الضحیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الضحیٰ
اللیل الضحیٰ الم نشرح
Sura93.pdf
دور نزول مکی
عددِ سورت 93
اعداد و شمار
تعداد آیات 11
الفاظ 40
حروف 164

قرآن مجید کی 93 ویں سورت جس میں 11 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

پہلے ہی لفظ والضحٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضور سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ کو اطمینان دلایا گیا کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کارفرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات کا سکون طاری کرنے میں کارفرما ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپ پر برابر پڑتی رہتی تو آپ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے۔ اس لیے بیچ میں وقفہ دیا گیا تاکہ آپ کو سکون مل جائے۔ یہ کیفیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپ کو وحی کے نزول کی شدت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ (نزول وحی کا کس قدر شدید بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعصاب پر پڑتا تھا اس کے لیے دیکھیے مضمون سورۂ مدثر اور مطالعہ کیجیے سورۂ مزمل) بعد میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تسلی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ کو لاحق ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ آپ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالٰی آپ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا جس سے آپ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی ان صریح پیشینگوئیوں میں سے ایک ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں، حالانکہ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت کہیں دور دور بھی اس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اسے اتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔

اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روز پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے، ہم نے تمہاری پرورش اور خبر گیری کا بہترین انتظام کر دیا۔ تم ناواقفِ راہ تھے، ہم نے تمہیں راستہ بتایا۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتدا سے ہمارے منظور نظر ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شامل حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ آیات 37 تا 42 کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالٰی نے ان کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں، اس لیے تم اطمینان رکھو کہ اس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل تمہارے ساتھ ہوگا۔

آخر میں اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا برتاؤ کیا ہونا چاہیے، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔

گذشتہ سورت:
اللیل
سورت 93 اگلی سورت:
الم نشرح
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس


یعنی آخرت دنیا سے بہتر کیونکہ وہاں آپ کے لئے مقامِ محمود و حوضِ مورود و خیرِ موعود اور تمام انبیاء و رُسل پر تقدم اور آپ کی امّت کا تمام امّتوں پر گواہ ہونا اور آپ کی شفاعت سے مومنین کے مرتبے اور درجے بلند ہونا اور بے انتہا عزّتیں اور کرامتیں ہیں جو بیان میں نہیں آتیں ۔ اور مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی بھی بیان فرمائے ہیں کہ آنے والے احوال آپ کے لئے گذشتہ سے بہتر و برتر ہیں گویا کہ حق تعالٰی کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزّت پر عزّت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اور ساعت بساعت آپ کے مراتب ترقیوں میں رہیں گے ۔