امام ابن تیمیہ

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

پیدائش؛ 1263ء وفات؛ 1328ء

فقیہہ ، مجدد، تقی الدین ابوالعباس احمد بن الحکیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن محمد بن الحرانی الحنبلی، ساتویں پشت میں ان کی ایک دادی تیمیہ علم و فضل میں صاحب کمال تھیں۔ اس لیےاس خاندان کا ہر شخص ابنِ تیمیہ کیے نام سے مشہور ہوا۔ امام ابن تیمیہ بمقام حران میں پیدا ہوئے۔ یہ موصل اور شام کے درمیان چھوٹا سا شہر ہے جو آج کل جنوب مشرقی ترکی کا علاقہ ہے۔ بیس سال کی عمر میں تحصیل علوم سے فارغ ہو کر علمائے کبار میں شمارہونے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام میں متعدد فرقے پیدا ہوچکے تھے۔ اور مسلمان رسوم پرستی ، قبر پرستی ، پیر پرستی وغیرہ بدعات کا شکار ہوگئے تھے۔ امام صاحب نے ان تمام باطل عقائد کے خلاف زبان اور قلم سے جہاد کیا۔ مخالفین نے آپ کو بہت اذیتیں دیں ۔ 1305ء میں سلطان مصر کے حکم سے گرفتار کر لیے گئے مگر تصنیف و تالیف کا سلسلہ یہاں بھی جاری رہا۔ دو سال بعد رہا ہوئے مگر 1325ء میں دوبارہ قید کر دیے گئے اور قید خانے ہی میں وفات پائی، تفسیر ، حدیث ، فقہ ، نحو ، لغت ، ہیئت ، جبرومقابلہ ، ریاضی ، علوم عقلی و نقلی ، اور علوم اہل کتاب کے فاضل تھے۔ تصانیف تین سو کے قریب ہیں۔ سلفی مسلک میں انہیں بہت درجہ حاصل ہے۔ بنیادی طور پر آپ امام احمد بن حنبل کے پیروکار تھے۔

فہرست

[ترمیم] تصانیف کی تعداد میں اختلاف

امام ابن تیمیہ کی تصانیف کس قدر ہیں اور ان میں سے کتنی ہم تک پہنچی ہیں اس میں اختلاف ہے۔ ان کے نام کیا تھے اور ان میں کیا تبدیلیاں واقع ہوئیں ان سوالوں کے جواب بوجوہ مشکل ہیں۔ امام کے کاتب اور کتب کے جامع عبداللہ بن رشیق 479ھ لکھتے کہ جیل خانہ میں جب امام کی تصانیف ضبط کی گئیں تو چودہ گھٹریاں نکلیں۔ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ جیل میں روزانہ اس قدر لکھ جاتے کہ ایک کاتب دن بھر میں اسے نقل نہیں کرسکتا تھا۔ ابو حفص عمر البزار779ھ کہتا ہے کہ امام کی تصانیف کو شمار کرنا مشکل ہے، میں جہاں بھی گیا آپ کی کتب دیکھنے میں آئیں۔ عبدالہادی بن قدامہ 744ھ کہتے ہیں کہ متفقرین و متاخرین میں سے کسی نے بھی اتنی کتب نہیں لکھیں پھر لطف یہ کہ ان میں سے بیشتر جیل میں لکھیں جہاں ان کے پاس کوئی امدادی کتاب بھی موجود نہ تھی۔ برزالی تصانیف کی تعداد تین سو بتاتے ہیں۔ (معجم الشیوخ) ابو الوفا ابراہیم بن محمد بن الخلیل کے مطابق امام کی تصانیف ان کی زندگی ہی میں پانچ سو تک پہنچ گئی تھی۔ (الروص 97)۔ حافظ ذہبی کے مطابق تصانیف چار ہزار یا اس سے بھی زائد ہیں۔ (الروص 117) حافظ ذہبنی ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ تصانیف کو جب میں نے جمع کیا تو تعاداد ایک ہزار نکلیں۔

[ترمیم] اختلاف کی وجہ

تصانیف کی تعداد میں اختلاف کی وجہ غالباً یہ رہی کہ اول خود امام ابن تیمیہ اپنی تصانیف کی جمع و ترتیب پر کبھی متوجہ نہیں ہوئے۔ دوم ان کی اکثر تصانیف کی حیثیت زیادہ تر فتاویٰ کی تھی۔ جب کوئی سائل مسئلہ پوچھنے آتا امام فتوٰی لکھ کر اس کے حوالے کردیتے یوں ان کی تحریریں جابجا بکھر گئیں۔ شاگرد اور دیگر نے بھر پور کوشش کے باوجود تمام تصانیف جمع نہیں کرسکے۔ جیسا کہ حافظ ذہبی پہلے لکھتے ہیں کہ انہوں چار ہزار تصانیف دیکھیں مگر بعد ازاں تصانیف جمع کرنے کے عمل کے دوران حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ یہ تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی مگر اس کے باوجود مزید تصانیف ان کی نظر سے گزریں۔

[ترمیم] ابن تیمیہ کے بارے میں علماء کی آرا

ابن تیمیہ اپنی علمیت، ذہانت، جہاد، اجتہاد، تقوٰی اور تدریس و تحریر کی بدولت دنیائے اسلام کی عظیم ترین ہستیوں میں شمار ہوتے تھے۔ چند روایت پسند معاصرین کے علاوہ باقی کچھ علماء آپ کے مداح تھے مگر کچھ نے مخالفت بھی کی۔ ان علماء میں سے چند کے نام اور آپ کے بارے میں خیالات درج ذیل ہیں۔

[ترمیم] شمس الدین ابو عبداللہ کی رائے

شمس الدین ابو عبداللہ محمد 744-706ھ نے امام پر لکھی گئی اپنی کتاب میں امام کو کچھ یوں خراج تحسین کیا ہے۔ وہ اماموں کا امام، امت کا مفتی، علوم کا سمندر اور حفاظ کا سردار تھا

[ترمیم] ذہبی شمس الدین کی رائے

ذہبی شمس الدین 784-673ھ جو کہ ابن تیمیہ کے شاگرد تھے اپنی تصانیف میں امام کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں۔ آپ شیخ الاسلام، مختلف مذاہب (فقہ) کے مفتی، امت کے امام، نادرہ روزگار اور علوم کے سمندر تھے۔

[ترمیم] تاج الدین ابو عبداللہ کی رائے

تاج الدین ابو عبداللہ 754ھ امام کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ امام ابن تیمیہ عالم ربانی، حکیم نورانی، آثار انبیاء کے مظہر اور حقائق دین کے کاشف تھے۔

[ترمیم] ابوالبقا محمد

اپنے دور کے معروف مصلح ابو البقا محمد 777-707ھ ابن تیمیہ کے متعلق کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ سے ایک جاہل یا بندہ ہوس ہی بغض رکھ سکتا ہے۔ جاہل کو کیا معلوم کہ ابن تیمیا کیا کہتا ہے۔ رہا ہوس پرست اسے اس کی خواہشات سچائی سے روکتی ہیں حالانکہ اسے سچائی کا علم ہوتا ہے۔

[ترمیم] ابن حجر مکی

علامہ شہاب الدین بن حجر مکی نے ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا کہ ابن تیمیہ کا عقیدہ ہے کہ انبیاء معصوم نہیں ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کی نیت سے جانا گناہ ہے۔[1]

[ترمیم] تصوف

تصوف کا مقصد اللہ کی عبادت سے روح کی تمام تر آلائشوں کو دھونا ہے اور یہ ایک اچھی چیز ہے لیکن آج کی طرح ابن تیمیہ کے زمانے میں بھی کچھ معیوب چیزیں تصوف میں راہ پاگئی تھیں۔ صوفیا کا ایک طبقہ صوم و صلٰوۃ اور دیگر ارکان شریعت کو غیر ضروری سمجھتا تھا۔ ایک اور طبقہ کرامات کی نمائش کو مقصد عبادت ٹہراتا تھا۔ ان صوفی حضرات مین سے کچھ ایسے بھی تھے جو رہبانوں کی طرح نفس کشی کو ذریعہ معرفت سمجھتے تھے۔ ابن عربی 638ھ کے پیرو وحدت الوجود کےقائل تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کائنات میں صرف ایک ہستی (خدا) کا وجود ہے اور یہ حیوانات ، نباتات اور جمادات وغیرہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ چونکہ امام کے نزدیک رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ اجمعین کا راستہ ہی صحیح راستہ تھا اس لیے آپ نے صوفیا کے تمام گروہوں پر تنقید کی۔ [سوانح ابن تیمیہ۔ غلام جیلانی برق]۔

[ترمیم] نظریہ وحدت الوجود پر تنقید

ابن تیمیہ وحدت الوجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کا استدلال کا تھا کہ یہ نت نئی چیزیں ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ رضوان اللہ کے دور میں نہ تھیں۔ لہٰذا پیروان ابن عربی کے متعلق ایک جگہ پر فرمایا۔

ان لوگوں کے عقائد اس بنیاد پر قائم ہیں کہ تمام مخلوقات عالم جن میں شیطان، کافر، فاسق، کتا، سور وغیرہ خدا کا عین ہیں۔ یہ سب چیزیں مخلوق ہونے کے باوجود ذات خدا وندی سے متحد ہیں اور یہ کثرت جو نظر آرہی ہے فریب نظر ہے۔ (رسالہ حقیقتہ مذہب الاتحادین۔ ص 160)

اسی رسالے میں ابن عربی کا ایک شعر نقل کیا ہے

الرب حق“ و العبد حق“

یا لیتَ شعری مَن المکلف“

جس کا ترجمہ ہے کہ رب بھی خدا ہے اور انسان بھی خدا ہے۔ کاش! مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ان میں سے مکلف (یعنی دوسرے کو احکام کی پابندی کا حکم دینے والا) کون ہے۔

[ترمیم] فقہ اور ابن تیمیہ

فقہ میں ابن تیمیہ کا راستہ دیگر علماء سے جدا تھا۔ علماء کی عظیم اکثریت ہر معاملہ میں اپنے امام کا قول تلاش کرتی ہے مگر ابن تیمیہ سب سے پہلے قرآن کریم کو دیکھتے پھر حدیث سے رہنمائی لیتے پھر ان کے بعد آئمہ کی باری آتی۔ اگرچہ کی امام خود شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرح حنبلی تھے مگر وہ اقوال آئمہ میں صرف انہی کو ترجیح دیتے جو انہیں قرآن و حدیث سے قریب تر معلوم ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مفتی اپنے مسلک کے امام کے خلاف قرآن و حدیث کو ترجیح دیتا ہے تو وہ دراصل اپنے ہی امام کی پیروی کرتا ہے چونکہ ہر اک امام نے کہا تھا کہ جب کسی کو کوئی صحیح حدیث مل جائے وہ ہمارے فیصلے مسترد کردے۔ (اعلام الموقعین۔ جلد4۔ صفحہ 207)

[ترمیم] اجتہاد

امام ابن تیمیہ کی فقہی آراء چار قسم کی ہیں۔

  • ایک وہ آراء ہیں جو کہ امام حنبل کے فیصلوں کے مطابق ہیں۔
  • دوم وہ جو تمام یعنی چاروں فقہ کے مطابق ہیں۔
  • سوم وہ جو دیگر فقہ کے مطابق تو نہیں مگر قرآن و سنت کے مطابق ہیں۔
  • چہارم وہ اجتہاد جو تمام اہلسنت کے خلاف ہیں۔مثال کے طور پر
      • مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی مسجد یا مقبرہ کی جانب سفر جائز نہیں۔
      • زکٰوۃ ماں، باپ، دادا اور اولاد پر خرچ کی جاسکتی ہے۔
      • زکٰوۃ ان ہاشمی یا سیدوں پر خرچ کی جاسکتی ہے جنہیں خمس نہ ملتا ہو۔
      • چونکہ مکہ طاقت سے فتح ہوا تھا لہٰذا مکہ کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد حکومت کی ملکیت ہے اور اسے جسے چاہے فروخت کرنے یا کرائے پر دینے کا اختیار اُسے حاصل ہے۔
      • طلاق کی تین صورتیں ناجائز ہیں۔ (1) زوجہ کو حیض کی حالت میں طلاق دینا (2) ایک ہی وقت تین طلاقیں دینا (3) حیض کے بعد از مباشرت طلاق دینا۔

[ترمیم] امام کے ہاں فنا کے تین درجات

بعض صوفیا کے ہاں اتحاد یا وحدت الوجود سے مراد اللہ کی ذات میں فنا ہوجانا ہے۔ امام کے ہاں فنا کے تین درجات ہیں۔

  • اول۔ مناہی کو ترک کرکے اوامر کی تعمیل میں ڈوب جانا
  • دوم۔ عبادت کرتے کرتے اللہ کی ذات میں فنا ہوجانا
  • سوم۔ اپنے آپ کو عین خداسمجھنا

امام کے ہاں پہلی صورت محمود ہے اور باقی دونوں مذموم ۔ کیونکہ ان کی تائید نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول سے ہوتی ہے اور نہ فعل سے۔

[ترمیم] کتب اردو تراجم کے ساتھ

* الصارم المسئول علی شاتم الرسول (گستاخ رسول کی سزا)

* المنتقی من منہاج السنۃ النبویۃ (شیعت کے رد میں ایک کتاب)

  • خلافۃ الامۃ فی العبادات
  • تفسیر آیۃ الکریمۃ
  • تفسیر سورۃ اخلاص
  • زیارۃ القبور
  • العبودیۃ
  • اصولِ تفسیر
  • منتقی الاخبار
  • الفرقان بین الاولیاء الرحمٰن و اولیاء الشیطان
  • مسئلہ خیر و شر

* العقیدہ الواسطیہ

  • کتاب الوسیلہ
  • گانا بجانا اور اسلام
  • قوالی (سماع و رقص)
  • رسائل امام ابن تیمیہ

* اصحابِ صفہ اور تصوف کی حقیقت

  • مسنون ذکرِ الٰہی
  • مسلمان عورت کا پردہ اور لباس

* صراطِ مستقیم کے تقاضے (اقتضاء الصراط المستقیم)

  • عقیدہ اہل السنۃ و الجماعۃ
  • الکلام الطیب

[ترمیم] تلامذہ

آپ کے مشہور تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں۔


[ترمیم] حوالے

  1. ^ فتاویٰ حدیثیہ از علامہ ابن حجر مکی صفحہ 116






حوالہ: کواکب صفحہ 153 البدایہ۔ ج۔ 14۔ صفحہ 229 الرد معجم الشیوخ الروص 97

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں