المطففین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
المطففین
الانفطار المطففین الانشقاق
Sura83.pdf
دور نزول مکی
عددِ سورت 83
اعداد و شمار
تعداد الآیات 36
الفاظ 169
حروف 740

قرآن مجید کی 83 ویں سورت جس میں 36 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

پہلی ہی آیت ویل للمطففین سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

اس کے انداز بیاں اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہو رہی تھیں، اور اس کا نزول اس زمانے میں ہوا ہے جب اہل مکہ نے سڑکوں پر، بازاروں میں اور مجلسوں میں مسلمانوں پر آوازے کسنے اور ان کی توہین و تذلیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، مگر ظلم و ستم اور مار پیٹ کا دور ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سورت کو مدنی قرار دیا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کام مرض بری طرح پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالٰی نے ویل للمطففین نازل کی اور لوگ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے (نسائی، ابن ماجہ، ابن مردویہ، ابن جریر، بیہقی فی شعب الایمان) لیکن، جیسا کہ سورۂ دہر میں بیان کیا جا چکا ہے، صحابہ اور تابعین کا عام طریقہ یہ تھا کہ ایک آیت جس معاملے پر چسپاں ہوتی ہے اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں معاملے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے ابن عباس کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بری عادت پھیلی ہوئي پائی تو اللہ تعالٰی کے حکم سے آپ نے یہ سورت ان کو سنائی اور اس سے ان کے معاملات درست ہو گئے۔

موضوع اور مضامین[ترمیم]

اس کا موضوع بھی آخرت ہے۔

پہلی چھ آیتوں میں اس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ گھاٹا دیتے تھے۔ معاشرے کی بے شمار خرابیوں میں سے اس ایک خرابی کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا، بطورِ مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راست بازی اختیار کر سکیں۔ کوئی شخص دیانت داری کو "اچھی پالیسی" سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بے ایمانی ایک "مفید پالیسی" ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں دیانت ایک "پالیسی" نہیں بلکہ "فریضہ" قرار پاتی ہے اور آدمی کے اس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا۔

اس طرح اخلاق کے ساتھ عقیدۂ آخرت کا تعلق نہایت موثر اور دل نشین طریقہ سے واضح کرنے کے بعد آیت 7 سے 17 تک بتایا گیا ہے کہ بدکار لوگوں کے نامۂ اعمال پہلے ہی جرائم پیشہ لوگوں کے رجسٹر (black list) میں درج ہو رہے ہیں اور آخرت میں ان کو سخت تباہی سے دوچار ہونا ہے۔ پھر آیت 18 سے 28 تک نیک لوگوں کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے بلند پایہ لوگوں کے رجسٹر میں درج ہو رہے ہیں جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں۔

آخر میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کفار کو خبردار بھی کیا گیا ہے کہ آج جو لوگ ایمان لانے والوں کی تذلیل کر رہے ہیں، قیامت کے روز یہی مجرم لوگ اپنی اِس روش کا بہت برا انجام دیکھیں گے اور یہی ایمان لانے والے ان مجرموں کا برا انجام دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔

گذشتہ سورت:
الانفطار
سورت 83 اگلی سورت:
الانشقاق
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس