القزوینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ان کا نام “ابو عبد اللہ بن زکریا بن محمد القزوینی” ہے، ان کا نسب عالمِ مدینہ حضرت امام مالک بن انس رحمہ اللہ علیہ پر جاکر ختم ہوتا ہے، قزوین میں کوئی 605 ہجری کو پیدا ہوئے اور 682 ہجری کو وفات پائی، کچھ عرصہ قاضی رہے، مگر علمی تصنیف وتالیف جاری رکھی، وہ فلکیات دان، طبیعیات دان، اور علومِ حیات کے ماہر تھے، مگر ہوائی رصد میں ان کے نظریات عظیم الشان ہیں، ان کی اہم تصانیف میں ان کی مشہور کتاب “عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات” ہے، اس میں انہوں نے آسمان اور اس کے ستارے، اجرام، بروج، ان کی ظاہری حرکت اور اس سب کی وجہ سے سال کے موسموں کے اختلاف پر بحث کی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے ہوائی کرہ، ہواؤں کے چکر، سمندر اور اس کے جاندار، پھر خشکی اور اس میں موجود جمادات، نباتات اور حیوانات پر بھی بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے اور اس سب کو انہوں نے بہت دقیق ابجدی ترتیب دی ہے.

ان کی ایک اور مشہور کتاب “آثار البلاد واخبار العباد” ہے، اس میں انہوں نے شہر اور گاؤں بنانے کی ضروت، ملکوں کے خواص، اور موسم کا انسانوں، درختوں اور جانوروں پر اثر بیان کیا ہے، کتاب میں قوموں کی خبریں، علماء، ادباء اور شاہوں کے تراجم اور فسادات کا بیان بھی قابلِ ذکر ہے.

انہوں نے قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق زمین وآسمان پر اللہ تعالٰی کی آیات پر غور وفکر پر زور دیا، یہاں غور وفکر سے ان کی مراد معقولات پر فکر اور محسوسات پر نظر اور ان کی حکمت کی تلاش ہے.