المؤمنون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
المؤمنون
المؤمنون
دور نزول مکی
عددِ سورت 23
عددِ پارہ 18
اعداد و شمار
رکوع 6
تعداد الآیات 118
الفاظ 1,051
حروف 4,354

قرآن مجید کی 23 ویں سورت جو 18 ویں پارے کے آغاز سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے مکی دور میں نازل ہوئی۔ اس میں 118 آیات اور 6 رکوع ہیں۔

نام[ترمیم]

پہلی ہی "آیت قد افلع المؤمنون" سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

اندازِ بیاں اور مضامین، دونوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا زمانۂ نزول مکے کا دور متوسط ہے۔ پس منظر میں صاف محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور کفار کے درمیان سخت کشمکش برپا ہے، لیکن ابھی کفار کے ظلم و ستم نے پورا زور نہیں پکڑا ہے۔ آیت 75 اور 76 سے صاف طور پر یہ شہادت ملتی ہے کہ یہ مکے کے اس قحط کی شدت کے زمانے میں نازل ہوئی ہے جو معتبر روایات کی رو سے اسی دورِ متوسط میں برپا ہوا تھا۔ عروہ بن زبیر کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت عمر ایمان لا چکے تھے۔ وہ عبدالرحمٰن بن عبدالقادری کے حوالے سے حضرت عمر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ یہ سورت ان کے سامنے نازل ہوئی ہے۔ وہ خود نزولِ وحی کی کیفیت کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر طاری ہوتے دیکھ رہے تھے اور جب حضور اس سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ مجھ پر اس وقت دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ اگر کوئی ان کے معیار پر پورا اتر جائے تو یقیناً جنت میں جائے گا، پھر آپ نے اس سورت کی ابتدائی آیات سنائیں۔ [1]

موضوع و مباحث[ترمیم]

اتباعِ رسول کی دعوت اس سورت کا مرکزی مضمون ہے اور پوری تقریر اسی مرکز کے گرد گھومتی ہے۔

آغازِ کلام اس طرح ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اس پیغمبر کی بات مان لی ہے، ان کے اندر یہ اور یہ اوصاف پیدا ہورہے ہیں اور یقیناً ایسے ہی لوگ دنیا و آخرت میں فلاح کے مستحق ہیں۔

اس کے بعد انسان کی پیدائش، آسمان و زمین کی پیدائش، نباتات و حیوانات کی پیدائش اور دوسرے آثارِ کائنات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جس سے مقصود یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ توحید اور معاد کی جن حقیقتوں کو ماننے کے لیے پیغمبر تم سے کہتا ہے ان کے بر حق ہونے پر تمہارا اپنا وجود اور یہ پورا نظامِ عالم گواہ ہے۔

پھر انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کے قصے شروع کیے گئے ہیں، جو بظاہر تو قصے نظر آتے ہیں لیکن دراصل اس پیرائے میں چند باتیں سامعین کو سمجھائی گئی ہیں:

اول یہ کہ آج تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت پر جو شبہات و اعتراضات وارد کررہے ہیں وہ کچھ نئے نہیں ہیں۔ پہلے بھی جو انبیاء دنیا میں آئے تھے جن کو تم خود فرستادۂ الٰہی مانتے ہو، ان سب پر ان کے زمانے کے جاہلوں نے یہی اعتراضات کیے تھے۔ اب دیکھ لو کہ تاریخ کا سبق کیا بتا رہا ہے۔ اعتراضات کرنے والے حق پر ہیں یا انبیاء؟

دوم یہ کہ توحید و آخرت کے متعلق جو تعلیم محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دے رہے ہیں یہی تعلیم ہر زمانے کے انبیاء نے دی ہے۔ اُس سے مختلف کوئی نرالی چیز آج نہیں پیش کی جارہی ہے جو کبھی دنیا نے نہ سنی ہو۔

سوم یہ کہ جن قوموں نے انبیاء کی بات سن کر نہ دی اور ان کی مخالفت پر اصرار کیا وہ آخر کار تباہ ہو کر رہیں۔

چہارم یہ کہ خدا کی طرف سے ہر زمانے میں ایک ہی دین آتا رہا ہے اور تمام انبیاء ایک ہی امت کے لوگ تھے۔ اُس دین واحد کے سوا جو محتلف مذاہب تم لوگ دنیا میں دیکھ رہے ہو یہ سب لوگوں کے طبع زاد ہیں< ان میں سے کوئی بھ من جانب اللہ نہیں ہے۔

ان قصوں کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ دنیوی خوشحالی، مال و دولت، آل و اولاد، حشم و خدم، قوت و اقتدار وہ چیزیں نہیں ہیں جو کسی شخص یا گروہ کے راہِ راست پر ہونے کی یقینی علامت ہوں اور اس بات کی دلیل قرار دی جائیں کہ خدا اس پر مہربان ہے اور اس کا رویہ خدا کو محبوب ہے۔ اسی طرح کسی کا غریب اورخستہ حال ہونا بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ خدا اس سے اور اس کے رویے سے ناراض ہے۔ اصل چیز جس پر خدا کے ہاں محبوب یا مغضوب ہونے کا مدار ہے وہ آدمی کا ایمان اور اس کی خدا ترسی و راستبازی ہے۔ یہ باتیں اس لیے ارشاد ہوئی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے مقابلے میں اس وقت جو مزاحمت ہورہی تھی اس کے علم بردار سب کے سب مکے کے شیوخ اور بڑے بڑے سردار تھے۔ وہ اپنی جگہ خود بھی یہ گھمنڈ رکھتے تھے، اور ان کے زیر اثر لوگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ نعمتوں کی بارش جن لوگوں پر ہورہی ہے اور جو بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں ان پر ضرور خدا اور دیوتاؤں کا کرم ہے۔ رہیے یہ ٹوٹے مارے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہیں اِن کی اپنی حالت خود یہ بتا رہی ہے کہ خدا ان کے ساتھ نہيں ہے۔

اس کے بعد اہل مکہ کو مختلف پہلوؤں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت پر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ قحط جو تم پر نازل ہوا ہے، یہ ایک تنبیہ ہے، بہتر ہے کہ اس کو دیکھ کر سنبھلو اور راہِ راست پر آجاؤ۔ ورنہ اس کے بعد سخت تر سزا آئے گی جس پر بلبلا اٹھو گے۔

پھر ان کو از سرنو ان آثار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو کائنات میں اور خود ان کے اپنے وجود میں موجود ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ آنکھیں کھول کر دیکھو، جس توحید اور جس حیات بعد الموت کی حقیقت سے یہ پیغمبر تم کو آگاہ کررہا ہے، کیا ہر طرف اس کی شہادت دینے والے آثار پھیلے ہوئے نہیں ہیں؟ کیا تمہاری عقل اور فطرت اس کی صحت و صداقت پر گواہی نہیں دیتی؟

پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ خواہ یہ لوگ تمہارے مقابلے پر کیسا ہی برا رویہ اختیار کریں، تم بھلے طریقوں ہی سے مدافعت کرنا۔ شیطان کبھی تم کو جوش میں لا کر برائی کا جواب برائی سے دینے پر آمادہ نہ کر پائے۔

خاتمۂ کلام پر مخالفین حق کو آخرت کی باز پرس سے ڈرایا گیا ہے اور انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو کچھ تم دعوتِ حق اور اس کے پیروؤں کے ساتھ کررہے ہو اس کا سخت حساب تم سے لیا جائے گا۔

گذشتہ سورت:
الحج
سورت 23 اگلی سورت:
النور
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ترمذی، نسائی، حاکم