الہ آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ایک قدیم شہر ہے۔ گنگا و جمنا کے سنگم پر آباد ہے۔ تجارتی مرکز ، ہندوؤں کا مقدس مقام اور ریلوے کا بہت بڑا جنکشن ہے۔ مسلمانوں کے دور حکومت سے قبل اس کا نام پراگ تھا۔ اکبر کا ایوان، جامع مسجد ، اشوک کی لاٹھ ، زمین دوز قلعہ اور خسرو باغ قابل دید تاریخ عمارات ہیں۔ 1857ء میں جنگ آزادی کے دوران یہاں انگریزوں اور حریت پسندوں میں زبردست لڑائی ہوئی۔۔ 1861ء میں انگریزوں کی عملداری میں آیا۔

تعلیمی اور سماجی اہمیت[ترمیم]

الٰہ آباد کو قدیم دور سے ہی تعلیمی اور سماجی اہمیت حاصل رہی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہ شہر بےحد اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ یہ بات شہرۂ عام ہے کہ اس شہر میں آکر تعلیم حاصل کرنے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت سے نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی بھارت کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے جسے 1887ء میں انگریزی سرکار نے شروع کیا تھا۔ یہاں ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، پارسی ، جین اور بودھ مذہب کے ماننے والے امن و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں ۔

اردو بولنے والے[ترمیم]

الٰہ آباد کی مرکزی زبانیں اردو ، اودھی، ہندی ، انگریزی ، بنگالی اور پنجابی ہیں۔ اردو لکھنے اور بولنے والی آبادی آٹھ لاکھ سے متجاوز ہے۔ یہاں اردو کی تعلیم کے لئے چھوٹے بڑے سینکڑوں مدارس اور کالج موجود ہیں۔

اردو شخصیات[ترمیم]

الٰہ آباد نے اکبر الہ آبادی جیسا طنزومزاح کا شاعر اقامِ عالم کو دیا ہے۔ مشہور شاعر 'نوح ناروی' اسی سرزمین سے وابستہ رہے جو لفظوں کے جادوگر مانے جاتے ہیں۔ بعد کے دور میں فراق گورکھپوری ، شبنم نقوی ، راز الہ آبادی ، عتیق الہ آبادی وغیرہ نے اردو زبان کو پروان چڑھایا۔ گیان پیٹھ انعام یافتہ فراق گورکھپوری کا منظوم مجموعہ گل نغمہ یہیں رہ کر لکھا گیا۔