المجریطی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

المجریطی کا نام “ابو القاسم سلمہ بن احمد” ہے، اندلس کے شہر مجریط (مدرید) میں 340 ہجری کو پیدا ہوئے اور اسی سے منسوب ہوکر “المجریطی” کہلائے، ریاضی دان تھے اور اندلس میں ریاضی دانوں کے امام کہلاتے تھے، علمِ فلک پر بھی ان کے مواقف اور آراء ہیں، کیمیا اور دیگر علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے.

انہوں نے ریاضی، حساب، ہندسہ اور کیمیا پر بیش قیمت علمی تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں: کیمیا میں “رتبہ الحکم”، کیمیا میں ہی “غایہ الحکیم”، یہ کتابین لاطینی زبان میں ترجمہ ہوچکی ہیں.

انہوں نے خوارزمی کے زیچ میں اضافے کیے، ان کا آلاتِ رصد اور اسطرلاب پر ایک مقالہ بھی قابلِ ذکر ہے، اس کے علاوہ انہوں نے قدیم قوموں کی تاریخ پر بھی دلچسبی لی، آخر میں یہ بتاتے چلیں کہ مجریطی ایک ایسے علمی مدرسہ کے بانی تھے جس کی فکر اور رائے سے بعد کے بہت سارے سائنسدان متاثر ہوئے جیسے مشہور اندلسی طبیب الزہراوی، الغرناطی، الکرمانی اور ابن خلدون جنہوں نے مجریطی کی بہت ساری آراء اپنے مقدمہ میں نقل کی ہیں.

57 سال کی عمر میں ان کی وفات 397 ہجری کو ہوئی.