کے اعزاز میں ان کی 1200 ویں سالگرہ (اندازاً) پر جاری ہونے والا ایک ڈاک ٹکٹ۔
پیدائش 780ء (163ھ)
وفات 850ء (235ھ)
شہریت ایرانی
وجہِ شہرت ریاضی کے کارہائے نمایاں

تاریخ سے خوارزمی کے بارے میں ہم تک بہت کم معلومات پہنچی ہیں، خاص طور سے ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے، اس طرح گویا ہم ان سے زیادہ ان کے آثار کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں، ان کا نام “محمد بن موسی الخوارزمی” ہے، خوارزم سے تعلق رکھتے تھے، ان کی تاریخِ پیدائش مجہول ہے، تاہم وہ المامون کے زمانے میں تھے، بغداد میں رہے اور ریاضی اور فلک میں شہرت پاکر ابھرے، خلیفہ المامون سے منسلک ہوئے جنہوں نے ان کا خوب اکرام کیا، “بیت الحکمہ” سے بھی منسلک ہوئے اور معتبر سائنسدانوں اور علماء میں شمار ہوئے، ان کی وفات 232 ہجری کے بعد کے کسی سال میں ہوئی.

انہوں نے بہت ساری اہم تصانیف چھوڑیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں: الزیج الاول، الزیج الثانی جو “السند ہند” کے نام سے مشہور ہے، کتاب الرخامہ، کتاب العمل بالاسطرلاب، اور مشہورِ زمانہ “کتاب الجبر والمقابلہ” جسے انہوں نے لوگوں کے روز مرہ ضروریات اور معاملات کے حل کے لیے تصنیف کیا جیسے میراث، وصیت، تقسیم، تجارت، خرید وفروخت، کرنسی کا تبادلہ (ایکسچینج)، کرایہ، عملی طور پر زمین کا قیاس (ناپ)، دائرہ اور دائرہ کے قطر کا قیاس، بعض دیگر اجسام کا حساب جیسے ثلاثی، رباعی اور مخروط ہرم وغیرہ..

وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے علمِ حساب اور علمِ جبر کو الگ الگ کیا، اور جبر کو علمی اور منطقی انداز میں پیش کیا.

وہ نہ صرف عرب کے نمایاں سائنسدانوں میں شامل ہیں بلکہ دنیا میں سائنس کا ایک اہم نام ہیں، انہوں نے نہ صرف جدید جبر کی بنیاد رکھی، بلکہ علمِ فلک میں بھی اہم دریافتیں کیں، ان کا زیچ علمِ فلک کے طالبین کے لیے ایک طویل عرصہ تک ریفرنس رہا، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ریاضیاتی علوم میں یورپ کبھی بھی ترقی نہ کرپاتا اگر اس کے ریاضی دان خوارزمی سے نقل نہ کرتے، ان کے بغیر آج کے زمانے کی تہذیب، تمدن اور ترقی بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہوجاتی.

الخوارزم (لاطینی میں جو "الگورتھم" بنا) ان کے نام سے ماخوز ہے۔[1]