المعارج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
المعارج
المعارج
دور نزول مکی
عددِ سورت 70
عددِ پارہ 29
اعداد و شمار
رکوع 2
تعداد آیات 44

قرآن مجید کی 70 ویں سورت جس کے 2 رکوع میں 44 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

تیسری آیت کے لفظ ذی المعارج سے ماحوذ ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

اس کے مضامین شہادت دیتے ہیں کہ اس کا نزول بھی قریب قریب انہی حالات میں ہوا ہے جس میں سورۂ الحاقہ نازل ہوئی تھی۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس میں ان کفار کو تنبیہ اور نصیحت کی گئی ہے جو قیامت اور آخرت اور دوزخ اور جنت کی خبروں کا مذاق اڑاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چیلنج دیتے تھے کہ اگر تم سچے ہو اور تمہیں جھٹلا کر ہم عذاب جہنم کے مستحق ہو چکے ہیں تو لے آؤ وہ قیامت جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اس سورت کی ساری تقریر اسی چیلنج کے جواب میں ہے۔

ابتدا میں ارشاد ہوا ہے کہ مانگنے والا عذاب مانگتا ہے۔ وہ عذاب انکار کرنے والوں پر ضرورت واقع ہو کر رہے گا اور جب وہ واقع ہوگا تو اسے کوئی دفع نہ کر سکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر واقع ہوگا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے مذاق اڑانے پر صبر کرو۔ یہ اسے دور دیکھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

پھر بتایا گیا ہے کہ قیامت، جس کے جلدی لے آنے کا مطالبہ یہ لوگ ہنسی اور کھیل کے طور پر کر رہے ہیں کیسی سخت چیز ہے اور جب وہ آئے گی تو ان مجرمین کا کیسا برا حشر ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے بیوی بچوں، اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں تک کو فدیہ میں دے ڈالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے تاکہ کسی طرح عذاب سے بچ نکلیں، مگر نہ بچ سکیں گے۔

اس کے بعد لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اس روز انسانوں کی قسمت کا فیصلہ سراسر ان کے عقیدے اور اخلاق و اعمال کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں حق سے منہ موڑا ہے اور مال سمیٹ سمیٹ کر اور سینت سینت کر رکھا ہے وہ جہنم کے مستحق ہوں گے۔ اور جنہوں نے یہاں خدا کے عذاب کا خوف کیا ہے، آخرت کو مانا ہے، نماز کی پابندی کی ہے، اپنے مال سے خدا کے محتاج بندوں ک حق ادا کیا ہے، بدکاریوں سے دامن پاک رکھا ہے، امانت میں خیانت نہیں کی ہے، عہد و پیمان اور قول و قرار کا پاس کیا ہے اور گواہی میں راست بازی پر قائم رہے ہیں وہ جنت میں عزت کی جگہ پائیں گے۔

آخر میں مکہ کے ان کفار کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر آپ کا مذاق اڑانے کے لیے چاروں طرف سے ٹوٹے پڑتے تھے، خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تم نہ مانو گے تو اللہ تعالٰی تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تلقین کی گئی ہے کہ ان کے تمسخر کی پروا نہ کریں، یہ اگر قیامت ہی کی ذلت دیکھنے پر مُصِر ہیں تو انہیں اپنے بیہودہ مشغلوں میں پڑا رہنے دیں، اپنا برا انجام یہ خود دیکھ لیں گے۔

گذشتہ سورت:
الحاقہ
سورت 70 اگلی سورت:
نوح
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس